پاکستان کا بننا

Haq Nawaz Jillani

یہ حقیقت ہے کہ قیام پاکستان کے وقت مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے پاکستان بنانے کی مخالفت کی تھی ،پاکستان کی مخالفت کرنے والوں کی سوچ یہ تھی کہ مسلمان چونکہ پورے برصغیریعنی موجودہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے علاوہ زیادہ تعداد میں بھارت کے مختلف حصوں میں مقیم ہے لہٰذا بہتری اسی میں ہے کہ برصغیر کے مسلمان اکٹھے ایک ہی ملک میں رہیں تاکہ ان کی اہمیت ہندؤں کے مقابلے میں برابر رہے۔خود قائداعظم شروع سے کانگریس میں تھے لیکن جب ان کو معلوم ہوا کہ ہندوں مسلمانوں کے ساتھ مخلص نہیں ہے ۔ انگریز کے چلے جانے کے بعد مسلمانوں کے مسائل ختم نہیں ہوں گے بلکہ ان میں اضافہ ہوگا۔ اس لئے قائداعظم نے کانگریس چھوڑ کر مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی۔قائداعظم کی مسلم لیگ میں شمولیت سے مسلمانوں کا جذبہ مزید بڑھااور انگریز نے مسلمانوں کے لئے الگ وطن قیام پاکستان پر رضامندی ظاہر کردی ۔14اگست 1947کو پاکستان کا اعلان ہوا جس میں مشرقی پاکستان یعنی آج کا بنگلہ دیش بھی شامل تھا کا قیام عمل میں لایا گیا ۔پاکستان بننے کی جدوجہد سے لے کر قیام پاکستان تک لاکھوں مسلمانوں نے جانوں کی قربانی دی۔ بھارت سے ہجرت کے وقت اتنے مسلمان ہندؤں اور سکھوں کے ہاتھوں شہید ہوئے جو انگریز کے خلاف جدو جہد سے بھی زیادہ تھے۔کہا جاتا ہے کہ تقریباً بیس لاکھ مسلمانوں نے جانوں کا نذارنہ پیش کیا تھا ۔ تاریخ ان معصوم اور بے گناہ مسلمانوں کی خون سے آج بھی روشن ہے۔ قیام پاکستان کی مخالفت صرف بھارت میں مقیم مسلمان نہیں کررہے تھے بلکہ مغربی اور مشرقی پاکستان میں موجود مسلمان بھی تقسیم ہند کے خلاف تھے ۔ سچ تو یہ ہے کہ آج بھی بعض لوگوں کی سوچ وہی ہے کہ تقسیم ہند کا فیصلہ غلط ہوا اور پاکستان کا بننا درست فیصلہ نہیں تھا اس کی وجہ سے ملک اور مسلمان کمزور ہوئے۔پاکستان کی مخالفت کرنے والوں کی دو قسم ہیں، بعض لوگ تو ہندؤں کے محبت اور دوستی میں اسطرح کی سوچ رکھتے ہیں جبکہ بعض افرادکی سوچ یہ ہے کہ اب بھی پاکستان سے زیادہ تعداد میں مسلمان بھارت میں موجود ہے تو یہ کیسا فیصلہ تھا کہ اکثریت سے اقلیت جدا ہوجائے ، اگر مسلمان اکٹھا ہوتے تو آج ان پر اس طرح کے مظالم نہ ہوتے اور دنیامیں بھارت ایک مضبوط ملک ہوتا۔ ہم جیسے جب اس طرح کی دلیل سنتے تو سوچنے پر مجبور ہوجاتے کہ شاید یہ انگریز نے جان بوجھ یہ فیصلہ مانا ہو، تاکہ بھارت جس میں مسلمان اور ہندو رہتے ہیں ایک بڑا ملک نہ بن جائے اور یہ کہ مسلمان جس طرح اب اقلیت میں ہے اس طرح نہ ہوتے لیکن گزشتہ روز پروفیسر فتح محمد ملک کی گفتگو سن کر محسوس ہوا کہ پاکستان کا بننا ایک بہتر اور اچھا فیصلہ تھا ۔ کیوں کہ پاکستان کے بننے سے مسلمانوں کو ایک الگ وطن نصیب ہوا جس میں وہ اپنی سوچ کے مطابق زندگی گزار سکتے ہیں جبکہ بھارت میں مقیم مسلمانوں کو یہ بتایا گیا تھا کہ بھارت چھوڑ کر پاکستان کی سرزمین پر چلے آؤ جس میں بہت سے گھرانے بھارت چھوڑ کر پاکستان آگئے تھے،جو لوگ بھارت میں مقیم ہے آج ان کی زندگی کتنی مشکل اور تکلیف سے گزر رہی ہے۔ بھارت کے حالیہ دورمیں مسلمانوں پر تشدد اور نفرت نے ثابت کردیا کہ پاکستان کا بننا ایک اچھا فیصلہ تھا ۔آج بھارت کے مسلمانوں کی اہمیت ہندؤں کے گائیں سے زیادہ نہیں ۔آج ہر روز مسلمانوں کواس لئے تشدد کا نشانہ یا قتل کیا جاتاہے کہ مسلمانوں نے گائے کاگوشت کھایا،یعنی مسلمان اور انسان سے زیادہ اہمیت ہندؤں کے نزدیک گائے کی ہے۔ بھارت کے مسلمانوں کو مختلف بہانوں سے تشدد اور مار پیٹ کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔ ظلم وجبر کی انتہا تو یہ ہے کہ اپنے آپ کو سیکولر کہنا والا بھارت نے مسلمانوں کے عبادت گاہوں کو بھی نہیں بخشا ہے جس کی آئے روز واقعات کے علاوہ بابری مسجد کی شہادت بھی گواہ ہے، آج ہندؤں کی ظلم وجبر کی وجہ بھارت کے زیر کنٹرول جموں وکشمیر میں ظلم وجبر کا سلسلہ قیام پاکستان سے شروع ہے جس میں لاکھوں مسلمان شہید اور زخمی ہوئے ہیں ۔ اگر بھارت کی ظلم وجبر کی یہ پالیسی نہ ہوتی اور وہ مسلمانوں کے خیر خوا ہ ہوتے توآج جموں وکشمیر کے مسلمان اپنے لئے الگ وطن اور آزاد کشمیر کی بات نہ کرتے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہندؤں کا دوہرا معیار قیام پاکستان سے قبل مسلمانوں اور قائد اعظم پر عیاں ہوا تھا کہ انہوں نے اپنے لئے ایک آزاد ملک پاکستان بنانے کا فیصلہ کیا جس کی وجہ سے آج مسلمانوں کا ایک بڑا حصہ آزاد وخود مختار زندگی گزار رہاہے۔جو لوگ آج بھی پاکستان بننے کو غلط قرار دے رہے ہیں یا اس کی مخالفت کررہے ہیں تو ان کو کم ازکم بھارت میں مقیم مسلمانوں اور کشمیر میں بھارتی ظلم وجبر کا جائزہ لینا چاہیے اور یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ہم آج اپنے ایک آزاد ملک کی وجہ سے اپنی مرضی کے مطابق فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں جو کہ بھارت کے مسلمانوں کے پاس نہیں ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہماری حکومتیں اس طرح کام نہیں کرسکی جس طرح قیام پاکستان کا مقصد تھا ۔ ہماری حکومتیں ہمیشہ غلاموں والی سوچ کے تحت رہی ہے جبکہ اپنے لئے تو سب کچھ کرتی آرہی ہے لیکن عام مسلمان اور پاکستانی کے مشکلات میں مالی و جانی پریشانی کے خاتمے کیلئے کوئی خاص کام نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے پاکستانیوں کی اکثریت حکومتوں سے نالاں ہے لیکن وطن سے محبت میں کوئی کمی واقعی نہیں ہوئی ہے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ پاکستان سے نوجوان نسل کی محبت میں اضافہ دیکھنے کو مل رہاہے۔ اسلئے ہمارے حکمرانوں کو چاہیے کہ پاکستان کے عوام پر رحم کرے اور اس ملک میں اس قانون وانصاف کاآغاز کرے جس کیلئے اس مملکت کا قیام عمل میں لایا گیا تھا ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *