خواتین سے اظہار یکجہتی کے لیے مردوں نے بھی حجاب پہننا شروع کردیا

57

تہران۔ ایران بھر میں میں خواتین سے اظہار یکجہتی کے لیے مردوں نے بھی حجاب پہننا شروع کردیا۔ ایران میں 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے، مذہبی پولیس کی جانب سے خواتین پر عوامی مقامات پر اسکاف پہننے کی پابندی عائد ہے اور جو خواتین اس کی پابندی نہیں کرتیں یا حجاب ایسے پہنتی ہیں جس سے ان کے سر کے بال نظر آرہے ہوں، انہیں جرمانہ یا قید کی سزا دی جاتی ہے۔

انڈیپینڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق ایران میں کئی مقامات پر ریاست کی طرف سے ایسے بل بورڈز لگائے گئے ہیں، جن میں بےحجاب خواتین کو خراب اور بے شرم دکھایا گیا ہے، جبکہ خواتین سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ حجاب کی پابندی پر عمل نہ کرکے وہ اپنے آپ کو مردوں کی جانب سے ناپسندیدہ جنسی پیش قدمی کے خطرے میں ڈال رہی ہیں۔

تاہم اب ایرانی خواتین کی جانب سے ملک بھر میں اس جبری حجاب کی پابندی کے خلاف احتجاج کیا جارہا ہے اور چند خواتین نے حجاب کے بغیر عوامی مقامات پر جانے کے لیے احتجاجاً اپنے سر کے بال ہی منڈوا دیئے ہیں۔

خواتین کے اس احتجاج میں مرد بھی پیش پیش ہیں اور گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ایسی کئی تصاویر سامنے آئی ہیں، جن میں حجاب پہنے مردوں نے اپنی اہلیہ یا خاتون رشتہ دار کے ساتھ تصویر کھینچوائی، جبکہ ان تصاویر میں خواتین بے حجاب ہیں۔ ایرانی مردوں کی جانب سے ایسی تصاویر سماجی کارکن اور نیو یارک میں مقیم صحافی مسیح علی نجاد کے مطالبے پر سامنے آئیں، جس میں انہوں نے ایرانی مردوں سے ’جبری حجاب‘ کے خلاف ان کی مہم کی حمایت کا مطالبہ کیا تھا۔

انڈیپینڈنٹ سے بات کرتے ہوئے مسیح علی نجاد نے بتایا کہ انہیں اب تک ایسی 30 تصاویر مل چکی ہیں، جن میں مردوں نے حجاب پہنا ہوا ہے جبکہ خواتین بےحجاب ہیں:۔

 

loading...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *