اسرائیلی کلب کے میچ میں فلسطینی پرچم کس نے لہرایا؟

اسکاٹش کلب سیلٹک کےمداحوں نے اسرائیل کے فلسطین پر قبضے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے میدان میں پرچم لہرائے—فوٹو:رائٹرز

اسکاٹ لینڈ کے فٹ بال کلب گلاسگو سیلٹک کے مداحوں نے فٹبال میچ میں سیاسی احتجاج پرپابندی کو نظر انداز کرتے ہوئے اسرائیلی کلب ہیپوئیل بیرشیوا کے خلاف میچ میں فلسطین کے پرچم تھامے اسرائیلی قبضے کے خلاف بھرپور احتجاج کیا۔ مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ کے مطابق اسکاٹش کلب سیلٹک اور اسرائیلی کلب ہیپوئیل بیر شیوا کے درمیان بدھ کو چمپیئنز لیگ کوالیفائرز کے میچ سے قبل فلسطین الائنس نامی گروپ فلسطینی پرچم کے ساتھ ساتھ 1948 کی جنگ میں ہونے والی تباہی اور اسرائیل کی تخلیق کے نتیجے میں لاکھوں فلسطینیوں کوبے گھر کیے جانے کی تفصیلات کے حامل نکبہ کے کتابچے ساتھ لے کر آئے۔

سیلٹک پارک کے باہر کھڑی پولیس نے مداحوں کو خبردار کیا کہ وہ پرچم اسٹیڈیم کے اندر نہ لے کر جائیں لیکن وہ نہ مانے۔ دوسری جانب سیلٹک کو مداحوں کو احتجاج کی اجازت دینے پر یورپین فٹ بال فیڈریشن (یوئیفا) کی جانب سے جرمانہ ہوسکتا ہے لیکن کچھ مداحوں کا کہنا تھا کہ وہ ایونٹ میں اسرائیل کی شمولیت کی مخالفت کرتے ہوئے کسی بھی قسم کا ہرجانہ ادا کرنے کو تیار ہیں۔

اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ کے مطابق فلسطین کے حق میں مظاہروں کی تیاری ایک ہفتے سے کی جارہی تھی، فیس بک پر ایک گروپ میں 'فلائی دی فلیگ آف فلسطین، فار سیلٹک، فار جسٹس' کے عنوان سے 8 سو سے زائد لوگ شامل تھے۔ گروپ کے بانیوں نے سیلٹک کے مداحوں سے بائیکاٹ، بے نقاب(ڈائیوسٹمنٹ) اور پابندی(سینکشنز) (بی ڈی ایس) تحریک کی حمایت کرنے کی درخواست کی ہے۔ گروپ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینی شہریوں کے خلاف نسل پرستی، بربریت اور لاتعداد خونی واقعات پر ہماری مخالفت کے جمہوری حق پر لوگوں کو اظہار خیال کرنا چاہیے'۔

گروپ کا کہنا ہے کہ یوئیفا کو اسرائیل اور ان کی پالیسیوں کی حمایت نہیں کرنی چاہیے۔ مقامی اخبار ڈیلی ریکارڈ کی خبر کے مطابق اسکاٹ لینڈ کی پولیس نے کلب کے مداحوں پر زور دیا کہ وہ فلسطینی جھنڈوں کو نہ لائیں جبکہ انھیں گرفتار کرنے کی دھمکیاں بھی دیں۔شائقین کی بڑی تعداد اپنے ساتھ فلسطینی پرچم کے ساتھ ساتھ نکبہ کے کتابچے بھی لے کر آئی۔ فوٹو رائٹرز

گلاسگو کے رہائشی اور سیلٹک کے بڑے مداح عبدالحسین نے بدھ کو ہوئے مذکورہ مقابلے کو براہ راست دیکھا بعد ازاں انھوں نے مڈل ایسٹ آئی کو بتایا کہ کئی مداح فلسطین کی حمایت کرنے کی کوئی بھی قیمت ادا کرنے کو تیار تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'اسکاٹ لینڈ کے لوگوں اور سیلٹک کے مداحوں نے بڑی تعداد میں فلسطین کی حمایت کی'۔ انھوں نے کہا کہ 'سیلٹک کے مداح قوانین اور مقام کی تفریق کیے بغیر فلسطین کی حمایت کریں گے اور ہیپوئیل کے خلاف میچ میں سیلٹک کے حامیوں کا فلسطین کے ساتھ کھڑے ہونے کا نہ ہی پہلا واقعہ تھا اور نہ ہی آخری موقع ہے'۔

واضح رہے سیلٹک کے لیے فلسطینی پرچم کے تنازع میں ملوث ہونے کا یہ پہلا موقع نہیں ہے، اس سے قبل 2014 میں آئس لینڈ کے ایک کلب کے خلاف میچ کے دوران فلسطینی پرچم لہرائے جانے پر یوئیفا نے 18 ہزار ڈالر سے زیادہ کا جرمانہ عائد کیا تھا۔ یوئیفا نے کہا تھا کہ سیاسی خیالات کے اظہار پر پابندی کے قانون کو توڑتے ہوئے پرچم لہرانے پر جرمانہ کیا گیا ہے۔ سیلٹک نے ہفتے کے آغاز میں کھیلے گئے میچ میں 2-5 سے کامیابی حاصل کی تھی اور یوئیفا چمپیئنز لیگ جیسے ایونٹ کے گروپ مرحلے کے لیے ممکنہ طور پر کوالیفائی کرلے گا :-

اسرائیلی کلب کے میچ میں فلسطینی پرچم کس نے لہرایا؟” پر ایک تبصرہ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *