ٹیکس کا نظام اور انقلاب

ڈاکٹر اکرام الحق

ikramعمران خان نے سول نافرمانی کی بات کی۔ اس کا مطلب عوام کواشتعال دلانا ہے کہ وہ حکومت کو ٹیکس ادا نہ کریں۔ ان کی سول نافرمانی کی یہ کال نہ صرف ناقابلِ عمل تھی بلکہ اسے زیادہ تر عوامی اور کاروباری حلقوں نے مسترد بھی کردیا۔ اس سے یہ بات ظاہرہوتی ہے بامعانی دلائل اور حقیقت پسندانہ پالیسیاں سامنے لانے کی بجائے ہمارے رہنما وقتی جذباتیت اور ہیجان خیزی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ خاں صاحب نے سب سے پہلے حکومت کی آئینی اور قانونی حیثیت اور انتخابی عمل کی ساکھ پر سوال اٹھایا۔ آخر میں اُنھوں نے ریاست کو نقصان پہنچانے کے لیے سول نافرمانی کی کال دے دی۔ بطور ایک قومی رہنما، اُنہیں امیروں پر ٹیکسز لگانے اور غریب افراد کو سہولیات فراہم کرنے کی بات کرنی چاہیے تھی تاکہ معاشرے میں معاشی ہمواری آسکے۔
تحریکِ انصاف نے دبے ہوئے مظلوم طبقے کوتحریک نہیں دی ہے اور نہ ہی یہ انہیں آئینی طریقے سے اقتدار میں شامل کرنے اور آئین کے آرٹیکل 3 کے تحت غربت اور استیصال کے خاتمے کا وعدہ کرتی ہے۔ خیبر پختونخواہ میں تحریکِ انصاف کے ایک سالہ دورِ حکومت میں اس بات کی کوئی شہادت نہیں ملتی کہ اس پارٹی کے پاس ویلفیئر ریاست قائم کرنے کاکوئی منصوبہ موجود ہے۔ نہ ہی اس نے دعووں کے باوجود مقامی حکومتوں کے ذریعے عوام تک اقتدار منتقل کرنے کی طرف کوئی پیش رفت کی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹیکس کا موجودہ نظام دولت مند افراد کا تحفظ کرتے ہوئے غریب اور درمیانی آمدنی والے افراد پر بوجھ ڈالتا ہے۔ عوام کو تیار شدہ اشیائے ضرریات پر جو سترہ فیصد سیلز ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے، وہ درحقیقت تمام ٹیکسز کو ملا کر تیس سے پنتالیس فیصد بن جاتا ہے۔ یہ سخت ٹیکسز کم آمدنی والے افراد کی آمدنی کاایک بڑا حصہ لے جاتے ہیں جبکہ دولت مند افراد، جن کی تعداد کم ہے، کے لیے یہ ٹیکسز کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ اس کے علاوہ، امیر اور طاقتور افراد کو ’’ایس آر او‘‘(Statutory Regulatory Orders)کے ذریعے ٹیکسز اور ڈیوٹی میں چھوٹ بھی مل جاتی ہے۔ یہ افراد غیر قانونی طریقے سے بہت سی دولت حاصل کرتے ہیں۔ ان افراد پر ٹیکس عائد کرنا پاکستان میں کسی بھی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ ایف بی آر کی ٹیکس ڈائریکٹری کے مطابق صرف 840,000 ریٹرن فائلز جمع کرائی گئیں اور صرف 13,200 افراد نے ایک ملین سے زائد ٹیکس ادا کیا۔ یہ بات حیران کن نہیں کہ فنانس منسٹری ایف بی آر سے کیوں نہیں کہتی کہ جن دولت مند افراد نے فائل جمع نہیں کرائی ان کے نام شائع کیے جائیں اور ان کے خلاف کاروائی کی جائے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ عمران خان حکومت پرٹیکس نادہندگان کے نام شائع کرنے اور اُنہیں سزا دینے کے لیے دباؤ ڈالنے کی بجائے عوام سے کہہ رہے ہیں کہ وہ بھی اپنے واجبات ادا نہ کریں۔ اُنہیں بطور اپوزیشن رہنما اسمبلی میں یا عوام کے سامنے سوال اٹھانا چاہیے تھا آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک نے ایسی حکومت کو اربوں ڈالر قرضہ کیوں دے دیا جو دولت مند افراد کو ٹیکس اور دیگر واجبات میں چھوٹ دینے کی پالیسی پر کاربند ہے۔
درحقیقت عوام کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ پاکستان میں ٹیکس کا نظام غیر منصفانہ اور جابرانہ ہونے کے ساتھ ساتھ معاشی ناہموار ی کا سبب بھی ہے کیونکہ اس کا فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہے۔ ملک میں ٹیکس نہ دینے کا رواج ہے ، تاہم زیادہ تر لوگ یہ بھی نہیں جانتے کہ حکومت مختلف طریقوں سے ان سے ٹیکس وصول کررہی ہے... موبائل فون کے پری پیڈ صارفین چودہ فیصد انکم ٹیکس ادا کررہے ہیں۔ بہت سے دولت مند افراد ٹیکس ادا کرنے کی بجائے خیراتی کاموں میں حصہ لیتے ہیں۔ وہ ٹیکس ادا نہ کرنے کا جواز یہ پیش کرتے ہیں کہ بدعنوان حکمران ٹیکس وصول کرنے کا حق نہیں رکھتے ہیں۔ اس طرح کے پاس بھی ٹیکس ادا ئیگی سے بغاوت کرنے کاجواز موجود ہے۔
پاکستان تحریکِ انصاف کو لاکھوں افراد کی ترجمانی کرتے ہوئے ٹیکس نظام میں اصلاح کے لیے آواز بلند کرنا چاہیے تھی لیکن اُنھوں نے ٹیکس ادا نہ کرنے کی کال دے دی۔ خیبر پختونخواہ سمیت تمام صوبائی حکومتیں زرعی ٹیکس نہ لگا کر دولت مند جاگیرداروں کے مفاد کا تحفظ کر رہی ہیں۔ پاکستان کے وڈیرے، چاہے ان کا تعلق ملک کے کسی حصے سے ہو، ٹیکس فائل جمع نہیں کراتے۔ چونکہ یہ لوگ اپنی بھاری بھرکم آمدنی پر براہِ راست ٹیکس ادا نہیں کرتے اس لیے عوام کی اکثریت یہ استدلال پیش کرتی ہے کہ وہ بلوواسطہ ٹیکس یا انکم ٹیکس کیوں ادا کریں؟ حقیقت یہ ہے کہ بلواسطہ ٹیکسز کی وجہ سے عام آدمی کی زندگی اجیرن بن چکی ہے۔ ان کے ذریعے سے ریاست کے خراجات کا تمام بوجھ ان کے ناتواں کندھوں پر لاد دیا گیا ہے جبکہ طاقتور طبقے ٹیکس ادا کرنے سے انکاری ہیں۔ اس جمود کو توڑنا ہی اصل انقلاب ہے .... اگر یہ کبھی پاکستان میں آیا۔
بظاہر پاکستان کے تمام رہنما آئین اور قانون کی حکمرانی اور جمہوریت کے تسلسل کی بات کرتے ہیں لیکن اُنھوں نے کبھی بھی ٹیکس کے موجودہ نظام میں اصلاح کا ایجنڈ ا پیش نہیں کیا۔ اس وقت قوم احمقانہ معاشی پالیسوں اور طاقتور افراد سے ٹیکس وصول نہ کرنے کی سیاسی سرپرستی کی وجہ اذیت کاشکار ہے۔ اس کے باوجود یہ سیاست دان خود کو عوام کے خیر خواہ کہتے ہیں۔ ٹیکس کے موجود استیصالی نظام کی وجہ سے خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ بلواسطہ طور پر جو بھی محصولات اکٹھے کیے جاتے ہیں، وہ اس پاک سرزمین کے حکمرانوں کی عیاشی اور سیر وتفریح پر خرچ ہوجاتے ہیں۔ حکومت میں آتے ہی ہر جماعت ملکی خزانے کو بے دردی سے لوٹتی ہے اور قومی وسائل ذاتی اثاثے سمجھے جاتے ہیں۔ عوام کی صحت اور تعلیم پر خرچ کرنے کی بجائے قومی خزانے سے سرکاری افسروں اور عوامی نمائندوں کو سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔
جمہوریت کے استحکام اور معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ دولت مندافراد پر ٹیکس لگایا جائے۔ سرکاری اور فوجی افسران کو وہی سہولیات حاصل ہوں جو اس ملک کے عام شہری کی قسمت میں ہیں۔جب تک قانون کی بالادستی نہیں ہوگی، گڈ گورننس ایک خواب ہی رہی گی ۔ تاہم دھرنوں اور احتجاجی سیاست کی موجودہ لہر میں ان معروضات کا فقدان ہے۔ ایک نئے اور مساوات پر مبنی پاکستان کی تعمیر صرف کسی شخص، چاہے وہ کتنا ہی فرشتہ صفت کیوں نہ ہو، کے اقتدار میں آنے سے خود بخود ممکن نہیں ہوجائے گی۔ تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے کہ نام نہاد انقلابیوں، تبدلی کے دعویداروں اور مصلحوں کی طرف سے اقتدار پر قبضے کرنے کے بعد ریاستیں بدنظمی، خونریزی اور انتشار کا شکار ہوکر ختم ہوگئیں۔ ضروری ہے کہ اس وقت ہم ’’تبدیلی ‘‘ اور ’’انتشار‘‘میں تمیز کریں۔ اگر کسی انقلاب کے نتیجے میں معاشرے میں انتشار، توڑ پھوڑ، خونریزی، انارکی، جرائم اور بدنظمی پھیلے تو قرآنِ پاک اسے ’’فساد فی الارض‘‘[2:12] قرار دیتا ہے۔ اور فساد پھیلانے والے مفسدین ہیں۔
اس وقت حکمرانوں اور ان کے سیاسی حریفوں کا دعویٰ ہے کہ وہ تبدیلی اور اصلاح لانا چاہتے ہیں۔ ان دونوں کو احساس ہونا چاہیے کہ ان کے افعال اور اقوال میں تضاد عوام میں بے چینی پیدا کرنے کا موجب بن رہا ہے۔ اس ریاست کی مقتدر قوتوں کو چاہیے کہ وہ حکمرانوں اور ان کے حریفوں پر دباؤ ڈالیں کہ وہ مل بیٹھ کر کوئی تصفیہ کریں اور موجودہ سیاسی جمود کا کوئی حل نکالیں۔ دراصل پاکستان میں جمہوری عمل کی پختگی ہی انقلاب اور تبدیلی ہے کیونکہ پاکستان مصر یا شام نہیں ہے۔ ہمارے آئین کے آرٹیکلز 3 اور140A فلاحی ریاست کو یقینی بناتے ہوئے عوامی حقوق کا تحفظ کرتے ہیں۔ چنانچہ ہمیں انتشار اور ماردھاڑ نہیں بلکہ آئین کی پاسداری درکار ہے۔یہی سب سے بڑا انقلاب اور آزادی مارچ ہوگا۔

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں reproduction کی اجازت نہیں ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *