محترم ہارون الرشید صاحب، دور جدیدکےحکیم مقنع نہ بنیں !

naeem-baloch1حکیم مقنع اسلامی تاریخ کا ایک عجیب و غریب کردار ہے۔ وہ ہارون الرشید کے خلیفہ بننے کے تین سال قبل(783ء ) فوت ہو گیا۔ اپنے آپ کو ابو مسلم خراسانی کا جانشین سمجھتا تھا۔اس نے زرتشت اور اسلامی تصوف کا ایک ملغوبہ تیار کیا۔ اس کا شہرہ بطور ادیب ، شاعر اور فلسفی بھی ہے۔مگر زندیق ہی شمار کیا گیا۔ کیمیا گر بھی تھا ، ایک تجربے کے دوران چہرہ جھلس گیا اور باقی زندگی چہرے پر نقاب ڈالے رکھا۔ بڑا فلسفی ، شاعر اور ادیب کہلایا، نپولین بونا پارٹ نے اس پر ایک کہانی بھی لکھی ، تھامس مور اسے ’ایرانی پیغمبر ‘ کہتا ہے ۔اپنے وقت کا عباسی خلیفہ اس کی حرکتوں سے بہت زچ رہا۔ بلا کا ذہین اور عبقری تھا ، لوگوں کے سامنے ایسے ایسے سوال رکھتا کہ ان کا ایمان خطرے میں پڑ جاتا۔مثلاً اس نے سوال اٹھایا کہ کیااللہ تعالیٰ ایسا پتھر بنا سکتا ہے، جس کو اٹھا نہ سکے ؟پھر پوچھا:اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے تو کیا وہ جھوٹ بولنے پر بھی قادر ہے ؟موصوف معاشرے میں فرسٹریشن پھیلانے میں ید طولیٰ رکھتے تھے، پوچھتے : اللہ نے انسانی ہاتھ کی پانچ انگلیاں ہی کیوں بنائیں؟ لوگ کہتے کہ اس سے انسانی ہاتھ کتنا خوبصورت اور متوازن لگتا ہے!وہ کہتے : اس کامطلب ہے خدا ایسا خوب صورت اور متواز ن ہاتھ نہیں بنا سکتا جس کی چار یا چھ انگلیاں ہو ں ۔ اس کے بعد اپنے ترشیدہ ’خدا ‘کی تبلیغ کرتے !
اب ذرا محترم ہارون الرشید کے سوالات ملاحظہ فرمائیے، ایک کالم میں لکھتے ہیں :اسلام آباد موٹروے کی طوالت300کلومیٹر کے بجائے 438کلومیٹر کیوں ہے ؟ سری لنکا کے تین جہازہی کرائے پر کیوں لیے ؟زیادہ کیوں نہیں لیے؟ اور تین جہاز وں پر سہولتیں دی گئی ہیں ، یہ بھی کوئی کارنامہ ہے ! اس کوکارنامہ قرار دینا ایک شرم ناک فعل ہے ۔ ملکہ ہارون الرشید کی بنائی گئی نہر زبیدہ کی طرح کام کیوں نہیں کیا جارہا۔ حساب کتاب کیوں بتا یا جارہا ہے ؟ پورے ملک کا بیڑا غرق ہے ،اسپتال، تعلیمی ادارے ، افسر شاہی ، پولیس ۔۔۔سب کچھ برباد ہو گیا !
حکیم مقنع کو تو اہل علم نے یہ جواب دیا کہ حضرت ،اللہ کی شان اس سے بالاتر ہے کہ وہ اس طرح کے بے مقصد اور باہم متضاد کام کرے ۔اگر ایک عقل مند انسان ایسی مشین نہیں بنا تا ، جس کو وہ قابو نہ کرسکے، اتنا کھانا نہیں کھاتاجس کو وہ ہضم نہ کر سکے، تو اس بے نقص کائنات کا خالق ایسا کام کیوں کر کرے گا جو اس کی صفت حکیم اور قدیر کے خلاف ہو ۔ جھوٹ تو کسی کمزوری کو چھپانے یا خوف کی وجہ سے بولا جاتاہے ، اور اللہ تعالیٰ ایسے ہر عیب سے پاک ہے ، اور رہا ہاتھ والا سوال تو یہ بات تو چار یا چھ انگلیوں کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے ، اور بہترین کا فیصلہ خالق کرتا ہے یا مخلوق ؟ مزید یہ کہ بہترین ایک ہی ہوتا ہے ۔ یوں حکیم مقنع کی ساری باتیں خرافات اور احمقانہ قرار دی گئیں تھیں لیکن اس نے لوگوں کو اپنے پیچھے لگایا اور بیسیوں سال اس کی دانش مندی کا شہرہ رہا ۔ اسی طرح ہارون الرشیدی درفنطنیاں ظاہر بینوں کو وقتی طور پر متاثر تو کر لیتی ہیں لیکن وہ مکڑی کا جالا ہی ہوتی ہیں کہ دلیل و تجزیے کی ذرا سی قوت بھی برداشت نہیں کرسکتیں۔
نون لیگ کی حکومت کے ترقیاتی کاموں میں کیڑے تلاش کیے جاسکتے ہیں،لیکن یہ وہی تنقید ہے کہ انگلیاں چار یا چھ کیوں نہیں ۔ ذرا غور کیجیے کہ بظاہر انتہائی غیر یقینی سیاسی حالات میں، موٹر وے جیسے پراجیکٹ کا خیال اگر سارے حکمرانوں کو نہیں آیا اور نوازشریف کو آیا تو اس کی تحسین کرنی چاہیے یا اس قسم کے سوال کرنے چاہییں کہ پراجیکٹ اس سے بہتر کیوں نہ بنایا ، بھئی دوسروں نے تو بنایا ہی نہیں ، بلکہ بس چلا تو
اس کی چوڑائی ہی میں کمی کر دی ۔اسی طرح یہ اندھوں کو بھی نظر آرہا ہے کہ ریلوے ، اور پی آئی اے کی پہلے کیا حالت تھی اور اب کیا ہے ؟آخر حکیم مقنع جیسا یہ اعتراض کیسے دانش مندانہ ہو سکتا ہے طیارے تین کیوں لیے؟ چار سے بہتری کا آغاز کیوں نہیں کیا گیا؟ سری لنکا سے کیوں لیے ؟ یوگنڈا سے کیوں نہیں خریدے ؟ اور محترم زبیدہ ’’آپا ‘‘ نے کسی پراجیکٹ کا حساب نہیں دینا تھا ، اس نے عوام کو اپنی کارکردگی دکھا کر ووٹ نہیں لینے تھے ، آپ جیسے نفرت کے بیوپاریوں کے منہ بند نہیں کرنے تھے ، اس لیے رجسٹر دریا برد کر دیے۔ مانا کہ ملکہ عالیہ زبیدہ آپ کو شاید اس لے پسند ہیں کہ ان کے شوہر کا نام آپ کے نام پر تھا ورنہ اگر آپ ایک ’زبیدہ نہر‘ پر ان کے سارے جبرواستبداد کو ’ معاف ‘ کرنے پر تیار ہو گئے ہیں توشریف برادران کے کام تو ان سے کئی گنا زیادہ ہیں ، شہروں میں صرف فلٹر شدہ پانی کی فراہمی ہی کو لے لیجیے ! اس کے مقابلے میں ذرا KPK کی حالت دیکھیے ، اسپتالوں اور تعلیمی اداروں اور افسر شاہی کا پنجاب سے مقابلہ کر کے دیکھیں ۔ اگرچہ پنجاب میں بھی کوئی آئیڈیل صورتحال نہیں ہے لیکن یہاں موازنے کی بات ہو رہی ہے۔ کیا محترم کالم نگار نے کبھی اس حوالے سے کوئی تحریر لکھی ؟ اس لیے کہ عام پاکستانیوں کی طرح وہ بھی سیاستدانوں سے یا محبت کرتے ہیں یا نفرت۔ ان کے خیال میں سیاستدان یا فرشتہ ہوتا ہے یا شیطان ! نہیں حضور ، اس عامیانہ سوچ سے باہر آئیے ۔ سیاستدان بھی اسی معاشرے کے لوگ ہیں ، جو اخلاقیات معاشرے کی ہے وہی ان کی ہے ، ان کی اچھی باتوں پر ان کا حوصلہ بڑھائیے اور ناقص کارکردگی پر تنقید کیجیے ۔ اگر ان کی خود غرضی اور نااہلی معاشرے کی عکاس ہے تو آپ کی دانش وری کون سی قابل تقلید یا لائق تحسین ہے۔ وہ بھی تو حکیم مقنع کی نمائندگی کرتی ہے ۔ یہ کہاں کی دانش وری ہے کہ ایک دن لکھا کہ سارا نظام برباد ہو چکا ، کچھ باقی نہیں بچا ، قیامت کی آمد کو کچھ ہی روز باقی بچے ہیں ۔ اگلے دن کالم لکھا کہ نواساغائب ہے، ظاہر ہے انتہائی فکرمندی کی بات تھی، خوب برسے ،اس دور ہی کو منحوس قرار دے دیا ۔ آج تازہ کالم لکھا اور خبر دی کہ نواسا خیریت سے ہے ، مل گیا ہے ،خوف زدہ ہے۔ اس لیے پوچھا نہیں کہ گمشدگی کی وجہ کیا تھی؟ بمشکل یہ بات بھی کہہ ڈالی کہ بچوں کے اغوا کے معاملے میں مبالغہ آمیزی ہے ، حکومت کو بدنام کرنے کی سکیم ہے ۔ ’اقبال جرم ‘ کیا کہ پولیس نے تعاون تو کیا لیکن یہ بھی کوئی پولیس ہے؟ ترکی اور خرطوم کی طرح کی کیوں نہیں ؟ خدارا بتائیے کہ کالم نگاری کی یہ کون سی قسم ہے ؟

loading...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *