اس کے بعد کیا ہوگا؟

shahid nazir choudhri

پاکستان میں میڈیا کو آزاد اور خوشحال سمجھا جاتا ہے۔یہ مکمل سچ نہیں ہے۔ اس انڈسٹری کے کارکن غلام اور مفلوک حال ہیں ۔یہ کھلے عام قتل بھی ہوتے ہیں اور سسک سسک بھی مررہے ہوتے ہیں۔پاکستان میں خوشحال صحافیوں کی’’ کارپوریٹ کمیونٹی‘‘ کا عام کارکن صحافی سے موازنہ نہیں کرنا چاہئے۔عام صحافی توانتہائی پڑھا لکھا ہوکر بھی سڑک پر کھڑے مزدور سے کم اجرت پر نوکری کرتا اور وہی جلسے جلوسوں میں مرتااور زخمی ہوتا ہے۔ ریاست بچانے اور قوم کو دہشت گردی کے خلاف کھڑا کرنے اور اس کاشعور اجاگر کرنے سمیت بہت سے مثبت اور جراتمندانہ کام ان عام صحا فیوں کی قدروقیمت میں اضافہ کرتے ہیں لیکن پاکستان میں اس طبقہ کے صحافی بہت زیادہ غیر محفوظ ہوچکے ہیں،اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔آج اگرپاکستان دہشت گردی کی جنگ جیت رہا ہے تو اس میں صحافیوں کا نمایاں کردار ہے۔کرپٹ مافیاؤں سے ٹکر لے کروہ جان سے بھی گذرجاتے ہیں ۔ گویا آج کے صحافی ملک کی فکری اور نظریاتی ہی نہیں جغرافیائی سرحدوں کے بھی امین بن چکے ہیں حالانکہ یہ کام پولیس اور عسکری ادارے سرانجام د ے کربے پناہ مراعات لیتے اور آسودہ زندگی کا خواب پورا کرتے ہیں لیکن صحافی کو نہ سٹیٹ کی جانب سے اور نہ ہی’ سیٹھ ‘کی طرف سے جان ومال کا تحفظ ملتا ہے۔ہمارے پالیسی ساز اور ملک کی سلامتی کے ادارے اس بات کا قطعاً خیال نہیں رکھ رہے کہ جب دنیا بدل رہی ہے تو ملکوں کو صرف عسکری بنیادوں پر محفوظ نہیں بنایا جاسکتا بلکہ سٹریٹجک وار اور نیشنل پروفائلز کے لئے میڈیا کو فرنٹ لائن پر کھڑا کرنا ضروری ہوگیاہے۔ اس تناظر میں جب ہم میڈیا کارکنوں کی افادیت اور انکی خدمات کا جائزہ لیتے ہیں توسر فخر سے بلند ہوجاتا ہے لیکن افسوس کہ انکی فلاح اور تحفظ کے لئے کوئی مستقل اقدام نظر نہیں آتا حالانکہ صحافیوں کے خون سے مُلک اور ’مالک‘کی ترقی کے چراغ جل اٹھتے ہیں مگر خود انکے گھر کا دیا بجھا ہوتا ہے۔صحافیوں کو مالی تحفظات فراہم کرنے کے لئے عدالتیں اور ویج بورڈ پائیدار کام کرکستے ہیں۔اس معاملہ یہ ہے کہ ویج بورڈٹربیونل کی کارکردگی انتہائی سست اور کارکن دشمن ہوچکی ہے۔دوسری جانب عدالتوں میں انصاف کے لئے دھکے کھاتے کارکنوں کی حالت زار کو ملاحظہ کیا جاسکتاہے۔ کرپٹ عدالتی نظام ان کے کیسوں کو سالہا سال تک لٹکاتا ہے تو ظالم میڈیا مالکان عدالتی اور حکومتی رسوخ کو انکے خلاف استعمال کرنے میں لحاظ نہیں کرتے۔میڈیا مالکان ملک کے قانون اور انسانی حقوق کی کوئی پراوہ نہیں کرتے اور اسکا اندازہ ایک عام شخص کو بھی ہے ۔میڈیا مالکان کی کارکن کشی کا ایک حل بڑا سادہ ہے۔پاکستان میں بہت سے میڈیا ہاؤسز جنہیں سیاسی حکومتیں اشتہارات سے مالا مال کرتی ہیں اور وہ دنوں میں ارب پتی بن جاتے ہیں،انہیں لیبر لاء کا پابند اور ویج بورڈ کے تقاضے پورے پر مجبور کیا جائے ۔یہ ماہانہ کروڑوں روپے کماتے ہیں لیکن کئی ماہ تک کارکنوں کو تنخواہ نہیں دیتے۔عام طور پرزیادہ ترمیڈیا ہاؤسزکارکن صحافیوں کو بنیادی قانونی حقوق نہیں دیتے ۔ حکومت چاہے تو سرکاری اشتہارات کو کارکنوں کو دی جانے والی مکمل قانونی مراعات سے مشروط کرسکتی ہے اور ویج بورڈ میں قابل اور دیانتدار چئرمین تعینات کردیا جائے تو صحافیوں کے گھر کے چولہے جلنا شروع ہوجائیں گے۔
دوسری جانب صحافیوں کی جان کو لاحق خطرات کا سدباب کرنا انتہائی ضروری ہے۔اس کے لئے قوانین سخت ہونے چاہیں ۔جیسے ابھی کل
ہی کراچی میں اے آر وائی کے دفتر پر ایم کیو ایم کے کارکنوں نے حملہ کرکے صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے ،یہ کوئی عام بات نہیں جسے نظر انداز کردیا جائے۔ویسے تومیڈیا ہاؤسز پر حملوں اور صحافیوں پر کھلے عام تشدد سمیت کئی گھناؤنے اقدامات کرناایم کیوایم کی روایت رہی ہے۔لیکن دوسری جماعتوں کی آستینوں میں بھی ایسے ناگ چھپے ہوتے ہیں جو میڈیا ہاوسز اور صحافیوں کو مارتے ہیں۔خیر ایم کیو ایم تو اس حوالے سے نمبر ون ہے۔اپنی ابتداء سے ہی اس نے غنڈہ گردی اور دہشت گردی کو سیاست کا ہتھیار بنایا اور صحافیوں کے بیوی بچوں کو ماردینے کا خوف دلا کر اپنی کوریج کرانے میں لگی رہی ہے۔کئی صحافیوں کے قتل بھی ایم کیو ایم کے سر پر ہیں لہذا جس جماعت کی آنکھوں میں خون اُتر آئے اسے اقتدار اور سیاست کی راہ پر ایک رہبر کی حیثیت کیسے دی جاسکتی ہے۔حالیہ واقعہ پر وزیر اعظم اور آرمی چیف سمیت ملک بھر سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور رینجرز نے ایم کیو ایم کے ہڑتالی کیمپ کو بھی اکھاڑ دیا اور فاروق ستار کو پریس کانفرنس سے روک کر آپنے ساتھ لے گئی ہے جس سے اس بات کی قوی امید کی جارہی ہے کہ کراچی کو اپنی جاگیر سمجھنے والی جماعت اپنی شرپسندی کی وجہ سے انجام تک پہنچنے والی ہے۔لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کے بعد کیا ہوگا ؟ کیا میڈیا ہاوٗسز اور کارکن صحافیوں کوجانی اور مالی تحفظ دینے کے لئے خصوصی اقدامات کئے جائیں گے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *