پانی صاف کرنے کا سب سے چھوٹا آلہ تیار

کیلیفورنیا -نینو ٹیکنالوجی کے ماہرین نے ڈاک ٹکٹ جتنی جسامت کا آلہ ایجاد کرلیا ہے جو دھوپ کی موجودگی میں صرف 20 منٹ کے دوران پانی میں موجود 99.9 فیصد جراثیم ہلاک کرسکتا ہے۔ اسٹین فورڈ یونیورسٹی کے محققین نے ایسا آلہ ایجاد کیا ہے جو دیکھنے میں ایک چھوٹے سیاہ شیشے کی مانند لگتا ہے۔ اس میں کوٹنگ کے طور پر مولبڈینم ڈائی سلفائیڈ استعمال کیا گیا ہے جو دھوپ کی موجودگی میں پانی کے الیکٹرونوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے جس کے نتیجے میں پانی کے اندر کیمیائی عمل شروع ہوجاتا ہے۔ اس کیمیائی عمل کے باعث پانی میں ہائیڈروجن پرآکسائیڈ سمیت دوسرے کئی ایسے مرکبات بنتے ہیں جو جراثیم کش خصوصیات رکھتے ہیں۔ یہ مرکبات جرثوموں پر حملہ آور ہوتے ہیں اور یوں چند منٹوں میں پانی سے 99.9 فیصد جراثیم ختم ہوجاتے ہیں۔ دھوپ کے ذریعے پانی سے جراثیم کا خاتمہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ اس کی مختلف تدابیر گزشتہ 20 سال سے موجود ہیں لیکن ایسی تمام ترکیبوں کا انحصار، الٹرا وائیلٹ شعاعوں پر ہوتا ہے جو دھوپ کی توانائی کا صرف 4 فیصد حصہ بناتی ہیں اور پانی سے جراثیم مکمل طور پر ختم کرنے میں تقریباً 24 گھنٹے لگا دیتی ہیں ان کے مقابلے میں یہ نیا آلہ دھوپ میں شامل کم و بیش ہر طرح کی شعاعیں استعمال کرتے ہوئے ایسے کیمیائی تعاملات (کیمیکل ری ایکشنز) شروع کرتا ہے جو پانی میں موجود جراثیم کو بڑی تیزی سے ہلاک کر ڈالتا ہے۔ اس دوران وہ دھوپ کی توانائی کا تقریباً 50 فیصد حصہ استعمال میں لاتا ہے۔

مولبڈینم ڈائی سلفائیڈ بہت کم خرچ ہے جو آسانی سے دستیاب بھی ہوجاتا ہے اسی لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ آلہ ترقی پذیر اور غریب ممالک میں یا حادثات کی صورت میں پانی سے جراثیم کے تیز رفتار خاتمے کے لیے بہت مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ البتہ استفادہ عام کی غرض سے پیش کرنے سے پہلے اس پر خاصا کام باقی ہے۔ مثلاً یہ کہ ابھی اسے پانی میں پائے جانے والے 3 طرح کے جرثوموں پر آزمایا گیا ہے جب کہ درجنوں دیگر اقسام کے جراثیم کے خلاف اس کا آزمایا جانا ابھی باقی ہے :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *