ممنون حسین ، ممنون فرمائیں

shahid nazir choudhri

صدرپاکستان کا عہدہ ایک غیر انتظامی عہدہ ہے اور اسے وزیراعظم کی ہدایت پر عمل کرنا ہوتا ہے لیکن ایک صدر کی ذاتی شخصیت اور سوچ بہرحال اپنا اثر رکھتی اور وفاق کی علامت ہوتی ہے۔وہ اتنا بھی عضو معطل نہیں ہوتا کی کچھ کر ہی نہ سکے ،بہر حال اسکی باتیں اور کردار اپنا وزن رکھتاہے۔صدر پاکستان ممنون حسین نے قومی درد سے لبریز ہوکر چند ماہ کے دوران اپنا وزن دکھانے کی کوششیں کی ہیں ۔جس پرکہاجارہا ہے کہ وہ قوم کو بیدارکرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔
مسندمملکت پر متمکن صدر پاکستان نے کراچی میں ’’مسندبابائے اردو مولوی عبدالحق ‘‘ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ قوم ملکی دولت لوٹنے والوں سے نفرت کرے ،صدر پاکستان کا یہ جذبہ انتہائی قابل قدر اور توجہ کا متقاضی ہے۔انکے صدارتی بیان کے بعد مجھے ان سے کچھ توقعات سی ہونے لگی ہیں۔کاش لٹیروں سے نفرت کرتے ہوئے پہلا پتھر وہ خود ماریں۔۔۔ہاں، اس سے کیا اچھی بات ہوسکتی ہے کہ قوم ملک لوٹ کر دولت باہر لے جانے والوں سے نفرت کرنے لگ پڑے تو ملک صحیح راہ پر گامزن ہوسکتاہے۔ صدر پاکستان نے قوم کو لٹیروں سے نفرت کا طریقہ نہیں بتایا کہ اس نفرت کا اظہار کرنے کے لئے انہیں کون سا طریقہ استعمال کرنا چاہئے۔نفرت کے اظہار کے لئے جائز اور ناجائز کئی طرح کے طریقے معروف ہیں لیکن جہاں تک صدر پاکستان کے منصب کا تقاضا ہے اس سے امید کی جاسکتی ہے کہ موجودہ حالات میں وہ ’’عوامی نفرت‘‘ کے لئے اہداف پر چھانے والی دھند کو صاف کردیں اور جہاں تک ممکن ہو وہ ملک لوٹنے والے حقیقی افراد کی نشاندہی کردیں ورنہ یہ عوام پر چھوڑ دیا گیا توگھر گھر سے لٹیرا نکالنے کے قومی جذبہ کی وجہ سے فسادات کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔تاہم نفرت کا مطلب یہ ہے کہ ہر دور کے لٹیروں کو پانچ سال پورے کرکے بذریعہ ووٹ سسٹم سے نکالنے کی امید کی جائے تو ایسے انقلاب کے لئے ابھی کئی دہائیوں تک زمام اقتدارلٹیروں کے ہاتھ میں رہنے کی صورتیں پیداہوں گی۔
ویسے بھی یہ کام تو صدر مملکت جیسی بااثر مقتدر ہستیوں کو زیب دیتا ہے کہ وہ قوم کی درست سمت میں رہنمائی کے لئے سسٹم کو ٹھیک کرنے کی آخری حد تک کوششیں کریں۔کیونکہ انہیں زیادہ علم ہے کہ ملک کو کون لوٹ رہا ہے اور کس کس نے لوٹا ہے۔وہ کون کون سی طاقتیں ہیں جونیب اور آڈیٹر جنرل کو ہاتھ ہولا رکھنے کے لئے دھمکیاں دیتی ہیں۔ وہ کون ہیں جو بڑے بڑے تعمیری منصوبوں کی لاگت کا حساب نہیں دینا چاہتے۔صدرپاکستان سے کچھ نہیں چھپا ہوا ۔وہ وفاق کی علامت اور سب کے صدر ہیں ،وہ اقتدارکی چوٹی پران تین چار شخصیات کے ساتھ کھڑے ہیں جنہیں چاروں طرف نظر گھما کر دیکھنے میں آسانی ہوتی ہے۔ اگر صدر پاکستان ایسے لوگوں کی نشاندہی کرکے فضا ہموار کردیں تو عوام کو لٹیروں سے نفرت میں آسانی ہوسکتی ہے اور سسٹم ان لٹیروں کا خودمحاسبہ کرسکتا ہے۔بس وہ سسٹم کو کرپشن سے نفرت کرنا سکھا دیں اور اسکے ساتھ کھڑے ہوجائیں ۔کیونکہ یہ حقیقت ان سے چھپی ہوئی نہیں کہ انکی اپنی جماعت میں بھی لٹیرے موجود ہیں ،جو صاف دامنی کا دعوی کرتے ہیں ۔صدر پاکستان اگر سسٹم کے ساتھ کھڑے ہوجاتے ہیں تو سب لٹیروں کا حساب کرنے میں آسانی ہوجائے گی۔جہاں تک ہماری مروّجہ گندی سیاست کا حال ہے تو اسکا جوش دیدنی ہے۔واہ۔کیا جوش ایمان ہے کہ ہر سیاستدان اپنا دامن خود نچھوڑ کر بیان فرماتا ہے کہ وہ کرپشن سے پاک ہے لیکن نیب اور پانامہ لیکس کے علاوہ مدمقابل سیاستدان ایک دوسرے کے وہ وہ کھاتے بیان کررہے ہیں کہ فرشتے تو کجا ابلیس بھی انکے دامن کے چھینٹوں سے بچنا چاہ رہا ہے۔
پاکستان میں کرپشن ایک طاقت کی علامت بن چکا ہے جسے حاصل کرنا ہر کوئی اپنے لئے جائز سمجھتا ہے۔یہ کرپشن یکایک کسی لٹیرے سیاستدان کے خون میں شامل نہیں ہوتی ۔اسکا سیاسی کیریر دیکھ لیا جائے تو معلوم ہوجائے گا کہ موصوف بدعنوانی کی گندی نالیوں میں تیرتے تیرتے کرپشن کی گنگا میں اترے تو ایک مایہ ناز تیراک بن چکے ہوتے ہیں۔پاکستان میں فارمولہ سیاست چلتی ہے اور اسکا الجبراجبڑے توڑ کر حل کیا جاتا ہے۔اسکی کیمسٹری کا فارمولا بھی نرالا ہوتاہے، گلے محلوں اور قصبوں پھر شہروں سے کن ٹٹوں کا کچرا اٹھا کر ایسا کیمیکل بنایاجاتا ہے کہ یہ زہریلے تیزاب اور بدبودار شراب سے زیادہ خطرنا ک ثابت ہوتا ہے ۔اس لٹیرے کومعاشرتی علوم پڑھایاجاتا ہے تووہ نیا جغرافیہ پیدا کردیتاہے،اسے سوشیالوجی پڑھائی جائے تو اسے سماج سیوا میں معاشی چمک لبھانے لگتی ہے۔قوم ان سے اس وقت سے ہی نفرت شروع کردیتی ہے جب وہ پروان چڑھ رہا ہوتا ہے لیکن سسٹم قوم کو لاچار بنادیتا ہے۔لہذا جب لٹیراسیاستدان سیوا کا نعرہ لیکرنکلتاہے تو ہم خیال ٹولے اسکے ساتھ چلتے ہیں اور اسکے قافلہ میں دلالوں اور ایجنٹوں کے کھوے سے کھوا چھلتا ہے۔پاکستان میں اقتدار میں رہنے والے اور جو اقتدار کے لئے کوشاں ہوتے ہیں ،انکی چولیوں کے پیچھے لٹیرے عام نظر آتے ہیں۔رینجرزنے ایسے لٹیروں کو پکڑ رکھا ہے،نیب نگاہیں جما کر بیٹھی ہے ان پر۔۔یہ لٹیرے سیاستدانوں اورحکمرانوں کے وہ یاردوست ہیں جو جیبیں اور سر کاٹ کر اقتدار کی فصل کاشت کرتے اور ملک کو بالاخر ’’کرپشن لینڈ‘‘بناکر دم لینا چاہ رہے ہوتے ہیں۔اس خوف و ہراس ،بدامنی اور دہشت گردی کا بنیادی سبب کیا ہے؟صدر پاکستان ممنون حسین بھی سچ کہتے ہیں اور جنرل راحیل نے  پہلے سے کہہ رکھاہے کہ دہشت گردی کی جنگ جیتنے کے لئے سہولت کاروں اور ان کے نیٹ ورک کو توڑنا ہوگا،کرپشن پر پکڑ کرنی ہوگی۔میڈیا پر آنے والی رینجرز اور حساس اداروں کی رپورٹس سے نتیجہ سامنے آچکا ہے کہ دہشت گردوں کو فنڈنگ کرپٹ نظام چلانے والوں کی جانب سے ہورہی تھی،گزشتہ ایک سال کے دوران ان تمام سفاک مجرموں کے بیانات سن کر دیکھ لیجئے کہ انہوں نے کن کن صاحبان اقتدار کے زیرزمین کارندوں کا کردار ادا کرکے قومی اداروں سے بھتے لئے،ناجائز کمیشن وصول کئے،سمندر بیچ دئے،زمینیں ڈکار لیں،سونے چاندی اور جواہرات کے پہاڑ بیچ دئیے ۔پانامہ لیکس،سوئس اکاونٹس،دبئی رئیل اسٹیٹس ،سرے محل،لندن سے بارسلونا تک فلیٹس کی رپورٹس پاکستان میں انکی لوٹ مار کی داستانیں بیان کرتی ہیں۔کاش کہ صدر پاکستان ممنون حسین کرپشن کی لامتناعی داستانوں کی حقیقت جان کر قوم کی اس بارے میں رہ نمائی بھی فرمادیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *