دماغی اضافہ

mufti waqas muhammad rafi

سری وی رمن (۱۹۷۰ ؁ء/ ۱۸۸۸ ؁ء) ہندوستان کے ایک مشہور و معروف سائنس دان گزرے ہیں وہ ’’ترد چرایلی‘‘ میں پیدا ہوئے اور ’’بنگلو ر‘‘ میں ان کی وفات ہوئی ۔ آخر وقت میں وہ ’’رمن ریسرچ انٹی ٹیوٹ ‘‘ کے ڈائریکٹرتھے ۔ اس کے علاوہ وہ بہت سے علمی عہدوں پر بھی فائز رہے ۔ ۱۹۰۳ ؁ء میں ان کو فزکس کا نوبیل پرائز دیا گیا ۔ رمن کا ایک نظریہ تھا کہ :
(Science came from the brain and niot from equipment. When one of his pupils in spectroscopy complained that he had only a 1KW lamp whereas his competitor abroad had a 10KW lamp. Raman told him: don t worry. put a 10m KW brain to the problem)
ترجمہ:سائنس دماغ سے آتی ہے نہ کہ ساز و سامان سے ۔ ان کے ایک شاگرد نے ایک بار شکایت کی کہ اس کے پاس ریسرچ کا کام کرنے کے لئے صرف ایک کلو واٹ کالیمپ ہے ، جب کہ بیرونی ممالک میں اس کے برابر کے ایک طالب علم کے پاس ۱۰ کلو واٹ کالیمپ ہوتا ہے ۔ رمن نے جواب دیا کہ تردّد نہ کرو ! تم اپنے مسئلہ کی تحقیق میں ۱۰ کلو واٹ کا دماغ رکھ لو!۔
یہ بات نہایت درست ہے ۔ اس دنیا میں ہر کام کا تعلق دماغ سے ہے ۔ سامان کی کمی کو دماغ سے پورا کیا جاسکتا ہے ، مگر دماغ کی کمی کو سامان سے پورا نہیں کیا جاسکتا ۔
دو تین سو سال قبل مغرب میں جو سائنس دان پیدا ہوئے ٗ ان میں سے کسی کے پاس وہ اعلیٰ سامان موجود نہیں تھا جو آج کسی بھی یونیورسٹی میں ایک ریسرچ میں طالب علم کے پاس ہوتا ہے ۔ ان میں سے ہر ایک نے کم سامان کے ساتھ کام کیا ۔ مثلاً نیوٹن نے کروسین کے لیمپ کے ذریعہ کام کیا ، اس لئے کہ اس وقت بجلی کا استعمال شروع ہی نہیں ہوا تھا ۔ وغیرہ ۔ مگر یہی سائنس دان تھے جنہوں نے جدید مغربی سائنس کی بنیادیں قائم کیں۔
اس اصول کا تعلق ہر انسان سے ہے ۔ جو نہی کسی شخص کو محسوس ہوکہ اس کے پاس سرمایہ یا وسائل یا ساز و سامان کی کمی ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنی دماغی محنت کو بڑھا لے ۔ اس کی دماغی محنت اس کے لئے ہر دوسری کمی کی تلافی بن جائے گی۔
فطرت نے دماغ کی صورت میں انسان کو حیرت انگیز طاقت دی ہے ۔ دماغ کو استعمال کرکے آدمی اپنی ہر قسم کی کمی کی تلافی کرسکتا ہے۔
مسٹر کمال علیگ پہلے سگریٹ پیتے تھے ۔ ۱۹۸۴ ؁ء میں انہوں نے مکمل طور پر سیگریٹ نوشی ترک کردی ۔ ۱۹۷۶ ؁ء سے لے کر ۱۹۸۱ ؁ء تک وہ تعلیم کے سلسلے میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں تھے اس زمانہ میں وہ ’ ’چین اسموکر‘‘ تھے ۔ ایک روز کا واقعہ ہے کہ امتحان کا وقت قریب تھا ، وہ رات کو دیر تک پڑھنے میں لگے رہے ، یہاں تک کہ رات کو ایک بجے کا وقت ہوگیا ۔ اس وقت انہیں سگریٹ کی طلب ہوئی ۔ دیکھا تو دیا سلائی ختم ہوچکی تھی ، ہیٹر بھی بگڑا ہوا تھا ۔ ایک طرف سگریٹ کی طلب سخت اٹھ رہی تھی تو دوسری طرف کوئی ایسی چیز موجود نہ تھی جس سے سگریٹ کو جلایا جاسکے۔
تقریباً آدھے گھنٹے تک ان کے دماغ پر یہ سوال چھایا رہا ۔ وہ اس سوچ میں پڑے رہے کہ سگریٹ کو کیسے جلایا جائے ۔ آخر ایک تدبیر ان کے ذہن میں آئی ۔ ان کے کمرے میں بجلی کا ایک 100واٹ کا بلب لٹک رہا تھا ، انہوں نے سوچاکہ اس جلتے ہوئے بلب میں اگر کوئی ہلکی چیز لپیٹ دی جائے تو کچھ دیر کے بعد گرم ہوکر وہ جل اٹھے گی ۔ چنانچہ انہوں نے ایک پرانا اور بوسیدہ کپڑا لیا اور اس کا ایک ٹکڑا پھاڑ کر جلتے ہوئے بلب کے اوپر لپیٹ دیا ۔ تقریباً پانچ منٹ گزرے ہوں گے کہ وہ کپڑا جل اٹھا کمال صاحب نے فوراً اس سے اپنا سگریٹ سلگایا اور اس کے کش لینے لگے ۔
اسی کانام ہے ’’دماغی محنت‘‘ عام لوگ محنت کے نام سے صرف’’ جسمانی محنت‘‘ کو ہی جانتے ہیں ، مگر محنت کی زیادہ بڑی قسم وہ ہے جس کا نام ’’دماغی محنت‘‘ ہے ۔ دنیا کی تمام بڑی بڑی ترقیاں وہی ہیں جو ’’دماغی محنت‘‘ کے ذریعہ حاصل کی گئی ہیں ۔’’ جسمانی محنت‘‘ پھاوڑا چلانے یا ہتھوڑا مارنے کا کام انجام دے سکتی ہے ۔ مگر ایک سائنٹفک فارم یا جدید طرز کا ایک کار خانہ بنانے کا کام صرف ’’دماغی محنت ‘‘کے ذریعہ ہی ہوسکتا ہے ۔ ’’جسمانی محنت‘‘ اگر آپ کو ایک روپیہ فائدہ دے سکتی ہے تو ’’دماغی محنت‘‘ کے ذریعہ آپ ایک کروڑ روپیہ کماسکتے ہیں ۔ ’’جسمانی محنت ‘‘ صرف یہ کرسکتی ہے کہ وہ دوڑ کر بازار جائے اور ایک دیا سلائی خرید کر لائے اور اس کے ذریعہ سے اپنا سگریٹ سلگا ئے ، مگر ’’دماغی محنت‘‘ ایسی حیرت انگیز طاقت ہے جو دیا سلائی کے بغیر آپ کے سگریٹ کو سلگا دے ، جو ظاہری آگ کے بغیر آپ کے گھر کو روشن کردے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *