مجھے ہندوستان سے نفرت ہرگز نہیں!

jean sartre

جان ساتر

میری بعض تحاریر سے چند احباب یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ میں ہندوستان سے شدید نفرت کرتا ہوں اور خدانخواستہ اس کی بربادی کا خواہشمند ہوں ۔۔۔۔ میں اس بات کی وضاحت کرنا ضروری خیال کرتا ہوں کہ ایسا سوچنا قطعی غلط ہے ۔۔۔ ہند اور اہل ہند سے نفرت کوئی ایک وجہ بھی تو میرے پاس نہیں۔۔۔ اگر میں نسلی بنیاد پر سوچوں تو میری جڑیں اسی سرزمین میں گڑی ہیں، میرا نصف سے زیادہ خاندان آج کے ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آیا تھا، بقیہ لوگ پہلے سے موجودہ پاکستان میں آباد تھے۔۔۔ اگر میں قدامت پسند مسلمان کے طور پر ہندوستان کو دیکھوں تو خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ، حضرت صابر کلیری ، حضرت خواجہ گیسو دراز اور حضرت نظام الدین اولیاء کی سرزمین مجھے محبوب ہی ہو سکتی ہے ۔۔۔ اگر میں استعمار مخالف نظر سے دیکھوں تو ٹیپو سلطان، منگل پانڈے اور بخت خان اسی زمین سے جڑے نظر آتے ہیں ۔۔۔۔ اگر ترقی پسند نظریات کو سامنے رکھوں تو بھگت سنگھ شہید اور سبھاش چندر بوس کھڑے نظر آتے ہیں ۔۔۔ اگر زبان و ادب کے دریچے وا کروں تو میر و غالب کی زمین مجھے اپنی جانب کھینچتی ہے اور اگر جدید عہد کی نظر سے دیکھوں تو ہند کی سرزمین پر ڈاکٹر جیوتی باسو اور ارون دھتی رائے جیسے روشن مینار نظر آتے ہیں ۔۔۔ اور اگر ایک عام انسان کی نظر سے دیکھوں تو قدرت کے پیدا کردہ کروڑوں اربوں انسان نظر آتے ہیں جنہیں قدرت ان کے مذہب و نظریات سے مکمل لاتعلق ہو کر ہوا پانی اور خوراک دیتی ہے۔۔۔۔ اس زمین پر جگجیت سنگھ ساندل ، ڈاکٹر پریا شرما اور پونم ڈوگرہ جیسے مخلص ذاتی دوست بھی رہتے ہیں تو بدر کاظمی جیسے بھائی بھی ۔۔۔۔
ہاں مجھے نفرت ہے تو اس مہا سبھائی سوچ سے، میری مخالفت ہے تو راشٹریہ سیوک سنگھ اور بجرنگ دل جیسی تنظیموں کے نظریات سے جو پاکستان ہی نہیں، ہند کے مسلمانوں سمیت ہر اقلیت کا وجود مٹانے پرکمر بستہ رہتی ہیں ۔۔۔ گو ایسی پست سوچ والی جماعتیں پاکستان میں بھی ہیں لیکن یہاں ان کی عوامی حیثیت اُدھر کی نسبت کافی کم ہے تاہم میرے لیے وہ بھی اسی قدر قابل نفرت ہیں ۔۔۔۔
آپ کی خدمت میں صرف یہ عرض ہے کہ میری تمام تر مخالفت صرف پاکستان دشمنوں کی حد تک محدود ہے، چاہے ان کی تعداد پچاس لاکھ ہو یا پچاس کروڑ ۔۔۔۔ یہ لوگ بھارت سرکار میں شامل ہوں یا نہ ہوں ۔۔۔۔ میں ان کے خلاف بات کرتا رہوں گا ۔۔۔۔۔ باقی اہل ہند جو یقیناً اکثریت میں ہیں میرے لیے اسی طرح محترم اور قابل عزت ہیں جیسے پاکستانی یا دنیا بھر کے اچھے اور محبت کرنے والے لوگ!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *