پاکستان کے بارے میں کچھ مثبت باتیں

Raja Qasim Mehmood

ہم ہمیشہ سے یہ بات تو کرتے ھیں کہ ہم فلاں فلاں جگہ ناکام ھوے ھیں لیکن ہم میں سے بہت کم لوگ پاکستان کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ھیں۔۔ یہ بات ٹھیک ھے کہ پاکستان میں بے شمار مسائل ھیں اور یہ بھی درست کے یہ اپنا اک حسہ بھی کھو چکا ھے مگر اس کے باوجود ہمارے ملک نے کئی شعبوں میں ترقی کی ھے، جب پاک وطن بنا تھا اس وقت پاکستان میں محض چند صنعتوں کے علاوہ کوئی صنعت نیہں تھی آج ملک میں بے شمار صنعتی زون اس بات کا منہ بولتا ثبوت ھیں کہ اس شعبے میں بہتری آئی ھے یہ صنعتیں صرف خاندانی امراء نے نہیں بنائیں بلکہ کئی محنتی اور متوسط گھرانے کے لوگوں نے محنت کر کے بنائی ھیں جس سے کئی گھرانوں کا روزگار وابستہ ھے ۔ ٹھیک ھے کہ ہم تعلیم میں کوئی قابل ذکر کارنامہ انجام نیہں دے سکتے مگر قیام پاکستان کے وقت ھمارے کتنے تعلیمی ادارے تھے اور کیا ان میں اور ان اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والوں میں اضافہ یہ بتا نیہں رہا کہ ہم اسجگہ بھی اتنے ناکام نیہں ہوئےجیسا کہ سمھجا جا رہا ھے ؟؟؟ کیا ہمارا صحت کا شعبہ حکوبتی غفلت کے باوجود ٪90 عوام کی ضرورت پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ھے اور صرف چند امراض کو چھوڑ کر ہر مرض کے علاج کی صلاحیت ہمارے ھسپتالوں میں میسر ھے اور پھر کیا شوکت خانم اور ڈاکٹر ادیب آئے رضوی کے بنائے ھوے ھسپتال جیسے ھسپتالوں کا وجود تو کئی ترقی یافتہ ممالک میں نیہں ھے ۔۔آج ملک کے اکثر حصے میں بجلی ھے جو کہ قیام پاکستان کے وقت نیہں تھی۔۔ہمارا واحد مسلم ایٹمی طاقت ھونا اس شعبے میں باقی ممالک سے آگے ھونے کی دلیل ھے۔پاکستان نے جس طرح سے قلیل وقت میں عسکریت پسندوں کو شکست دی امریکہ اپنے تمام تر اتحادیوں کے ساتھ نیہں دے سکا ۔۔آج اگر ھمارا ملک لیبیاعراق یا افغانستان نیہں بنا تو یہ ہمارے مضبوط دفاع کی بدولت ھے۔۔ہم نے کھیل کے میدان میں بھی اپنی عمدہ کارکردگی دکھائی ہاکی میں ہم گوکہ بلکل کمزور ھو گئے ھیں مگر چار دفعہ ورلڈ کپ جیتنے کا اعزاز ہم سے کوئی نیہں چھین سکتا ھم نے کرکٹ کے میدان میں بھی اپنی کارکردگی دکھائی وسیم اکرم،وقار یونس،عمران خان ، جاوید میانداد،حنیف محمد،ظہیر عباس ،شعیب اختر،ثقلین مشتاق،معید انور ،عبدالقادر اور مشتاق احمد کے ذکر کے بغیر کرکٹ کی تاریخ نامکمل ھے ایسے ہی سکوائش روشن خان ،جہانگیر،اور جانشیرخان کے بغیر،کیا اسنوکر محمد یوسف کا نام اپنے سے نکال سکتا ھے ، پاکستان نے موسیقی کو نصرت فتح علی خان،مہدی حسن،نور جہان اور غلام علی جیسے لوگ دئیے ھیں ہمارا ڈرامے کے بارے میں مشہور تھا کہ اس کے نشر ھونے کے وقت پڑوسی ملک کی سڑکیں سنسان ھو جاتی تھیں اور اردو ادب کو
اشفاق احمد،بانو قدسیہ ،آحمد فراز،فیض،جالب،ناصر کاظمی ،مشتاق احمد یوسفی ،عمیرہ احمد ،واصف علی واصف ،سبط حسن ،ابن انشا اور احمد ندیم قاسمی جیسے لوگ پاکستان نے دیئے ھیں ۔۔ھم نے دین کے کئی جید علماء جیسے کہ پیر کرم شاہ،مولانا مودودی ،امین احسن اصلاحی، علامہ غلام رسول سعیدی،علامہ اشرف سیالوی،عبدالرشید ترابی،مفتی تقی عثمانی ،ادریس کاندھلوی اور ڈاکٹر اسرار احمد بھی دیئے ھیں۔۔یہ تمام لوگ پاکستان کے حوالے سے ہی جانے اور پہچانے جاتے ھیں-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *