’پاکستان آخر پاکستان ہی ہے‘!

 

کراچی کی اس جوڑی کو ایسی اننگز کھیلنا ہوگی جس کے ذریعے لٹل ماسٹر کو خراج عقیدت پیش کیا جا سکے

پاکستان کا ایک حصہ گذشتہ روز کراچی میں چل بسا۔ ایک ایسا شخص جس نے اپنے شروع کے دنوں میں اپنے کرکٹ کارناموں کی وجہ سے اس قوم کی تعریف کی اور آخر کار اس دنیا کو چھوڑ کر چلے گئے۔

محمد حنیف نے وہ معیار دیا جس سے تمام اننگز میں استقامت اور عزم کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

ان کی وفات کے ایک دن بعد ہی ان کے شہر سے تعلق رکھنے والے دو کھلاڑیوں کی اننگز میں عزم اور محنت کی جھلک دکھائی دی۔ اسد شفیق جنھوں نے گذشتہ ٹیسٹ میچ کی دونوں اننگز میں صفر پر آؤٹ ہونے کے بعد اوول ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں سنچری سکور کی۔

٭ یونس خان کی سنچری ، پاکستان کا سکور 340 رنز

٭ ’پاکستان کو معجزے کی ضرورت پڑے گی‘

اسد شفیق نے بیٹنگ آرڈر میں تبدیلی کا بہترین فائدہ اٹھایا اور ان تمام غلطیوں کو دور کرنے میں کامیاب رہے جو انھیں پوری سیریز میں تنگ کرتی رہی ہیں۔

لارڈز ٹیسٹ میں بہتر کھیل پیش کرنے کے بعد اگلے دو ٹیسٹ میچوں میں ایسا دکھائی دیا جیسے مخالف ٹیم ان کی تکنیکی خرابی کو ظاہر کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ انھیں اوول ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن جلد ہی اس وقت میدان میں آنا پڑا جب یاسر شاہ آؤٹ ہوگئے۔ اسد سفیق نے اظہر علی کے ساتھ مل کر بہتر بیٹنگ کا مظاہر کیا، اور انگلینڈ کو سخت محنت کرنے پر مجبور کر دیا۔

لیکن پھر اظہر علی اپنی نصف سنچری سے ایک رن کی دوری پر آؤٹ ہوگئے۔ اظہر علی ایجبیسٹن میں سنچری سکور کرنے کے بعد اس اننگز میں بھی کافی پرسکون نظر آئے لیکن ایک بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے۔

ان کے بعد کریز پر یونس خان آئے جن کی آمد اس پوری سیریز میں پریشانی کا باعث رہی ہے، لیکن بیٹنگ میں معمولی سی تبدیلی سے وہ بالکل مختلف بیٹسمین دکھائی دیے۔

یونس خان سوئنگ بولنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی کریز سے باہر کھڑے ہونے کی بجائے پیچھے ہی کھڑے ہو کر گیند کا انتظار کرتے رہے۔ انھوں نے اس اننگز میں اچانک ہی اچھل کر کھیلنا بند کیا اور گیند کو ٹائم کرتے رہے۔

یونس اور اسد شفیق کے لیے اپنے آپ کو ثابت کرنے کا یہ آخری موقع تھا۔ اس سریز میں یونس خان پاکستان کے بہترین بلے باز ہونے کے باوجود تھوڑا پریشان دکھائی دیے اور اسد شفیق محمد حنیف جیسے تکنیکی اعتبار سے صحیح اور تحمل مزاجی کا مظاہرہ نہیں کر پائے۔

یہ کہنا غلط ہوگا کہ ان دونوں میں سے ایک بیٹسمین بھی پوری اننگز کے دوران کنٹرول میں تھے، لیکن پھر بھی انگلینڈ کو ان کی وکٹ حاصل کرنے کے لیے جو روٹ تک سے بولنگ کروانا پڑی۔

اسد سفیق نے اظہر علی کے ساتھ مل کر بہتر بیٹنگ کا مظاہر کیا اور انگلینڈ کو سخت محنت کرنے پر مجبور کر دیا

ظاہر ہے پاکستان نے بطور پاکستان انگلینڈ کو ایک بار پھر میچ میں برابری پر آنے کا موقع فراہم کر دیا۔ پہلے اسد شفیق 99 رنز پر کئی گیندیں کھیلنے کے بعد سنچری بنا کر جلد ہی سٹوارٹ براڈ کو کیچ دے بیٹھے۔ جنھوں نے ان کا انتہائی عمدہ کیچ پکڑا۔

اس کے بعد کپتان مصباح الحق نئی گیند کو سنبھال نہ سکے اور اپنا پہلا میچ کھیلنے والے افتخار احمد انتہائی خراب شاٹ لگا کر کیچ آؤٹ ہوگئے۔

اس طرح اب یونس خان کے ساتھ سرفراز احمد ہی بچے ہیں اور چند رنز کی برتری۔

اگر پاکستان کو یہ میچ جیتنا ہے تو کراچی کی اس جوڑی کو ایسی اننگز کھیلنا ہوگی جس کے ذریعے لٹل ماسٹر کو خراج عقیدت پیش کیا جا سکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *