اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں بریلوی کا حاملہ عورت کو نماز کے بارے سنسنی خیز نصیحت!

raza brelviمیں آٹھ ماہ کی حاملہ ہوں ، عام حالات میں کوشش کرتی ہوں کہ نماز باقاعدگی سے پڑھتی ہوں، لیکن اس حالت میں نماز پڑھنے میں دقت محسوس کرتی ہوں ، میں نے یہی سوال ایک دیوبندی عالم سے پوچھا تھا ، ان کے فتوے پر عمل کرنا ناممکن ہے ، آپ ہی کوئی رہنمائی دیں !
جواب :نماز ایک اہم ترین فریضہ ہے ۔ اس میں علماء نے جو فرما دیا وہی حرف آخر ہے۔ آپ کو میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں بریلوی رحمت اللہ علیہ کا فتویٰ بتاتا ہوں ، ان کے بعد کسی کے بولنے کی کیا مجال ہے ؟
اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت حضرت امام احمد رضا خان بریلوی نے فرمایا:
"نماز سب پر بہرحال فرض ہے، یہاں تک کہ کسی حاملہ عورت کے نصف بچہ پیدا ہو لیا ہو اور نماز کا وقت آ گیا تو بھی نفساء (رخصت) نہیں۔ حکم ہے کہ گڑھا کھودے یا دیگ پر بیٹھے اور اس طرح نماز پڑھے کہ بچے کو تکلیف نہ ہو۔"(ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، حصہ دوم، ص209، فرید بک سٹال لاہو

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *