ہمارا پاکستان کیسا ہو؟

haq nawaz jilani

پا کستان بھرمیں جشن آزادی ہر سال کی طرح اس سال بھی بھر پور جوش وجذبے سے منائی گئی، گلی گوچوں، بازاروں ، سرکاری اور غیر سرکاری عمارتوں سمیت ہر جگہ سبز ہلالی پرچم نظر آیا،وطن سے محبت کے گیت ہر جگہ سنائی دیے۔ریلیاں ، جلو س نکالے گئے ۔نوجوان ، بچے ، بوڑھے ، خواتین ہرعمر کے طبقے کے لوگوں کے چہروں پر وطن سے محبت اور خوشی محسوس ہورہی تھی۔ عام لوگوں کی وطن سے محبت اور جوش وجذبہ دیکھ کر یہ لگاکہ اس ملک کو کوئی ختم نہیں کرسکتا، دشمن طاقتیں اپنے جالوں میں ناکام ہوں گے ۔ یہ ملک اسی طرح قائم ودائم رہے گا۔اس کو مٹانے اور برباد کرنے والے خود برباد ہوجائیں گے۔یہاں کے لوگ وطن پر جان قربان کرنے کو اپنے لئے اعزاز سمجھتے ہیں(جس کی گواہی ہماری تاریخ دے رہی ہے )اس طر ح سوچ رکھنے والوں کے ملک کو کوئی بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔اللہ تعالیٰ نے اس ملک کو تمام قدرتی وسائل سے مالا مال رکھا ہے۔یہاں کے لوگ محنتی اور جفاکش ہے لیکن اس کے باوجود مسائل اور مشکلات سے دوچار ہے جس کی بنیادی وجہ ملک میں درست نظام کانہ ہونا ہے،یہاں جمہوریت اور آمریت کا کھیل ہر وقت کھیلا جاتا ہے لیکن عام آدمی کی زندگی بہتر نہیں ہوتی جس کی وجہ سے عام آدمی پر یشانیوں اور مسائل سے دوچار رہتا ہے۔عام آدمی کو صحت ، تعلیم ، روزگار سمیت جان ومال کی حفاظت چاہیے لیکن بدقسمتی سے ہماری حکومتیں عوام کو یہ چیزیں مہیا نہیں کرتی جس کی وجہ سے عام آدمی کا حکومت اور اداروں سے اعتبار ختم ہوتا جارہاہے اگر ملک میں چند بنیادی چیز یں درست ہوجائے تو پاکستان کو تر قی یافتہ ملک بنانے سے کوئی نہیں روک سکتا جس میں اول تو ملک میں قانون کی حکمرانی سب کے لئے برابر ہونی چاہیے یہ نہیں ہوسکتا کہ امیر کیلئے ایک قانون اور غریب کیلئے انصاف دوسرا نظام ہو ۔ انصاف کی فراہمی کو آسان بنا نا اور سب کیلئے انصاف ایک جیسا ہونا ملک کو ترقی کی راہ پرڈال سکتا ہے ،جب عام لوگوں کو معلوم ہوکہ تمام فیصلے انصاف سے کیے جارہے ہیں ، انصاف کرنے میں غلطی تو ہوسکتی ہے لیکن کسی کے دباؤ یا پر یشر کے تحت فیصلہ نہیں کیے جاسکتے،تمام پاکستانیوں کو ملک کے انصاف کے نظام پر مکمل بھروسہ قائم ہوجائے ،جس سے تمام ادارے ٹھیک ہوسکتے ہیں۔
اس طرح ملک میں میرٹ کے نظام کوبہتر بنانے کیلئے اقدامات کیے جائیں تاکہ عام آدمی کا اعتبار میرٹ پر قائم ہوجائے اوران کو معلوم ہو کہ میرے ساتھ نا انصافی نہیں ہوئی ہے بلکہ میرے ساتھ میرٹ پر فیصلہ ہوا ہے جس کی وجہ سے اہل لوگ آگے آسکتے ہیں اور نااہل لوگ خود بخود راستے سے ہٹ جائیں گے۔ میرٹ کی بلادستی کو قائم کرنے سے ملک ترقی کرے گا۔ ہر جگہ پر اہل لوگ بیٹھ جائیں گے تو لوگوں کیلئے آسانیاں پیدا ہوگی۔ جب ملک میں میرٹ کا نظام قائم ہوجائے گا ، امیر اور غریب کیلئے انصاف کا نظام ایک ہوجائے گاتومایوسی اور بد اعتمادی خود بخود ختم ہوجائے گی ۔ تیسرا کام ملک کو ترقی یافتہ اور خوشحال بنانے کیلئے ضروری ہے کہ ملک کو دیمک کی طرح کھانے والی کرپشن کے کیڑوں کو ختم کیا جائے اور یہ تب ہی ممکن ہے کہ جب کرپشن کرنے والے اوپر بیٹھے ہوئے حکمران ، سیاست دان یا اداروں کے سربراہ خود اس بات کا اعلان کریں کہ کرپشن نہ خود کروں گا اور نہ ہی کسی کو کرپشن کرنے دوں گاجب اوپر سے کرپشن ختم ہوجائے گی تو اس کا اثر قدرتی طور پر نیچے آئے گا جس سے عام آدمی کو فائدہ ہوگا اور ملک کرپشن اور بدعنوانی سے پاک ہوجائے گا۔کرپشن کو ختم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ سخت سے سخت سزائیں قانون میں لائی جائیں اور کرپٹ افراد کے ساتھ کسی بھی طورپر نرمی کا برتاؤ نہ ہو لیکن یہ تب ہی ممکن ہوگا جب ملک میں قانون کی بالادستی قائم ہو ، میرٹ اور انصاف کا نظام موجود ہو جس طرح اسلام کی بنیادی تعلیمات ہیں اور حضرت علیؓکا ارشاد ہے کہ کفر کے ساتھ تو نظام چل سکتا ہے لیکن بے انصافی کے ساتھ نظام نہیں چل سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا بھر میں کافر لوگ مسلم ممالک سے ترقی وخوشحالی میں آگے ہیں۔ ملک کو ترقی کے راستے پر ڈالنے اور ملک میں قانون وانصاف کی بالادستی کیلئے ضروری ہے کہ ملک میں امن و امان قائم ہو،انصاف کرنے والوں کی جان ومال سمیت ہر پاکستانی کو تحفظ حاصل ہو جو آج بدقسمتی سے ہمارے ملک میں کسی کو حاصل نہیں ہے تو لہٰذاسب سے پہلے ملک کوترقی یافتہ بنانے اور عوام کی امنگوں کے مطابق بنانے کیلئے ضروری ہے کہ دہشت گردی کاخاتمہ کیاجائے جس کیلئے تمام وسائل کوبروئے کار لائی جائے اور دہشت گردی کے مسئلہ کو اولین مسئلہ قرار دیا جائے جب ملک میں امن وامان قائم ہوگا تو باقی کام کرنا مشکل نہیں ہوگا۔ آج ہر پاکستانی کی یہ خواہش ہے کہ ہمارا ملک ایسا بن جائے، کاش ہمارے حکمران بھی اس پر غور کریں تو کوئی مشکل نہیں کہ پاکستان بہت جلد ایک خوشحال اور ترقی یافتہ ملک بن جائے گا۔جب انسان کسی کام کرنے کا ارادہ یا کوشش شروع کریں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی ان کی مدد آجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی بھی قوم پر اتنی آزمائش یا امتحان نہیں ڈالتا جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو ، بس انسان صرف اپنی سوچ کوتبدیل کریں اورتبدیلی کیلئے جدو جہد کا آغاز کریں تو کچھ بعید نہیں کہ طلوع سحر جلد ہو جائے گی۔اپنی خواہشوں کے مطابق پاکستان کو بنانے کیلئے آج سے ہم بھی یہ عہد کریں کہ میں نے ملک کوبہتر بنانے کیلئے اپنے حصے کا دیا ہر صورت میں جلانا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *