اللہ نے بہت عزت دے رکھی ہے

قمرریاض

qamar riaz

 یہ 'عزت ' کا لفظ بھی کمال کا لفظ ھے بڑی سے بڑی دو نمبری کرنے والے برے لوگ اورحاسدین زمانہ بھی اپنے دوستوں اور اقارب داروں کی محفل میں بات کرتے ھوئے کہہ رھے ھوتے ھے " یار اللہ نے بہت عزت دے رکھی ھے "حالانکہ اللہ نے انہیں بلکل بھی عزت نہیں دی ھوتی بلکہ ان کے چہروں پر نحوست برس رہی ھوتی ھے مگر چونکہ یہ ان کے اندر کا وھم ھوتا ھے اس لئے وہ دوسروں پر اسے ظاہر کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں مگر وہ اس بات کو سمجھنے سے نابلد ھوتے ہیں کہ سامنے والا جو کہ اس کے کرتوتوں سے واقف ھے اندر ہی اندر یا تو ٹھاٹھے مار کر ھنس رھا ھوتا ھے یا پھر شدید تپ رھا ھوتا ھے اور کہنے والے کہتے ہیں وھم کا علاج تو حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں تھا اور آجکل کے حکیم اور ڈاکٹر تو ویسے ہی آدھے سے زیادہ عطائی ہیں - پاکستان بننے کے کچھ سال بعد جب ڈاکڑز کی کمی تھی کوئی ڈسپنسر کا کورس بھی کر لیتا تو کہیں نہ کہیں گھر کی بیٹھک یا سٹور میں ہی چھوٹا موٹا کلینک ڈال کر بیٹھ جاتا اور باھر ڈسپنسر کا بورڈ لگا لیتا مگر لوگ انہیں ' ڈاکڑ صاحب ' ہی سمجھتے ان دنوں کی بات تو سمجھ آتی ھے کہ دور دراز علاقوں تک کوئی باقاعدہ ڈاکڑ نہیں تھا اور ڈسپنسر کو بھی لوگ اپنے لئے فرشتہ خدا سمجھتے اور ان میں بھی ایک معیار ھوتا مگر آجکل نہ صرف ڈاکٹر ہر جگہ دستیاب ہیں بلکہ ڈسپنسر بھی اپنے ساتھ ڈاکڑ کا لفظ لگا کر گھومتے ہیں کئی کو تو میں ذاتی طور پر جانتا ھوں جنہوں نے اپنے ذاتی ھسپتال بنا رکھے ہیں جہاں میٹرنٹی سے لے کر سرجری تک سب کام ھوتے ہیں مگر کوئی پوچھنے والا نہیں اور اگر ان سے پوچھیں بھائی کیا حال ہیں تو وہ فخر سے بتائیں گے اللہ نے بہت عزت دے رکھی ھے - بھلے ھر مہینے دو تین لوگ اللہ کو پیارے ھو رھے ھوں - ایک 'ڈاکڑ ' وہ بھی ہیں جو میڈیکل میں اپنی تعلیم مکمل نہیں کر پاتے مگر اپنے نام کے ساتھ شوقیہ ڈاکڑ لگا کر گھومتے ہیں چاھے میڈیکل کے دو سال بھی پاس نہ کئے ھوں اور پی ایچ ڈی تو دور ایم فل بھی ناکام ھوا ھو - میں اپنے علاقے کہ ایک ایسے 'حبیب سائیں ' کو بھی جانتا ھوں جسے نشے کی وجہ سے کوئی ھوش نہیں رہتا کانوں میں بالیاں منہ میں سگریٹ مگر کئی شوقین مزاج انہیں بھی ڈاکڑ صاحب کہہ کر بلاتے ہیں اور اس وقت ' سائیں حبیب ' کے سیاہ ، کالے چہرے کی خوشی دیکھنے والی ھوتی ھے ایسا لگتا ھے کہ ابھی ابھی امریکہ کو 'سائیں حبیب' نے ہی دریافت کیا ھے - دوسرا شعبہ صحافت ھے جب سے ٹی وی چینلز کی ' ہوش ربا ' بہتات نے جنم لیا ھے تب سے آپ ایک اینٹ اٹھائیں نیچے کوئی نہ کوئی صحافی بیٹھا ھو گا اصلی یا جعلی اس بات سے کجا مگر صحافت کا لبادہ اوڑھے ایسے ڈھٹائی سے رواں تبصرے کر رھے ھوتے ہیں کہ جیسے اپنے گھر کے حالات بتا رھے ھوں مثال کے طور پر کسی چھوٹے شہر میں ایک خود ساختہ صحافی ھوتے تھے ایل - کے بادل ایک ھفتہ روزہ " اصول " کے نام سے نکال رکھا تھا مگر مجال ھے کوئی ایک خبر بھی اصول پر ھو - اخبار کے مالک سے لے کر ٹی بوائے تک سب وہی تھے ، علاقے کے چودھریوں اور وڈیروں کی بڑی بڑی تصاویر چھاپتے ان کی تعریفوں کے پل باندھتے اور ھفت روزہ لے کر پہنچ جاتے ان لوگوں کے ڈیرے پر اور آغاز یہاں سے کرتے ماشاءاللہ چوھدری صاحب یہ دیکھیں آپکی تصویر نے پورے شہر میں تھرتھلی مچائی ھوئی ھے سارا شہر پیچھے لگا ھوا ھے کہ میری ایسی تصویر کیوں نہیں لگائی انہیں کیا پتہ آپ تو ھمارے سر پنچ ہیں ، مجال ھے ایسی گستاخی ھو - چوھدری جس نے کبھی دو جماعتیں نہیں پڑھی ھوتی اور ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھا ھوتا ھے مونچھوں کو وٹ دے کر پنجابی میں کہتا ھے " اوئے 'بدل ' اے لے ھزار روپیے تے خبردار جے کسے ھور دی میرے تو وڈی فوٹو لائی " بدل' اور چوھدری اتنے میں ہی اپنا رانجھا راضی رکھتے ہیں اور چھوٹے موٹے باقی وڈیروں کے ساتھ بھی' بدل ' کا ایسا سلسلہ یونہی چلتا رہتا ھے چائے کہ تھڑے پر بیٹھ کر چائے پیتے ھوئے چائے والا جب پوچھتا ھے " کی حال اے ایڈیٹر صاحب " تو لے - کے - بادل اپنے لئے ایڈیڑ کا لفظ سن کر چوڑا ھو کر بیٹھ جاتا ھے اور چائے کو پرچ میں ڈال کر ایک لمبی سی شڑپ لگا کر کہتا ھے پتر اللہ نے بڑی عزت دے رکھی اے - اور تو اور آجکل جنہیں صحافت کی ' ص 'بھی نہیں آتی وہ صحافیوں کی انجمن کے صدر بنے ھوئے ہیں اور جنہیں اردو کے' الف 'کا پتہ نہیں وہ خود کو اردو کے مہاتما بدھ سے کم نہیں سمجھتے شائد یہی وجہ ھے کہ حکیم لقمان بھی وھم کے مرض کا علاج دریافت کرنے میں ناکام رھا میرا ایک دوست نشئی ھو گیا بڑا اسے سمجھایا نہ کر یار گھر برباد ھو جائے گا نہیں مانا نشے کے ساتھ ساتھ چوری چکاری بھی شروع کر دی اس کی 'برکت' سے چار پیسے آنے شروع ھوئے تو مستقل بنیادوں پر نشہ کم اور چوری کا مزہ زیادہ ھو گیا پہلے موٹر سائیکل خریدی پھر ایک آدھ ڈاکہ مار کے گاڑی خریدی اور پھر ایک گینگ بنا کر اب بھتے وصولی کا کام کرتا ھے گھر کے باھر لکھوا رکھا ھے ' عشرت کدہ ' ھذا من فضل ربی ' یعنی کہ جیسے کسی جدی پشتی رئیس کا گھر ھو چار مہینے ھوئے ثبوت ملنے پر رینجرز نے پکڑا گھر بیچا کیس پر پیسے لگائے کوڑی کوڑی کا محتاج ھو گیا مگر لوگوں سے یہ کہتے ھوئے آج بھی نہیں تھکتا کہ شائد کوئی امتحان کی گھڑی آئی ھے نہیں تو اللہ نے بہت عزت دے رکھی تھی -ایسے بہت سارے اور بھی لوگ ہیں ان کا ذکر پھر کبھی سہی اللہ ایسی عزت سے بچائے جو صرف وھم اور کھوکھلے پن کے سوا کچھ بھی نہیں !!! قمرؔریاض

loading...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *