آخری قسط

زاہد حسینZahid Hussain

طویل قسط وار سیاسی ڈرامہ اس وقت دارالحکومت کے اسٹیج پر کھیلا جا رہا ہے۔ یہ وقت کے ساتھ ساتھ مبالغہ آمیز حد تک صدمہ خیز ہوتا جا رہا ہے۔ یہ کہانی ’انقلاب‘ کے اس موسم میں عین سکرپٹ کے مطابق کھل رہی ہے۔ یہ اسلام آباد میں مارچ سے شروع ہو تی ہے۔ اب ہم دوسری قسط میں ہیں: ’ریڈ زون‘ کی طوفان انگیزی۔ اس کے بعد کیا؟ قانون کا ٹوٹنا اور منصف کا اندر آنا۔ اختتام کے متعلق تھوڑا سا تجسس توہے لیکن اگلی قسط تشویشناک ہو گی۔
اگر بھیانک نہیں ہے توبھی صورتحال نہایت عجیب ضرور ہے۔ عمران خان طاقت کے مرکزمیں طوفان برپا کرنے اور پرانے نظام کو تباہ کرنے آگئے ہیں لیکن اس کے بدلے میں وہ شاید اپنے اور اپنی جماعت کے مستقبل کا بھی سودا کر چکے ہیں۔ وہ اس کشتی کو نچانے کی کوشش کر رہے ہیں جو شاید انہیں بھی ڈبو دے۔سول نافرمانی کے اعلان کے بعد انہوں نے اسمبلیوں سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ۔ یہ نہایت خطرناک کھیل ہے جسے وہ شاید کبھی نہ جیت سکیں۔
یوں لگتا ہے کہ عمران خان اپنی ذات اور اپنی جماعت کو ایک ایسی اندھی گلی میں دھکیل چکے ہیں جہاں سے وہ شاید کبھی نہ نکل سکیں۔ انسان حیران ہو جاتا ہے کہ اس صاف صاف پاگل پن کے پیچھے بھلا کوئی منطق بھی ہو سکتی ہے؟ایک بڑی سیاسی جماعت کا رہنما اس قدر بے وقوف کس طرح ہو سکتا ہے۔۔۔۔؟اور فیصلے بھی ایسے جو نہ صرف یہ کہ پورے نظام کو دھمکی دے رہے ہیں بلکہ ان کو اور ان کی جماعت کو تنہا بھی کر رہے ہیں؟
ہو سکتا ہے کہ وہ ایک پہلے سے تیار شدہ سکرپٹ پر سختی سے عملدرآمد کر رہے ہوں لیکن صورتحال ان کی گرفت سے نکلتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ کیا اب اس کہانی میں کوئی نیا موڑ آئے گا؟یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ہمیں دارالحکومت کو اپنی گرفت میں لئے ہوئے اس سیاسی اسٹیج شو کے کاتمے کا انتظار کر نا پڑے گا۔اور اب اس میں شاید زیادہ دیر نہ لگے۔صورتحال اب تیزی سے کھلتی جا رہی ہے۔
ٹی وی سکرین سے دور اورٹی وی چینلز کے پھیلائے ہوئے24/7جنون سے دور، پاکستان تحریک انصاف کے دھرنے والے میدان میں صورتحال مختلف ہے۔اس دھرنے کو، جیسا کہ پارٹی رہنماؤں اور ٹی وی کے کچھ مبصرین نے، ’’انسانوں کے ایک وسیع سمندر‘‘ کے طور پر ظاہر کیا تھا ، یہ اس کے قریب بھی نہیں تھا۔اگلے پانچ روز کے دوران یہ شاموں کے اوقات میں از سرنو جمع ہوجانے والے احتجاجیوں پر مشتمل ایک پارٹ ٹائم دھرنے میں تبدیل ہو گیا۔۔۔ تقریباً تقریباً پرائم ٹائم ٹی وی ناظرین سے مشابہ۔۔۔پس منظر میں بجتی ہوئی موسیقی اور گیتوں کی للکار کے ساتھ ساتھ دھرنے کا قائدین کی ناختم ہونے والی ڈینگوں کو سننے کیلئے۔۔۔۔ انقلابی جوش سے بھرپور ہونے کی بجائے ماحول بالکل جشن کا سا رہا۔
قائدین اور سامعین میں لاتعلقی زیادہ واضح نہیں ہو سکی۔ رہنما نصف شب دھرنا سیشن کے خاتمے کے بعداپنی رہائش گاہوں پر آرام کرنے کیلئے واپس چلے جاتے ہیں جبکہ وہ جو دوسرے شہروں سے آئے تھے، بارش میں راتیں گزارنے کے لئے وہیں رہ جاتے۔تبدیلی لانے کا وعدہ کرنے والی یہ جدوجہدنہایت درہم برہم انتظام پر مشتمل ہے۔سڑک کے اس پار محض چند منٹ کے فاصلے پروہ مکمل طور پر ایک مختلف ماحول تھا جہاں قادری اپنا سٹیج لگائے ہوئے تھے۔وہ چوبیس گھنٹے وہیں رہتے ہیں۔ اپنے پتے بھرپور انداز میں کھیلتے رہتے ہیں اور ان کا مجمع بھی پی ٹی آئی سے زیادہ بڑااور منظم ہے۔
یوں لگتا ہے کہ پی ٹی آئی کی تخریبی سیاست شریف کو اپنی حیثیت کو ازسر نو بحال کرنے کے قابل بنا دے گی۔پارلیمنٹ کی مدد ابھی تک وزیر اعظم کی سب سے بڑی قوت ہے بشرطیکہ وہ نیند سے جاگ جائیں!
محاذ آرائی سے تخلیق ہونے والا خلاء ممکنہ طور پر وہ گھڑ سوار پر کرسکتے ہیں جو پہلے ہی سے زرہ پہنے ہوئے ہیں۔ شریف اپنی رعونت، غلطی اور سب سے بڑھ کر فوج کے ساتھ اپنے تنازعے کی بڑی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ بوٹوں کی آواز اونچی سے اونچی ہوتی جا رہی ہے۔اور فوج کو بے یقینی اور عدم استحکام کی گہری کھائی میں دھکیلتی جارہی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *