ہسپتال یا بوچڑ خانے۔۔۔(دوسرا اور آخری حصہ)

akhter saeed madan

(اس کالم کا پہلا حصہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کیجئے)

ڈاکٹر صاحب خلاف معمول واقعی ایک زندہ دل آدمی تھے۔فرمایا:تو پھر آپ نے شکل کیوں مریضوں جیسی بنائی ہوئی ہے؟میں نے عرض کی :اس کا جواب میں اپنی بیٹی کے سامنے نہیں دے سکتا۔ڈاکٹر صاحب کھل کر ہنسے،پھر استفہامیہ لہجے میں ’جی ‘کہا۔میں بولا:ڈاکٹر صاحب ہم آپ سے رائے لینے آئے ہیں۔کیا مریضہ کا بائی پاس ضروری ہے!ڈاکٹر صاحب نے ایک لمحے کے لئے سوچا ،پھر بولے:نہیں ایسا بھی ضروری نہیں ہے ۔آپ سٹنٹ ڈلوا سکتے ہیں۔ بلکہ ابھی دواؤں پر بھی گزارا ہو سکتا ہے۔
:آر یو شوئر۔۔۔؟میں نے انگریزی جھاڑی کہ کہیں ڈاکٹر مجھ کچا ان پڑھ ہی نہ خیال کرے۔
:یس۔۔ڈاکٹر صاحب نے حتمی لہجے میں کہا۔
:مگر ڈاکٹر صاحب ابھی صبح ہی ہم ایک بڑے ڈاکٹر سے مل کر آ رہے ہیں ۔اُس کا کہنا ہے کہ جتنی جلدی ہو سکے آپریشن کروا لیں ۔مین والو بند ہو چکا ہے ۔دیر نہ کریں،کسی بھی وقت کچھ ہو سکتا ہے۔ڈاکٹر صاحب نے سنجیدگی سے کہا :دیکھئے میں اُس کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا ،مگر میرا علم یہ بتاتا ہے کہ ابھی آپ کی بیوی کو سرجری کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔میں نے کہا:ڈاکٹر صاحب ابھی میں نے جس ڈاکٹر کا ذکر کیا ہے اُس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سرجن تو بہت اچھا ہے بلکہ پاکستان کے چند ٹاپ کے سرجنوں میں اُس کا شمار ہوتا ہے۔لیکن لالچی بہت ہے۔وہ روزانہ تین آپریشن کرتا ہے ۔کوئی پانچ لاکھ سے اوپر اُس کی آمدنی ہے۔آپریشن کے علاوہ سنا ہے وہ عید کے دنوں میں گائے اور بکرے بھی ذبح کرنے کا کام کرتا ہے۔
ڈاکٹر صاحب نے غصے سے مجھے گھورا۔غالباً اپنے ہم پیشہ کے بارے میں اُن کو میری بات گراں گزری تھی۔ میں نے اُن کے بکی کو دی ہوئی فیس کی رسید سامنے کر دی تاکہ وہ دستخط کر دیں۔زیست کے آفس سے میڈیکل کے لئے خرچ کی ہوئی رقم مل جانی تھی ۔ڈاکٹر نے رسید کو الٹ پلٹ کر دیکھااور کہا:میں سی ڈی دیکھنے کی کوئی فیس نہیں لیتا ۔آپ اپنی ادا کی ہوئی رقم لڑکے سے واپس لے لیں۔مجھے عجیب سا لگا۔ممکن ہے ڈاکٹر صاحب نے بُرا ہی محسوس نہ کر لیا ہو۔بہر حال زیست سعید اور میں اپنے کاغذات سمیٹ کر باہر آ گئے۔
جیل روڈ پر لاہور کا ایک بڑا پرائیویٹ ہسپتال ہے ۔دوسرے دن ہم نے اُس ہسپتال کے ہارٹ سپیشلسٹ سے وقت لیا۔ہسپتال میں داخل ہوئے تو اندازہ ہوا ،ہسپتال پر کافی پیسا لگا ہوا ہے۔انتظار گاہ کی کرسیاں بھی کافی خوبصورت تھیں۔مریض بھی خوبصورت تھے۔ڈاکٹر صاحب کے کمپوڈر نے جاتے ہی ہم سے ایک ہزار پانچ سو روپے ہتھیا لئے۔اگرچہ ہمارا نمبر پانچواں تھا،مگر ہماری باری کوئی دس بجے کے قریب آئی ۔کوئی ڈاکٹر صاحب کا رشتہ دار تھا تو کوئی صرف ڈاکٹر صاحب کو ٹیسٹ رپورٹ دکھانے آیا تھا اور آدھا گھنٹہ گپ شپ لگاتا رہا۔درمیانے قد کا ڈاکٹر بہت ایکٹو تھا۔وہ ایک ہی وقت میں کئی کام نمٹا رہا تھا۔ٹیلی فون پر ہسپتال کے مریضوں کے بارے میں ہدایات دے رہا تھا کہ فلاں کو یہ انجکشن لگا دو فلاں کی آکسیجن ہٹا کر فلاں کو لگا دو۔تین نمبر بیڈ کی رپورٹ آ گئی ہے کہ نہیں!ساتھ ساتھ موبائل پر اپنی بیوی سے بات چیت بھی کر رہا تھا۔مثلاً تمہاری سہیلی غزالہ کو تو عادت ہے چغلیاں کھانے کی ۔کیا ۔۔۔کیا کہہ رہی تھی۔بد تمیز ۔۔نان سینس۔۔۔اچھا جان میں ایک پیشنٹ چیک کر لوں ۔ کیا نومی ابھی نہیں آیا گھر میں ۔۔۔اُس سٹوپڈ کا کیا بنے گا!۔۔جی فرمایئے۔۔۔وہ دفعتہ ہم سے مخاطب ہوا۔میں ذہنی طور پر تیار نہیں تھا۔تاہم نے جلدی سے میں نے سی ڈی آگے بڑھا دی۔ڈاکٹر نے سی ڈی کو گھما پھیرا کر دیکھا اور سوالیہ نگاہوں سے میری طرف دیکھا۔میں نے جلدی سے کہا:جی یہ غزالہ کی سی ڈی ہے۔۔۔۔جج ۔۔جی میرا مطلب ہے یہ میری بیوی کی اینجو گرافی کی سی ڈی ہے ۔ڈاکٹر صاحب نے سی ڈی کمپیوٹر میں لگائی ۔ابھی وہ پوری سی ڈی دیکھ نہیں پائے تھے کہ ہسپتال کی وارڈ سے کال آ گئی۔وہ ہم سے معذرت کرتے ہوئے اُٹھ گئے۔اتنے میں اُن کے پی اے نے آ کر اطلاع دی کہ محسن صاحب آئے ہیں۔ڈاکٹر صاحب نے عقبی دروازے سے باہر نکلتے ہوئے۔اپنے پی اے کو ہدایت کی کہ محسن صاحب کو بٹھائے اور دائیں ایڑھی پر گھوم کر باہر نکل گئے۔
ڈاکٹر صاحب کے پی اے نے آتے ہی ہم سے پندرہ سو روپے نہ لے لئے ہوتے تو شائد میں کمپیوٹر سے سی ڈی نکال کر چل دیتا۔شائد کسی دل جلے نے ایسا کیا بھی ہو، اسی لئے تو اُنہوں نے فیس پیشگی لے لی تھی۔ڈاکٹر نے آنے میں کافی دیر کر دی ۔غالباً آپریشن تھیٹر میں کو ئی ٹانکا تروپا اُلٹا سیدھا لگ گیا تھا۔ ڈاکٹر نے آتے ہی ہم سے سوری کیا اور بی پی آپریٹس سنبھالتے ہوئے مجھے اشارہ کیا کہ سٹول پر آ جاؤں۔ میں نے انہیں یاد دلایا کہ آپ سی ڈی دیکھ رہے تھے۔ڈاکٹر نے کمپیوٹر میں سی ڈی کو دوبارہ چلایا۔ایک لمحے بعد اُنہوں نے منہ سسکاری سی بھری اور ناک چڑھا کر آنکھیں سکوڑیں۔جیسے بہت درد محسوس کر رہا ہو۔بولا: دو سٹنٹ ڈالے جا سکتے ہیں۔مگر بہت مشکل سے۔۔۔اگر کوئی ایک ڈیڑھ ماہ اور گزر گیا تو پھر بائی پاس ڈیفی نیٹ ہو گا۔
میں نے پوچھا:کیا آپ سٹنٹ ڈال دیں گے؟ ڈاکٹر نے حیرت سے مجھے دیکھا:ہم بیٹھے کس لئے ہیں!
:کوئی خرچہ وغیرہ۔۔۔میں نے پوچھا ۔ڈاکٹر نے لمبی سانس بھری :دیکھئے اگر آپ امریکہ کے سٹنٹ ڈلواتے ہیں تو دونوں کا خرچہ کوئی ساڑھے چار لاکھ آئے گا۔۔۔ہاں البتہ چائنہ کے سٹنٹ اڑھائی لاکھ میں ڈل جائیں گے۔ایک اور آپشن بھی ہے۔آپ ایک سٹنٹ امریکی ڈلوا لیں اور دوسرا چائنہ کا۔۔۔اس طرح آپ کا خرچہ سوا تین لاکھ روپے آئے گا۔۔۔میرے خیال میں یہ بہترین کمبی نیشن ہے۔
ڈاکٹر صاحب اس کے علاوہ کوئی خرچہ ۔۔؟ڈاکٹر نے مسکرا کر کہا:نہیں یہ ہمارا پورا پیکج ہوتا ہے ۔کوئی اضافی خرچہ نہیں ہوتا۔اس میں تین دن کا ہسپتال کے کمرے کا کرایہ، سارے ٹیسٹ،ڈاکٹر کی فیس وغیرہ سب شامل ہوتے ہیں۔ میں نے پوچھا :ڈاکٹر صاحب یہ امریکی اور چائنی سٹنٹ کا کمبی نیشن خطرناک تو نہیں ہو گا؟میری بات ڈاکٹر کے سر سے گزر گئی۔وہ جلدی سے بولا:نہیں نہیں ۔۔۔کوئی خطر ناک نہیں ہوگا۔بہت سے لوگوں نے ڈلوائے ہیں اور صحیح چل رہے ہیں۔
میں نے ایک اور سوال کیا :ڈاکٹر صاحب ہمیں کیسے پتہ چلے گا کہ آپ نے کون سے ملک کے سٹنٹ ڈالے ہیں !کیا ہم کھول کر چیک کر سکیں گے؟
:چیک ۔۔۔آپ کیسے چیک کر سکتے ہیں؟آپ کو ہم پر اعتبار کرنا پڑے گا۔
:کیا ہم سٹنٹ آٹو مارکیٹ خود خرید سکتے ہیںیاسٹنٹوں کی پیککنگ آپ ہمیں دے دیں گے۔
:اگر آپ کو اپنے ڈاکٹر پر بھروسا نہیں ہے ،تو آپ اُس سے علاج نہ کروائیں۔
ڈاکٹر صاحب ہمیں آپ پر تو سو فی صد اعتبار ہے۔اگر آپ پر بھروسہ نہ ہو تو ہم اپنا قیمتی مریض آپ کے حوالے کیسے کر سکتے ہیں؟ایک آخری بات کیا اس ٹور پیکج میں کچھ رعایت ہو سکتی ہے؟
ڈاکٹر نے سی ڈی نکال کر ہمارے حوالے کی :جب آپ نے حتمی فیصلہ کر لیا تو پھر آ جایئے گا انشااللہ رعایت بھی ہو جائے گی۔لیکن آپ کے پاس وقت کم ہے ایک آدھ دن میں ہی فیصلہ کر لیں ۔باہر سے میرا وز ٹنگ کارڈ لے جائیں ۔میں نے مسکرا کر ڈاکٹر کا شکریہ ادا کیا اور کہا:ڈاکٹر صاحب ایک ہسپتال کے باہر بینر لگا ہوا تھا کہ یہاں سٹنٹ آسان قسطوں پر بھی ڈالے جاتے ہیں۔ایک لمحے کے لئے ڈاکٹر سنجیدگی سے مجھے دیکھتا رہا پھر یکدم اُس کے حلق سے فلک شگاف قہقہہ اُبل پڑا ۔دور تک اُس کے قہقہے کی گونج ہمارا پیچھا کرتی رہی۔
عمومی طور پربائی پاس کے لئے اوپن ہارٹ سرجری کی جاتی ہے۔اس میں پورا سینہ کھول کر دل کو جسم سے الگ کر لیا جاتا ہے ۔جسم کو مشینوں سے زندہ رکھا جاتا ہے اور دل کو رفو کر کے دوبارہ جسم میں فٹ کر دیا جاتا ہے۔لیکن اب ایک نیا جدیدہ طریقہ علاج بھی آ گیا ہے جس میں جسم میں چلتے ہوئے دل کا آپریشن کیا جاتا ہے ۔اس کو بیٹنگ ہارٹ (Beating Heart)سرجری کہا جاتا ہے۔پاکستان اس طریقہ علاج کا ایک ماہر موجود ہے ۔یہ ڈاکٹر صاحب گندے نالے کے اوپر ایک ہسپتال میں آپریشن کرتے ہیں۔پہلے دن جب ہم ان کے پاس پہنچے تو اِنہوں نے یہ کہہ کر ہمیں ٹر خا دیا کہ ہم مریض کو ساتھ لے کر آئیں۔
اگلے دن زیست سعید اورمیں ،بیگم کو لے کر مذکورہ ہسپتال پہنچے ۔ہسپتال کے سامنے سیڑھیاں تھیں ۔ بیگم غصے میں تھیں کہ میں نے اُسے مارنے کا پورا پورا بندو بست کیا ہوا ہے ۔بیگم کو خدشہ تھا کہ سیڑھیاں چڑھتے ہی اُسے ہارٹ اٹیک ہو جانا ہے ۔زیست اور میں نے بڑی مشکل سے اُسے سہارا دے کر سیڑھیاں عبور کروائیں۔ڈاکٹر صاحب نے جلد ہی وقت دے دیا۔حسب معمول انہوں نے سی ڈی لگا کر دیکھی۔بیگم صاحبہ کی طبیعت جانچی ۔پتہ نہیں اُن کے ذہن میں کیا آئی ۔اس سے قبل میں ڈاکٹر صاحب کو کبھی نہیں ملا ۔مجھ سے اس طرح مخاطب ہوئے جیسے ہم پرانے دوست ہوں۔کہنے لگے:آپ کو آپریشن کروانے کا شوق ہے!
میں اُن کی بات سن کر ہکا بکا رہ گیا۔میں نے جرأت سے کہا:ڈاکٹر صاحب کس احمق کو شوق ہے آپریشن کروانے کا۔۔۔!ہمیں تو بتایا گیا ہے کہ اگر چند دن میں آپرشن نہ کروایا تو اس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب مسکرائے:یار مدان صاحب۔۔۔!میں ہارٹ کا سرجن ہوں۔میرے لئے سب سے آسان کام دل کا آپریشن کرنا ہے۔اگر گھر میں میری بیگم مجھے کہے کہ کہ پانی والی ڈونکی خراب ہو گئی ہے تو میرے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں۔لیکن جب مجھے کوئی دل کے آپریشن کا کہتا ہے تو میرے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔میں کہتا ہوں صبح مریض کو ہسپتال لے آنا۔مجھے کچھ تیاری نہیں کرنی پڑتی۔میں آپ کو ابھی آپریشن کا کہوں تو آپ چار پانچ لاکھ روپیہ دینے کو تیار ہوں گے۔مگر میں نے خدا کو جان دینی ہے ۔اُس نے مجھے بہت دیا ہوا ہے۔میری آپ سے درخواست ہے کہ آپ ابھی آپریشن کے بارے میں نہ سوچیں۔یہ جو آپ کو سینے میں درد ہوتا ہے اس کے لئے دوائیاں لیں۔
آپ یقین جانیں مجھ ڈاکٹر صاحب کی بات سن کر بے انتہا خوشی ہوئی ۔میں اینجو گرافی کروانے کے لئے ایک رات ہسپتال میں جس اذیت کا شکار ہوا تھا وہ ناقابل فراموش ہے۔پیسوں کا معاملہ اپنی جگہ پر مگر ہسپتال میں گزرا ہوا ایک ایک لمحہ اور پھر آپریشن کے لئے آٹھ دس بوتل خون کا بندوبست ،میرے جیسے سفید پوش کے لئے ایک سوہان روح سے کیا کم ہو گا۔اگر آپ نہیں سمجھے تو میں بتا دیتا ہوں۔گاؤں کے چوہدری کو خون دینے والے لاکھوں نہیں تو ہزاروں ضرور ہوتے ہوں گے۔مگر گاؤں کے مزاع کے لئے خون دینے والا کون ہو گا؟مزارعہ کے سبھی رشتہ داروں کی طبیعت توپہلے ہی ناساز ہوتی ہے۔میں نے خوشی سے دھڑکتے دل کے ساتھ ڈاکٹر صاحب سے کہا:سر ۔۔۔!آپ پھر کوئی دوا لکھ دیں۔
:دوا کے لئے آپ کو کسی فریشن کے پاس جانا ہو گا۔
مجھے خوشی میں کچھ سمجھ نہیں آئی،میں نے حماقت بھرے لہجے میں پوچھا :سر کسی الیکٹریشن کے پاس۔۔۔؟
ڈاکٹر باقاعدہ ہنس پڑا :مدان صاحب۔۔۔الیکٹریشن نہیں فزیشن۔۔۔!
میں نے حیرت سے ڈاکٹر سے کہا:کیا آپ مجھے جانتے ہیں۔
:ہاں جانتا ہوں ۔۔۔مگر میں نہیں بتاؤں گا ۔کیوں اور کیسے۔یہ سن کر میری بیوی کا جھاکا بھی کھل گیا۔بولی :ڈاکٹر صاحب میری گردن اور کندھوں میں بہت درد ہوتا ہے۔
ڈاکٹر بولا:دیکھو سسٹر ۔۔۔۔مجھے آپ کوئی پڑھی لکھی خاتون لگتی ہیں ۔کندھوں میں ،گردن میں یا گھٹنوں میں دل نہیں ہوتا ۔کندھوں میں درد کے ساتھ دل کا کیا تعلق۔۔۔۔؟ہو سکتا ہے کسی الماری میں اونچی جگہ کوئی وزنی چیز رکھتے ہوئے آپ کے کندھوں کا مسل پُل پو گیا ہو۔اگر آپ نے دل کے درد کے بارے میں اگاہی حاصل کرنی ہے تو آپ اپنے گھر کی سیڑھیاں تیزی کے ساتھ بھاگ کر چڑھیں،پھر تیزی سے اتریں اور دوباہ چڑھیں ۔آپ کے سینے میں دائیں طرف درد ہو گا۔آپ چند منٹ آرام سے بیٹھ جائیں ۔یہ درد آہستہ آہستہ جاتا رہے گا۔آپ یہ تجربہ متعدد بار کریں تاکہ آپ کو جسمانی درد اور دل کے درد کا فرق معلوم ہو جائے۔
:مگر ڈاکٹر صاحب آپ مجھے مارنا چاہتے ہیں جو ایک دل کی مریضہ کو بھاگ کر سڑھیاں چڑھنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔
؛دیکھو سسٹر ۔۔۔آپ کی جو موجودہ حالت ہے ۔میں ڈاکٹر ہونے کے ناطے دعویٰ کر سکتا ہوں کہ آپ کی زندگی کو کوئی خطرہ نہیں ہے ۔آخری بات اگر دل کادرد ماہ دو ماہ بعد ہو تو گھبرانا نہیں ہے ۔تاہم اگر یہ درد ہفتے میں دو تین بار حملہ کرے تو خاموشی سے چلے آنا ۔پھر میں اس کا مکو ٹھپ لوں گا،میں بتا چکا ہوں کہ ڈونکی پمپ مرمت کروانا میرے لئے مشکل ہے اور ہارٹ سرجری میرے لئے آسان ہے۔
وہ دن میری زندگی کے خوشگوار دنوں میں سے ایک تھا۔میں بیگم کو ڈاکٹر کے کمرے سے باہر لے کر نکلا تو ہسپتال کا اہلکار بھاگ کر آیا :آپریشن کا وقت طے ہو گیا ہے؟
:نہیں ۔۔۔نہیں ۔۔۔!میں نے انبساط سے لہکتی ہوئی آواز میں کہا۔:کیوں ۔وہ کچھ پریشان سا ہوا ۔میں نے بیگم کا بازو زور سے پکڑا اور تیز تیز چلتے ہوئے چلایا:یہ جا کر ڈاکٹر سے پوچھو۔۔۔!ہسپتال کی وہ سیڑھیاں جو زیست اور میں نے سہارا دے کر بیگم کو طے کروائیں تھیں ،اب بیگم کھنچتے ہوئے عبور کروائیں ۔راستے میں ہم نے خود آئس کریم کھائی اور بچوں کے لئے پورے دولیٹر کا ڈبہ لے لیا۔ آج اس واقعہ کو ڈھائی تین سال ہو چکے ہیں ۔بیگم باقاعدہ ہارٹ کی دوائیاں کھاتی ہیں ،مگر الحمدللہ آپریشن کے بغیرچاق چوبند ہیں اور لڑنے بھڑنے کو تیاررہتی ہیں۔۔۔!

loading...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *