پاکستان میں خاموشی اور شرم کا کلچر!

2

about-raza-rumi

پاکستان کے لوگ یہ یقین رکھتے ہیں کہ اللہ نے بچوں کو پیدا کیا ہے وہی انکو رزق دے گا اور انکی حفاظت بھی کرے گا۔ اگرچہ یہ بات سچ ہے لیکن اس عقیدہ نے عوام، حکومت اور والدین کو بچوں کی حفاظت کی ذمہ داری سے سبکدوش کر دیا ہے۔ اللہ کی مرضی کے نام پر بہت سے ظلم اور ناانصافیاں آئے روز واقع ہوتی ہیں۔ اس معاملے میں تازہ ترین واقعہ پنجاب کے علاقہ قصور میں ہونے والی بچوں سے زیادتی کا کیس ہے۔ بچوں کو جنسی زیادتی کا شکار بنایا گیا، ان کی ویڈیو لی گئی اور انہیں زیادتی کے خلاف خاموش رہنے پر مجبور کیا گیا۔ یہاں تک کہ بچوں کے والدین کو بھی بلیک میل کیا گیا اور شرم اور غیرت نے اس شرمناک واقع میں اہم کردار ادا کیا۔ جب قصور سیکنڈل منظر عام پر آیا تو حکومت کا ابتدائی جواب قدرے عجیب نوعیت کا تھا۔ پولیس نے بچوں کی برہنہ فلموں کو دیکھنے کے بعد اسے زمینی تنازعہ کا رد عمل قراردیا۔ بعد میں واقعہ کو بدل دیا گیا اور کچھ روٹین ایکشن لینے کا وعدہ کیا گیا۔ حکومتی پارٹی مسلم لیگ نون کے کچھ عہدیداروں کا ری ایکشن تو اور بھی حیران کن تھا۔ یہ تسلیم کرنے کی بجائے کہ ایسے جرائم حکومتی عہدیداروں اور شہباز شریف کے قریبی لوگوں کی طرف سے انجام پاتے ہیں حکومت نے مختلف طرح کے بیان داغنے شروع کر دیے جنہوں نے پوری عوام کو فرطہ حیرت میں ڈال دیا۔

ہم کبھی کبھار اپنی اجتماعی یاد داشت کھو بیٹھتے ہیں۔ ہر دوسرے دن بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل کے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔ ہر بار میڈیا پر اس طرح کی رپورٹس کو ہیڈ لائن بنا کر پیش کیا جاتا ہے، ابتدائی تحقیق ہوتی ہے اور اس کے بعد معاملہ دبا دیا جاتا ہے۔ یہ بات حقیقت ہے کہ بچوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کا مسئلہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں بھی ایسے واقعات ہوتے ہیں۔ لیکن اس بات کو بہانہ بنا کر پاکستان میں اس جرم کی افزائش کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ساحل نامی ایک بچوں کے حقوق کی تنظیم کے مطابق صرف 2014 میں پاکستان میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے 3508 کیس رپورٹ ہوئے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ روزانہ 10 یا اس سے بھی زیادہ بچے زیادتی کا شکار بنتے ہیں۔ یہ تو صرف ایسے کیسز ہیں جو رپورٹ کیے جاتے ہیں۔ پاکستانی عوام ایسی زیادتیوں کو سہنے کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔ اسی لیے ہر طرف ایک عجیب طرح کی خاموشی چھائی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگ ان گھٹیا جرائم کو قابل قبول سمجھنے پر تیار ہیں۔ میڈیا کئی مواقع پر مدرسوں اور سکولوں میں بچوں پر ہونے والی زیادتیوں کو عوام کے سامنے لاتا ہے۔ تازہ ترین کیس وہ تھا جس میں ایک بچے کو زیادتی کے بعد مار کر مسجد کی اوپر والی منزل پر لٹکا دیا گیا۔ کچھ سکولوں میں ٹیچرز بچوں کو کام نہ کرنے پر جسمانی سزائیں دیتے ہیں۔ بچوں کو تھپڑ مارنا کردار کی تعمیر کا اہم ستون سمجھا جاتا ہے۔

بچوں کی زیادتی اور اس کی فلم بنانے کا سکینڈل سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور جس میں ۱۳۲ بچوں کی موت ہوئی تھی کے کچھ ماہ بعد سامنے آیا ہے۔ اس واقعہ میں بچوں کو انتقام کی بھینٹ چڑھایا گیا تھا وہ بھی ایک ایسی جنگ کا انتقام جو بچوں کی تھی ہی نہیں۔ اس وقت بھی قوم کا ضمیر ظاہری طور پر جاگا تھا۔ کچھ پالیسیاں بھی بنائی اور تبدیل کی گئیں لیکن ابھی ان کا نتیجہ بتانا ممکن نہیں ہے۔ لیکن اس بعد جو ناقص جسٹس سسٹم کے تحت 200 کے قریب لوگوں کو پھانسیاں دی گئی وہ زیادہ افسوسناک واقعہ تھا۔

معاشرے میں موجود اس تشدد کی بہت سے بنیادی وجوہات ہیں۔ اس کیچڑ کے سینٹر میں ریاست خود ہے جو اپنے آپ کو عوام کے سامنے جوابدہ نہیں سمجھتی اور نہ ہی شہریوں کی شکایات کے ازالہ کو ضروری سمجھتی ہے۔ اس ریاست نے ایک نہ ختم ہونے والی پالیسی بنا رکھی ہے جس کے مطابق یہ اپنے اختیارات ملاوں، دہشت گردوں اور دوسرے مافیہ کے ساتھ بانٹتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی معاہدون کے باوجود یونیسیف اور آئی ایل او کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان بھر میں 10 سے 12 ملین بچے مزدور کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں جن میں سے بعض کو غلاموں کی طرح ڈیل کیا جاتا ہے۔ جی ہاں وہ ایک آزاد ریاست میں غلاموں کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

عام طور پر بچوں کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ بھی حیران کن ہے۔ ۵۰ فیصد بچے ایسے ہیں جو سکول نہیں جاتے۔کچھ بچے ایسے ہیں جنہیں سکول چھوڑنے پر مختلف وجوہات کی بنا پر مجبور کیا جاتا ہے۔ یہ یاد رکھیں کہ تعلیم بچوں کا آئینی حق ہے جو انہیں آرٹیکل 25 اے کے تحت حاصل ہے۔ اہم مہمات جن میں بچوں کو ویکسین دینا وغیرہ قابل ذکر ہیں بھی صحیح طریقے سے انجام پذیر نہیں ہو پاتیں جس کی وجہ سے پاکستان کا شمار ایسے ملکوں میں ہوتا ہے جہاں پولیو وائرس بچوں کے مستقبل کو خوفناک بنا سکتا ہے۔

ہم نے بچوں کو بغیر تنخواہ اور سکیورٹی کے مختلف ورک شاپ میں کام کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ مڈل کلاس طبقہ بچوں کو کام پر رکھتا ہے اور ان کے ساتھ غلاموں کیے جیسا برتاو کرتا ہے۔ روزانہ ہزاوروں بچے سڑکوں پر گھومتے اور بھیک مانگتے دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان میں بچوں کے ساتھ اس طرح کی زیادتیاں برداشت کرنے کا مادہ بدرجہ اتم موجود ہے۔ اس رویہ، عدم مساوات اور غربت کی بنیادی وجوہات ڈسکس کرنے کے لیے میڈیا کا پاس وقت نہیں۔ ٹیلی ویژن پر ہونے والے مباحث میں غربا اور بچوں کے مسائل اور ان کے حل کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بچے کسی چھوٹے خدا نے پیدا کیے ہوں۔ یہ ہماری اخلاقی گمراہی ہے جس نے ہم سب کو آ لیا ہے۔ ظلم کا شکار معاشرہ ہمارے آئینی مینڈیٹ ، بین الاقوامی معاہدات اور قوانین اور اصولوں کی خلاف ورزی کی حقیقت کو ہر طریقہ سے افشاں کر رہا ہے۔

ایک بے حس سٹیٹ کی مشینری کے لیے قوانین کا پلندا کوئی اہمیت نہیں رکھتا اور قبائیلی جاگیرداری نظام شہروں کی طرف جلدی سے منتقل ہو رہا ہے۔ ہماری قسمت اور ضمیر کے نگران جس طرح سٹیٹس کو کا نفاذ کر رہے ہیں اس کی تو بات نہ کی جائے تو بہتر ہے۔ 1980 کی دہائی سے مشہور کلچر نے اس سستی کی عادت کو فروغ دیا ہے۔ ٹی وی پر پیش کیے جانے والے سوپ، کھیلوں کے مقابلے ، تقاریر اور سب سے زیادہ فروخت ہونے والے لٹریچر جن میں زیادہ تر مذہبی کتابیں ہوتی ہیں ان سب چیزوں نے مل کر اس سستی، بے حسی اور خاموشی کو جنم دیا ہے۔ بچوں پر تشدد اور ان کو بنادی حقوق سے محروم کرنے کی روش معاشرے کے گناہوں کی بدولت نہیں بلکہ خراب اقدار اور ریاست کی ناکامی کی وجہ سے دیکھنے میں ملتی ہے۔ بچوں کے حقوق کے حقیقی نفاذ کا اداراہ پاکستان میں غیر محرک ہے۔ چائلڈ پروٹیکشن بیورو ہمارے چیلنج کے لیے صحیح حل نہیں ہیں۔

پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کو اس معاملے میں گفتگو کرنے کے بعد متعلقہ اداروں اور صوبائی حکومتوں کو مناسب اقدام کی تجاویز دینی ہوں گی تا کہ وہ ایک ایسا سٹرکچر تیار کریں جو پالیسی کو نہ صرف نافذ بلکہ اس کی نگرانی بھی کریں اور اپنا کام صحیح طریقے سے نہ کرنے والوں کو سزا دلوائی جائے۔ ہمیں ایک بڑی مہم چلانا ہو گی تا کہ بچوں سے ہونے والی زیادتیوں پر عوام کی خاموشی اور سُستی جیسے مسائل کو ختم کیا جا سکے۔ یہ تمام طویل المدتی اقدامات پورے انہماک کے ساتھ جلد از جلد شروع کیے جائیں جن میں سب سےپہلے قصور واقعہ کے ملزموں کو قرار واقعی سزا دی جائے تا کہ انصاف کی اعلٰی مثال قائم ہو۔

loading...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *