مسجد ، امام مسجد اور ہماری زندگی

jawad khan

کہتے ہیں کسی گھر کی جانچ کرنی ہو تو کیچن دیکھو اور اگر کسی محلے یا بستی کی جانچ کرنی ہے تو وہاں کی مساجد کی حالت دیکھو تو یہ بات عیاں ہو جائے گی کہ اس بستی یا حلقہ کے لوگ کس ذوق اور جذبہ کے ہیں، ہمارے پڑوس کے شہر کا مشہور واقعہ ہے کہ وہاں ایک تاجر ، تجارت کی غرض سے آیا۔ اس نے یہاں ایک طرف مساجد کی حالت زار دیکھی اوردوسری جانب لوگوں کواپنی مستی میں مست اور مساجد سے بے حس و غافل دیکھا تو اسے بہت افسوس ہوا ،تاجر نے بستی والوں سمجھاتا مگر بدلے میں اس پر نقطہ چینی کی جاتی " کہ جاؤ آپ اپناکام کرو و مسجد جانے اور مولوی جانے۔۔۔ تم کو کیا لینا دینا۔۔۔" خیر اس طرح کے کئی جملے اس کو سننے کو ملتے بالآخر اس نے بستی والوں کو درسِ عبرت دینے کا منصوبہ بنا لیا۔ ہوا کچھ یوں کہ وہ جس مسجد میں جاتا تو وہاں جا مساجد کی حالت زار دیکھتا اور بطورِ چندہ ایک خطیر رقم مساجد کی انتظامیہ کو دے آتا تاکہ مساجد کے تعمیراتی کا موں کا پایہِ تکمیل تک پہنچایا جائے ۔ وہ ہر دفعہ مختلف مساجد میں ایک خطیر رقم چندے میں دے دیتا جس کی وجہ سے اس کی مقبولیت معاشرے کے اندر عام ہو گی اور ہر طرف اس کے چرچے ہونے لگے ، ہر گلی کوچے اور چورائے میں اسی کے تذکرے شروع ہو گئے اور ہر کسی کے دل میں ایک ہی سوال تھا کہ آیا کہ یہ کون شخص ہے۔۔۔؟؟؟ اس کا کیا کام دھندہ ہے۔۔۔؟؟؟ اسی تجسس میں جب لوگوں کو اس بات کا علم ہوا کہ یہ آدمی تو ویزوں کا کام کرتا ہے اور لیبر لے کر باہر کے ملکوں میں جاتا ہے، بس پھر کیا تھا ، اس کی تو بلے بلے ہوگئی ، ہزاروں نہیں، لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں کے حساب سے لوگوں نے اس کو رقوم لا کر دی اور ساتھ میں منتیں سماجتیں علیحدہ سے ۔۔۔کہ ہمارے بیٹے کو بھی ویزہ دے دو ۔۔۔ہمارے بھائی کو ویزہ دے دو۔۔۔ خیر ہر چند ، ہر کوئی اسے کے پیچھے پڑ گیا ۔ رفتہ رفتہ ۔۔۔کر تے کرتے ۔۔۔اس نے کروڑوں روپے اکھٹے کیے اور رفو چکر ہو گیا۔۔۔ کچھ عرصہ اس نے موبائل بند کیا ، اب اس کے گھر کے بارے میں تو کوئی جانتا نہ تھا اور نہ ہی کوئی اس سے کسی قسم کا ثبوت لے سکا کیونکہ اس کا چندہ دینے کا انداز ہی اس کی سب سے بڑی کامیابی اور ضمانت تھی ۔ کچھ عرصہ بعد جب اس نے موبائل آن کیا تو اس کو متعلقہ اشخا ص کو فو ن کر کے بولا کہ میں آپ کے علاقے میں کاروبا ر کی نیت سے آیا تھا ، مگر آپ لو گوں کی مساجد کی خستہ حالی کو دیکھا اور اس سے بے غم آپ کی مست زندگی کو دیکھا تو مجھے انتہائی افسوس ہو اکہ اپنے لیے تو سب کچھ ہے مگر خدا کے گھر کے لیے آپ کے پاس کچھ نہیں ۔ ویزوں کے لیے پیسے تو دھڑا دھڑ سب کے پاس آگئے مگر یہ کسی کے ذہن میں خیال نہ آیا کہ مسجد کے اند ر پھٹی ہوئی چٹائیاں آپ کا راہ دیکھ رہی ہیں ، یہ کبھی آپ نے نہیں سوچا کہ مساجد کے اندر پانی کی موٹر خراب پڑی ہے، کب سے امام مسجد کو تنخواہ نہیں دی گئی ، کب سے مسجد کے بجلی کے بل کی ادائیگی نہیں ہوئی ، یہ تو چھوڑ تم لوگوں کو جب حاجت ہوتی تو مساجد کے غسل خانوں کو گندہ کرنے تو آجاتے مگر کبھی ان کی صفائی کا خیال کسی کے ذہن میں نہیں آیا ۔ تم لوگوں کو اپنے بچوں کے pampersکی تو فکر ہوتی کہ وہ لانا ہے مگر کبھی یہ نہیں سوچا کہ امام مسجد کی اولاد کو تن پر نئے کپڑے عید پر پہننے کو ملے ہیں کہ نہیں۔ ۔۔؟؟؟ چھوڑ و اب مجھے یہ بتاؤ کہ جب لو گ تم لوگ مرنے کے بعد یا قرآن خوانی کے لیے بچوں کو مدارس سے بلواتے تھے تو ان کے ساتھ کیسا رویہ رکھتے تھے۔ اول تو ان کو ڈھاپے والی سوزوکی میں بیٹھا کر لایا جاتا اور خود مرسڈیز میں آتے تھے، پھر ان کو باہر صحن میں بیٹھا کر قرآن خوانی کروائی جاتی تھی اور خود اندر AC والے کمروں میں دوستوں سے محو گفتگو رہتے تھے۔۔۔اگر آج ہم بھی اپنے اردگر د کے معاشرے میں نظر دوڑایں تو ہم کونظر آتا ہے کہ واقعی ہم نے مسجد و امام مسجد کے تقدس کو پامال کر رکھا ہے، ہم لوگوں کو اپنے گھر وں کی ہر ضرورت کی فکر تو لاحق ہوتی ہے مگر کبھی یہ سوچ گوارا نہیں ہوتی کہ چند سیکنڈ مسجد کے امام سے اس کی خیریت دریافت کر لی جائے۔ ہماری بے حسی کا تو یہ عالم ہے کہ ہم مہینے بعد مسجد امام کے لیے 100 تنخواہ دیتے ہیں مگر ساتھ میں لاکھوں حیلے بہانے کرتے ہیں، سینکڑوں چکر لگواتے ہیں، تب جا کر ہماری جیب سے سو ر وپیہ نکلتا ہے، اور خود مہینے میں ہزاروں روپے سگریٹ اور نشے میں لگا دیتے ہیں ا۔امام مسجد کو اپنا غلا م سمجھ بیٹھتے ہیں اور یہ خواہش رکھتے ہیں کہ ہم جیسا بولیں بس امام مسجد ویسا ہی کرے۔۔۔ یہ ہی نہیں البتہ ہم تو وہ عظیم ہستیاں ہیں کہ ہم ان مساجد امام اور طلباء کو اتنی اہمیت تک دینا گوارا نہیں کرتے کہ ان کو سلام کیا جائے ، بلکہ خود میں انا کی اکڑ ڈالے اپنی نشست پر جمے رہتے ہیں، ساری عمر ملک میں سیاستدانوں نے حکومت کی ہے اور جو کوئی فائدہ یا نقصان اس ملک کو پہنچا ہے تو اس میں انہی سیاستدانوں کا ہاتھ ہوتا ہے ، مگر ہم جب بات کرتے ہیں تو یہ ہی کرتے ہیں کہ اس ملک کا بیڑا غرق ان مولیوں نے کر رکھا ہے، کیا کبھی کسی مولوی کی حکومت آئی ہے۔۔۔؟؟؟ جو ہم ان پر یہ الزام لگاتے پھرتے ہیں ۔ ہمارے پیدا ہونے سے لے کر مرجانے تک مولوی ہمارے ہر اس کام آتے ہیں جس کو کوئی دوسرا حل نہیں کر سکتا ۔ مثلاََ پیدا ہوتے آذان ، مسجد میں امامت، نکاح، جنازہ، دفن و کفن وغیرہ سب اہم معاملات میں یہ مولوی ہی ہمارے کام آتے ہیں اور ہم ہیں کہ ہمیشہ ان کو صرف چند سکوں کے عوض خریدنے کی چاہت میں رہتے ہیں۔ اپنی سوچوں کو بدلنے کا وقت آگیا ہے، اپنے رویوں کو تبدیل کریں ۔ مساجد کو با عمل نمازیوں سے بھریں، اور اس بات کو ذہن نشین کر لیں کہ جس دن صبح کی نماز میں نمازیوں کی تعداد جمعے کی نماز کی تعداد کے برابر ہو گئی تو اس دن دنیا میں مسلمانوں کا راج ہو گا۔ نماز کا اہتمام کریں، پابندی کریں دوسروں کو تلقین کریں، خود آگے بڑھ کر خود کی اور دوسروں کی اصلاح کی کوشش کریں کیونکہ بھلائی اسی میں ہے، نماز بھی ایسی ہو کہ زمین بھی آپ کے سجدے کی گواہی دے نہ کہ ایسی نماز کہ جس میں دیکھنے والا یہ نہ سمجھے کہ آپ ورزش کر رہے ہو۔ نماز کو نماز سمجھ کر پڑھیں ، اپنے رب سے رابطہ سمجھ کر پڑھیں۔۔۔ تو دیکھیں کامیابی آپ کی منتظر کھڑی ہو گی۔ اس لیے آؤ نماز کی طرف ، آؤ کامیابی کی طرف ، آؤ فلاح کی طرف۔۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *