جانوروں کے درمیان!

Photo Attaul Haq qasmi sb

گزشتہ روز چڑیا گھر کے سامنے سے گزرتے ہوئے ایک دفعہ پھر جی چاہا کہ ایک چکر اندر کا لگا لوں مگر پھر وہ اخباری خبر یاد آگئی جس میں بتایا گیا تھا کہ ایک پنجرہ خالی پڑا ہے۔ دراصل مجھے جانوروں سے اتنی زیادہ دلچسپی ہے کہ صورت حال
رانجھا رانجھا کر دیاں
میں آپے رانجھا ہوئی
والی ہوگئی ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ جس اخباری خبر نے مجھے لمحہ بھر کے لئے اندر جانے سے روکا تھا۔ اس پر میرے اندر کی خواہش غالب آگئی اور میں نے گاڑی کا رخ چڑیا گھر کے دروازے کی طرف موڑ دیا۔
مجھے سب سے زیادہ دلچسپی بھیڑیوں اوردوسرے خونخوار جانوروں سے ہے۔ چنانچہ میں سیدھا ایک بھیڑیے کے پنجرے کی طرف گیا، وہاں میں نے دیکھا کہ وہ کمبل اوڑھے لیٹا ہے۔ میں نے اسے پوچھا خیریت ہے؟ بولا ’’بخار سے پھنک رہا ہوں، اتنی گرمی میں بھی مجھ پر سردی سے کپکپی طاری ہے اور تم پوچھتے ہو میں خیریت سے ہوں‘‘۔
میں نے کہا ’’کچھ عرصہ پیشتر میں آیا تھا تم تو ناظرین کو مکا دکھا رہے تھے بلکہ تم نے تو ایک بچے کو زخمی بھی کردیا تھا۔ ’’بولا، اس وقت میں صحت مند تھا، مگر طاقت کے باوجود لوگوں کو مکا نہ دکھایا جائے تو بھیڑیا بننے کا کیا فائدہ؟‘‘ اتنے میں چڑیا گھر کا ناظم میرے پاس آیا وہ میرا پرانا جاننے والا ہے۔ اس نے مجھے مخاطب کیا اور کہا ’’سر جی اسے کوئی بخار و خار نہیں، یہ صرف ڈرامہ ہے تاکہ اسے دوبارہ جنگل میں بھیج دیا جائے!‘‘ میں نے پوچھا ’’اگر ایسا ہے تو پھر تم نے اسے کمبل کیوں فراہم کیا ہے؟‘‘ اس نے جواب دیا ’’یہ ہماری مجبوری ہے، چڑیا گھر کے قواعد کے مطابق ہمیں یہ کرنا ہی تھا چنانچہ اس کے پنجرے کو اسپتال قرار دے دیا گیا ہے، اب ڈاکٹر اس کے چیک اپ کے بعد فیصلہ کریں گے کہ اگر یہ بیمار ہے بھی تو اس کی بیماری کی نوعیت کیا ہے؟‘‘ میں نے اس سےپوچھا کہ اگر ڈاکٹروں نے بھی اسے بیمار قرار دے دیا تو پھر تم کیا کرو گے۔ اسے واپس جنگل میں جانے دو گے؟ بولا ’’میں تو اس سے جان چھڑانا چاہتا ہوں کیونکہ اس نے کئی مرتبہ پنجرے کے پاس کھڑے لوگوں پر حملہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ جنگل میں ہوگا تو جانوروں کے درمیان ہوگا۔ اس کے بعد وہ جانیں اور یہ جانے۔ ہماری جان تو چھوٹ جائے گی!‘‘ بھیڑیا یہ ساری گفتگو کان لگا کر سن رہا تھا، آخری بات پر وہ کھل اٹھااور چڑیا گھر کے ناظم کو مخاطب کر کے بولا ’’اے بھائی ناظم اللہ تمہیں حج کرائے۔ یہ بات ایک دفعہ پھر کہو‘‘ اور اس کے ساتھ ہی اس نے کمبل پرے پھینک کر بھنگڑا ڈالنا شروع کردیا!
اب میں نے ایک بن مانس کے پنجرے کا رخ کیا۔ یہ جانور چیرپھاڑ کرنے والا نہیں ہے۔ ڈار ون کے مطابق یہ انسان کی ارتقائی شکل ہے مگر میں اس تھیوری کو نہیں مانتا کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو اسے انسان ہی کی طرح حیوان ہونا چاہئے تھا بہرحال اس سے میری دلچسپی کی وجہ اس کا نقال ہونا ہے بلکہ میں اس کی ایک برتری کا بھی قائل ہوں، انسان تو دوٹانگوں پر اکڑ اکڑ کر چلتا ہے جبکہ بن مانس اپنی اوقات نہیں بھولا، وہ دو ٹانگوں پر چلنے کے علاوہ دوسرے جانوروں کی طرح اپنی چاروں ٹانگوں سے بھی چلتا ہے تاکہ دوسرے جانوروں کو احساس ہو کہ وہ بھی انہی میں سے ہے۔ ہماری بیوروکر یسی کے چند افراد کو بھی کبھی کبھی چاروں ٹانگوں پر چلنا چاہئے، چاہے اس کے لئے انہیں دل پر پتھر ہی کیوں نہ رکھنا پڑے، اس کے بعد میں ایک بندر کے پاس گیا تو اس نے دانت نکال کر ’’کھی کھی‘‘ کرتے ہوئے میرا استقبال کیا۔ شاید اس نے بھی مجھے پہچان لیا تھا بلکہ اس کے پرتپاک استقبال سے تو مجھے یہ خدشہ لاحق ہوا کہ وہ کہیں میرے ساتھ کوئی رشتہ داری بھی نہ نکال لے، میں نے کہا ’’سنائو برادر عزیز کیا حال ہے؟‘‘ بولا ’’حال کیا ہونا ہے چڑیا گھر والے کیلے نہیں کھلا رہے، کل ایک بچے کے ہاتھ سے چھین کر کھانا پڑا‘‘ میں نے کہا ’’تمہیں دوسروں کا مال چھینتے ہوئے شرم نہیں آئی؟‘‘ بوالا ’’یہ تمہارے بڑے بڑے لوگ جنہیں تم جھک جھک کر سلامیں کرتے ہو انہیں دوسروں کے مال سے عیش کرتے ہوئے شرم آتی ہے؟‘‘ پھر اس نے قہقہہ لگایا اور بولا ’’میں تو پھر حیوان ہوں، وہ تو خیر سے خود کو انسان بھی کہلاتے ہیں‘‘ بات تو ٹھیک کررہا تھا مگر اس وقت اس کی حوصلہ افزائی مناسب نہیں تھی۔ میں نے غصے سے کہا ’’بے غیرت انسان، سوری بے غیرت حیوان منہ سنبھال کر بات کرو، یہ بات تم اپنے سامنے کھڑے انسان کے منہ پر کہہ رہے ہو؟‘‘ یہ سن کر اس نے ایک اور بھرپور قہقہہ لگایا اور بولا ’’یار اب میرے سامنے تو یہ بات نہ کرو۔ میں نہیں جانتا تم کون ہو؟‘‘ اس پر میں گھبرا گیا اور کہا ’’یار خدا کے لئے آہستہ بولو، اردگرد بہت سے لوگ کھڑے ہیں اور وہ بھی خود کو انسان ہی سمجھتے ہیں!‘‘
کہنے لگا ’’ایک شرط پر آہستہ بولوں گا؟‘‘ میں نے پوچھا ’’وہ کیا؟‘‘ بولا ’’یہ جو شخص سامنے سے آرہا ہے اور جس کے ہاتھ میں کیلوں سے بھرا شاپنگ بیگ ہے اسے کسی طریقے سے میرے پنجرے کی سلاخوں کے قریب لے آئو ورنہ .....‘‘ میں نے پریشانی کے عالم میں کہا ’’ٹھیک ہے، ٹھیک ہے، اب اپنی بکواس بند کرو‘‘اتنے میں وہ شخص پنجرے کے پاس آکر کھڑا ہوگیا اور پوری محویت سے بندر کو دیکھنے لگا۔ بندر اسے خوش کرنے کے لئے قلابازیاں لگانے لگا۔ کیلوں کے تھیلے والے شخص نے مجھ سے پوچھا’’جناب، یہ کوئی کالم نگار یا اینکر ہے؟‘‘ میں نےکہا ’’نہیں بھئی بندر ہے، تمہیں اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں، اس کے قریب جا کر اس سے ہاتھ ملائو!‘‘ یہ سن کر وہ بے وقوف آدمی آگے بڑھا اور اپنا دایاں ہاتھ مصافحہ کے لئے سلاخوں کے اندر بڑھایا ہی تھا کہ بندر نے اس کے بائیں ہاتھ میں لٹکا کیلوں والا شاپر جھپٹ لیا، اس پر وہ شخص گھبرا کر پیچھے ہٹ گیا اور مجھے مخاطب کر کے کہا ’’جناب، آپ نے تو کہا تھا کہ یہ بندر ہے‘‘ اس دوران بندر نے چھلکا اتار کر کیلے کھانے شروع کیے اور چھلکے پنجرے کے باہر پھینکنے لگا، تاہم اس نے ایک کیلا میری طرف بڑھایا اور کہا ’’لو تم بھی کھائو، یہ تمہارا کمیشن ہے؟‘‘ در فٹے منہ، آخر وہ بندر ہی نکلا! یہ بھی کوئی کمیشن ہے، کمیشن تو اربوں میں ہوتا ہے۔

loading...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *