الطاف حسین کا خاتمہ ؟ انا للہ وانا الیہ راجعون !

naeem-baloch1بغیر کوئی لگی لپٹی رکھے، ناسو ر خود الطاف حسین ہے ، اس ملک کے لیے ،کراچی کے لیے، اپنے انتہائی لکیر کے فقیر قسم کے پیروکاروں کے لیے ۔
جس نے اپنے نظریے کو بیچا ، اپنے حمایتیوں کے جذبے کو بیچا ، ان کے خون کی قیمت وصول کی ، اے نیم پاگل ، خودغرض ،دہشت گرد ،تشدد پسند نفسیاتی مریض قسم کے شخص،تم مردہ باد!
جس نے جائز حق ناجائز طریقے سے حاصل کرنا سکھایا ، پاکستان کے صنعتی اور تجارتی مرکز کا امن و امان تباہ کرکے کراچی کو دنیا کا تیسرے نمبر کا خطرناک ترین شہر بنا دیا۔پاکستان سٹیل ، پی آئی اے ، کراچی پولیس، ریلوے کو تباہ برباد کرنے میں سب سے اہم کردار ادا کیا ۔ پاکستان میں بھتہ خوری کو کاروبار کا درجہ دیا ، قبضہ مافیا ، بلیک میلنگ کو کراچی کا چہرہ بنا دیا ۔اس شخص پر اللہ ، اس کے رسول ، سارے پاکستانیوں ، اس کی مافیا کے ہاتھوں جان کی بازی ہارنے والے ہزاروں بے قصور شہریوں کی لعنت ہو ، ان شاء اللہ اب اس کا قصہ ہمیشہ کے لیے تمام ہوا!
مادر وطن کے خلاف زبان دراز کرنے والے ،ابے ،عینک والے ڈڈو، تم اب محض تاریخ ہو !
اور کچھ سوال ان سے جو اس تحریک سے وابستہ رہے ہیں : یہ بکواس آپ جانتے ہیں کہ نہیں چل سکے گی کہ ایم کیو ایم کوئی خالص سیاسی تحریک تھی ، نہیں یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ یہ ان لوگوں کی تحریک ہے جنھوں نے سیاسی فوائد غنڈہ گردی ، بھتہ خوری ، بلیک میلنگ اور قتل وغارت گر ی سے حاصل کرنے کی حکمت عملی اپنائی ۔ ڈاکووں کے گروہ میں سے اگر کوئی ڈاکے کے دوران میں مارا جائے تو وہ قربانی نہیں کہلاتی ،اس لیے قربانیوں کی کہانی اور سیاسی جدوجہد کے افسانے کسی اور کو سنائیں ۔ آپ کو جن شرائط کے ساتھ آپ کے سابقہ آقا معاف کر رہے ہیں ، اس پر غور کر لیں ورنہ آپ بھی عوامی لیگ بن جائیں، لیکن یاد رکھیں آپ کے شیخ مجیب کو نہ کوئی یحییٰ خاں میسر ہے ، نہ اندرا گاندھی اور نا کوئی بھٹو!
اور آخر میں کچھ تلخ سوالات سیاسی اور اسٹیبلشمنٹ سے پوچھنے کی اجازت دیجیے !
اپنا چہرہ چھپا کر دوسرے کے ذریعے سے کام کرنے کی پالیسی کا آغاز اس وقت شروع ہوا جب کشمیر کی اولین لڑائی میں جنرل اکبر خان کو رخصت دے کر کشمیر کے محاذ پر مجاہدین اور قبائلیوں کی سپہ سالاری کے لیے بھیج دیا گیا ، پھر جب اس نے اس وقت کی سیاسی قیادت کایاد کرایا ہوا سبق تبدیل کرنے یابھولنے سے انکار کر دیا ، تو اس نے ’’پنڈی سازش‘‘ کر ڈالی ۔ اس کے بعد ایوب خان نے اپنے سیاسی لے پالک ذوالفقار علی بھٹو کی پرورش کی۔ جب اپنی خداداد لیاقت اور سیاسی فراست کی وجہ سے اس کاقد ایوب خان سے بھی بڑھ گیا تواس کے آگے بندھ باندھنے کی پوری کوشش کی۔ لیکن وہ ایوب خان اور یحییٰ خاں دونوں کو شکست دے کر اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ۔ یعنی پورے سیاستدان بن گئے تو اسے راستے سے ھٹانا پڑا۔ اس کے بعد ضیاء الحق نے نواز شریف کی تربیت کی۔ ان کا راستہ ہموار کیا، آنجہانی حمید گل اور ان کے ساتھیوں نے انھیں تخت پر بٹھا دیا،جب ان سے بھی بھٹو کی طرح کی ’’بو‘‘ آنا شروع ہوتی تو اسے بھی کارگل کی پہاڑیوں سے دھکا دے کر نعرہ لگایا کہ’’ ڈیو نہ کیا تو پھر کیا جیا ‘‘ لیکن وہ قسمت کا دھنی نکلا اورپھسلتے ہوئے اس کے ہاتھ ایک ٹہنی لگ گئی اور وہ آج تک محفوظ ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ الطاف حسین بھی اسٹیبلشمنٹ کا وہ ’ناپاک غلاف ‘ ہے جسے ضیا ء الحق سے لے کر پرویز مشرف اور جنرل کیانی تک ،سب نے استعمال کیا ، سوال یہ ہے کہ کیا اس حکمت عملی کی غلطی آپ پر ابھی تک واضح نہیں ہوئی ؟
اب لگتا ہے راحیل شریف اس طرح کے’ ناپاک غلافوں‘ کے بارے میں سمجھ چکے ہیں کہ یہ سارے کچھ عرصہ استعمال کے بعد لیک ہوجاتے ہیں، اس لیے انہیں پھینکنا ہی بہتر ہے، لیکن گزارش ہے کہ زیادہ عقل مندی یہ ہوگی کہ ان کے استعمال ہی سے توبہ کر لی جائے، یہ گندا کام ہے ، اور گندے کام کا کوئی اچھا نتیجہ برآمد نہیں ہوسکتا ۔
یہ پیش گوئی بھی کی جارہی ہے جلد ہی وہ وقت آنے والا ہے کہ موجودہ صورت حال سے عینک والا یہ ڈڈو اتنا کبیدہ خاطر ہو گا کہ خود ہی پھٹ جائے اور پھر روایتاًیہ کہنا پڑ جائے گا : انا للہ وانا الیہ راجعون !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *