اٹلی کے برہنہ ساحلوں پر برقعہ پہنی خواتین کیوں آتی ہیں؟

barbi

باربی لاتزا

مترجم: عابد محمود

سباڈیا، اٹلی۔ اگر آپ اٹلی میں کہیں ساحل سمندر پر جائیں تو وہاں آپ کو بہت سی عورتیں برقعہ اور لمبی شرٹ پہنے گھومتی دکھائی دیں گی۔ لیکن ضروری نہیں کہ وہ عورتیں مسلمان ہوں اور متنازعہ برقنی ایک مختلف شکل میں پہنے ہوئے ہوں۔ ممکن ہے وہ ایک کیتھولک نن ہو جو بچوں کی دیکھ بھال کے لیے وہاں موجود ہو یا پھر نعوذ باللہ دھوپ سینک رہی ہے جو کہ ایک انسانی حقوق کا حصہ ہے جہاں سمندر ہی ملک کی بیشتر حدود کا تعین کرتا ہے۔ اٹلی میں کوئی بھی جرأت نہیں کرے گا کہ ایک پانی یا پانی کے آس پاس پورے لباس میں ملبوس کسی لڑکی کو چلتے ہوئے دیکھ کر حیرانی کا اظہار کرے۔ "ہمارے ہاں بیچ پر بہت سی ننز ہر وقت موجود رہتی ہیں۔" مارکو بیونی  جو سباڈیا ساحل پر ایک کافی شاپ میں ویٹر کا کام کرتی ہیں نے ڈیلی بیسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا۔ "وہ اپنی سکرٹ پہنے ہوئے ہی پانی میں گھومتی اور کمبل پر بیٹھی دکھائی دیتی ہیں۔ کسی کو یہ مسئلہ پیش نہیں آتا کہ وہ کیا پہنتی ہیں۔ آخر اس میں پریشانی کی بات ہی کیا ہے؟ "

دراصل بہت سے اٹالین باشندوں کو فرانس میں بیچ پر اور قریبی ریسٹورینٹ میں برقنی جو کہ  سوئمنگ کرنے کے لیے پورے جسم کو ڈھانپنے والا لباس ہے پہن کر آنے والی خواتین پر پابندی کا قانون پسند نہیں آیا۔ یہاں تک کہ ایک سوشلسٹ پرائم منسٹر مینول والس بھی پیرس میں ہونے والے اس مباحثے میں ملوث ہوتے ہوئے کہتے ہیں کہتے ہیں کہ برقنی پہننا فرانس کی جمہوری ریاست کی اقدار کے خلاف ہے۔ اٹلی کے وزیر داخلہ اینجلینو الفانو  جو دوسرے ملک کے شہریوں کے اٹلی میں داخلے اور بحالی کے سخت خلاف ہیں نے کہا ہے کہ برقنی پر پابندی کا فرانس کا فیصلہ غلط ہے۔ کچھ ممنوعات سے بچنا ہمارا مقصد ہے جن میں ایسی ممنوعات شامل ہیں جو اٹلی کے لوگوں کو اشتعال دلا سکتی ہیں۔ فرانس کی طرف سے لگائی گئی پابندی سے کوئی خاص فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ یہ بات  حیران کن نہیں ہے کہ کیتھولک چرچ اور اس کے لوگوں کے لیے حیادار لباس پہننا کوئی بری بات نہیں ہے۔

 اٹالین بشپ کے ہیڈ ننزیو گلانٹینو نے کہا ہے کہ: " احتیاط قابل فہم ہے لیکن تب جب یہ کامن سینس کے خلاف ہو۔ یہ بات عجیب و غریب ہو گی پانی میں اترنے والی ایک عورت پر حملہ آور ہونے کا شبہ کیا جائے۔ میں تو اپنی نن، اور دادیوں کے لیے سوچتا ہوں جو اب بھی سر ڈھانپنے والے لباس کو ترجیح دیتی ہیں۔" کپا یا کراس پہننے سے تشبیہ دیتے ہوئے گلانٹینو نے کہا: میں یہ بتا دوں کہ انسان کو اس کے مذہبی عقائد کی پابندی کرنے کی آزادی ہونی چاہیے اور یہ بات نہایت مضحکہ خیز ہے کہ آپ ایک ایسی عورت سے خوف کھائیں جس نے سمندر میں نہاتے وقت پورا جسم ڈھانپا ہوا ہو۔ عز الدین الزیر  جو فلورینس شہر میں ایک مسجد کے امام ہیں اور اٹلی کی یونین آف اسلامک ایسوسی ایشن کے صدر ہیں نے فرانس میں برقنی پر پابندی کے مسئلہ کے بعد بیچ پر جانے والی نن عورتوں کی تصاویر پوسٹ کی ہیں ۔ اس کے نتیجہ میں ان کا فیس بک اکاؤنٹ کچھ عرصہ ک لیے بند کر دیا گیا تھا  اور واپس اکاؤنٹ کھولنے کے لیے انہیں کچھ ثبوت مہیا کرنے پڑے جب ایک شخص نے اس اکاؤنٹ کو جعلی قرار دیا۔ انہوں نے کوریر فیورینٹینو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں نے تصاویر پر ایک لفظ بھی نہیں لکھا۔ تصاویر اپنی حالت خود بتا رہی ہیں۔ اٹلی میں کوئی بھی برقنی پر پابندی کی حمایت نہین کرتا۔

رابرٹو کالڈرولی جو ایک سیاسی راہنما ہیں اور آجکل ایک مسجد کے تعمیر کے خلاف احتجاج میں مصروف ہیں نے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ اٹلی میں برقنی اور برقعہ پر فوری پابندی لگائی جائے۔ اس کے ساتھ امام حضرات کے لیے ایک نیشنل رجسٹر بنایا جائے جس کے مطابق شریعت کے قوانین کی مذمت نہ کرنا جرم قرار دیا جائے۔

 کالڈرولی لمبارڈی شہر کے علاقے میں ایک نیا قانون متعارف کروانا چاہتے ہیں جس میں سوئمنگ پول میں برقنی پہننے پر پابندی ہو کیونکہ پورے جسم کو ڈھانپنے والا لباس عورتوں کے خلاف ایروگینس اور تشدد کی علامت ہے۔ لیکن انہیں اب تک کامیابی نہیں ملی جس کی بنیادی وجہ ایسے سوئمنگ پول ہیں جہاں تیرنا سکھایا جاتا ہے ۔ پورے لباس پر پابندی لگانا اور دوسری قسموں کو جائز قرار دینا مشکل ثابت ہوتا ہے۔ اس پابندی کی ایک اور حامی لوریلا زنارڈو ہیں جن کی ایک فلم جس کے نام کا ترجمہ ہے: "عورت کا جسم "اور جوسیکس ازم سے متعلق ہے  اور اٹالین ٹیلیویژن پر دکھائی جا چکی ہے۔ یہ محترمہ ایک دن برقنی پہن کر بیچ پر گئی تا کہ یہ دیکھ سکیں کہ پابندی سے حالات میں کیا بدلاؤ  آیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں وہاں پر گرمی، حبس اور بے سکونی محسوس ہوئی۔ اگرچہ وہ ہمیشہ عورتوں کے مکمل لباس کے حق میں رہی ہیں لیکن اس معاملے میں ان کے خیالات پابندی کے حق میں نظر آتے ہیں۔ انہوں نے کہا: میں چاہتی ہوں کہ عورتیں اپنے پنجرے سے باہر آ جائیں اور یہ مسلمان عورتوں کا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیا یہ آزادی ہے کہ عورتیں ہر وقت ہر جگہ اپنے آپ کو پورے لباس میں قید کیے رکھیں؟  ہمیں عورتوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانی چاہیے۔ ریت میں لگائی گئی یہ لائن فرانس میں کھینچی گئی ہے لیکن اٹلی میں اس کا کوئی اثر دکھائی نہیں دے رہا۔ اٹلی میں اب بھی ساحل سمندر ایک مہذب جگہ ہے جہاں ہر آدمی اپنی مرضی کا لباس پہن کر آ سکتا ہے۔

source:http://www.thedailybeast.com/

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *