ساس سے شادی کرنے والے مرد نے اپنی پہلی بیوی کے لیے انوکھا اعلان کردیا!

نئی دہلی -قیامت کی نشانی ہے کہ بھارت میں ایک 42سالہ خاتون نے اپنی 19سالہ بیٹی کے شوہر سے بیاہ رچا لیا اور اس پر مستزاد یہ کہ بیٹی کو بھی اپنے ساتھ ہی رہنے دعوت دے ڈالی۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق آشا دیوی نامی خاتون کا 22سالہ داماد سورج مہتو بیمار تھا۔ اس دوران وہ ان کے گھر رہنے کے لیے چلی گئی۔ کچھ دن تک وہ داماد اور بیٹی کے گھر میں رہی اور اس کی تیمارداری کرتی رہی۔ اس دوران دونوں محبت میں گرفتار ہو گئے۔ کچھ دن وہاں رہ کر آشا واپس اپنے گھر تو چلی گئی مگر دونوں میں طویل فون کالز کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ بالآخر دونوں نے شادی کا فیصلہ کیا۔ پہلے کورٹ میرج کی اور پھر روایتی طریقے سے مندر میں۔
آشاد دیوی اور سورج مہتو نے رواں سال یکم جون کو شادی کی تھی۔ اب دو ماہ بعد ہی ان کے سر سے عشق کا بھوت اتر گیا ہے۔ اب وہ اپنی اس شادی کو پاگل پن قرار دے رہے ہیں اور طلاق لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔اب سورج مہتو کا کہنا ہے کہ ”مجھے احساس ہو گیا ہے کہ میں نے یہ احمقانہ حرکت کی تھی۔ میں اپنی غلطی کا اعتراف کرتا ہوں اور وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ ایسا نہیں کروں گا۔ اب میں آشادیوی کو اپنی بیوی نہیں سمجھتا۔ اب میں ایک ماں کی طرح اس کی عزت کرتا ہوں۔ میں واپس جا کر گھٹنے ٹیک کر اپنی بیوی للیتا سے معافی مانگوں گا۔“ دوسری طرف آشا دیوی بھی اپنی اس حرکت پر نادم ہے اور کسی طرح اس کی تلافی چاہتی ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ ”اب میں بھی سورج کو اپنا شوہر نہیں بلکہ داماد سمجھتی ہوں۔ ہم نے عدالت میں طلاق کے لیے درخواست دائر کر دی ہے۔ میں جلد از جلد اپنے پہلے شوہر کے پاس واپس جانا چاہتی ہوں۔“
واضح رہے کہ آشا دیوی اور سورج نے خاندان اور گاﺅں والوں کی مخالف کے باعث گھر سے بھاگ کر شادی کی تھی اور اب بھی اپنے آبائی گاﺅں سے دور رہائش پذیر ہیں۔ آشادیوی کا پہلا شوہر، جو نئی دہلی میں ایک فیکٹری میں مزدوری کرتا ہے، اپنی بیوی کی اس قبیح حرکت کے بعد اپنی بیٹی للیتا کو واپس اپنے گھر لے آیاتھا۔ علاقے کی پنچایت نے بھی آشا اور سورج کی شادی کو جائز قرار دے دیا ہے۔ پنچایت کا کہنا تھا کہ ”وہ دونوں ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے ہیں اس لیے انہیں جدا نہیں کیا جا سکتا“ :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *