کشمیر پر آواز اٹھانے کے لئے اراکین پارلیمنٹ تیار

محمد شاہد محمود
shahid mehmood

حکومت نے کشمیر کاز کو بین الاقوامی سطح پر اٹھانے خصوصاً پارلیمانی وفود کے بیرون ملک دوروں کیلئے رہنما نکات کا تعین کر دیا ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف بھی جنرل اسمبلی میں کشمیر میں پیدا شدہ صورتحال اور مسئلہ کشمیر کے جنوبی ایشیا پر اثرات کے حوالے سے بھرپور آواز اٹھائیں گے۔ خارجہ محاذ پر سفیروں کو بھی پاکستانی مؤقف کے حوالے سے یادداشت بھجوائی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے تیار کردہ یادداشت میں کشمیر کو تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا قرار دیتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ یہ زمین کا تنازع نہیں بلکہ ڈیڑھ کروڑ کشمیریوں کی آزادی اور حق خود ارادیت کا مسئلہ ہے اور یہ حق اقوام متحدہ نے انہیں اپنی قرار دادوں کے ذریعے دیا ہے ، جن پر عملدرآمد بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے۔ مجوزہ یادداشت میں مقبوضہ وادی میں بھارتی ریاستی دہشتگردی کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ ظلم و جبر کے باوجود کشمیر کے بوڑھے اور جوان ، بچوں اور خواتین نے سب کو ششدر کر دیا ہے۔ شہدا کے سروں کی فصل کاٹے جانے کے باوجود حق خود ارادیت کی تحریک ہر آنے والے روز میں زیادہ زور آور بن رہی ہے۔ کشمیر کا چپہ چپہ بغاوت کی علامت بن چکا ہے۔ جموں و کشمیر کے عوام آزادی کا علم لیے کھڑے ہیں، لیکن بھارت اپنی ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑنے کو تیار نہیں۔ جب بھی بین الاقوامی دباؤ بڑھا بھارت بات چیت کا ڈول ڈالتے ہوئے محض وقت حاصل کرتا رہا، لہٰذا مقبوضہ کشمیر کی اندرونی صورتحال اور علاقائی حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ بھارت ‘‘کشمیر اٹوٹ انگ ’’کی رٹ ترک کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو حل طلب تسلیم کرے۔ یادداشت میں کہا گیا کہ بھارت مقبوضہ وادی میں ظلم و استبداد کا سلسلہ بند کرتے ہوئے آبادیوں سے اپنی افواج واپس بلائے ، ہزاروں گرفتار شدہ افراد کو رہا کیا جائے ، شہری آزادیاں بحال کی جائیں اور کشمیریوں کو اپنا مقدمہ بین الاقوامی برادری کے سامنے پیش کرنے کا موقع د یا جائے۔ یادداشت میں مزید کہا گیا کہ 8 جولائی کو برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے نفاذ کے بعد ظلم و بربریت کا بازار گرم ہے ، اب تک 80 کشمیریوں کو شہید کیا گیا اور تقریباً سات ہزار زخمی ہیں۔وزیراعظم محمد نوازشریف کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں پرامن جدوجہد کرنے والوں کیخلاف بھارتی ظلم و ستم پر عالمی توجہ مرکوز کرانے کیلئے نامزد خصوصی نمائندے سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ کشمیریوں نے اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا ہے، ابھی تک یہ بات واضح نہیں ہے کہ انہوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کرنا ہے یا بھارت کیساتھ۔ ہم انسانی بنیادوں پر ان کے جائز حق خودارادیت کی حمایت کر رہے ہیں۔ ہم انسانی بنیادوں پر اس مسئلے کا حل چاہتے ہیں۔ خارجہ امور کمیٹی میں بھی اس بات پر کئی بار غور ہوا ہے کہ جس طرح امریکا اور ایران کا تنازعہ دو طرفہ بات چیت سے حل نہیں ہوا اور اس میں دیگر ممالک شریک ہوئے تو تب ہی اس کا حل نکلا اسی طرح کشمیر کا مسئلہ بھی پاکستان اور بھارت کے دو طرفہ بات چیت سے نکلتا نظر نہیں آ رہا اس کیلئے دیگر عالمی طاقتوں کو فریق بننا پڑے گا۔ عالمی برادری کشمیر کے مسئلے پر منصف کا کردار ادا کرے۔ ہم دنیا کے پاس کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بے نقاب کرنے کیلئے جا رہے ہیں۔ کشمیری انسان ہیں جبکہ دنیا میں جانوروں تک کے بھی حقوق ہیں تاہم ہم دنیا سے یہ سوال کرتے ہیں کہ کشمیریوں کا خون اتنا سستا کیوں ہے اور عالمی برادری کا کردار دوغلا کیوں ہے۔ ترکی کیلئے وزیراعظم کے نامزد خصوصی نمائندے محمد پرویز ملک نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال اور بھارتی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ظلم و ستم سے آگاہی کیلئے بطور عوامی نمائندے جب ہم بات کریں گے تو اسے بہتر انداز میں سنا جائے گا۔ دنیا میں پارلیمنٹ اور اس کے نمائندوں پر ہر جگہ اعتماد کیا جا رہا ہے اس سے عوامی سطح پر بہتر اثرات مرتب ہونگے۔ ان نمائندوں کے دوروں سے دنیا میں بھارت کے مذموم عزائم بے نقاب ہونگے۔ دورے میں جموں و کشمیرکے مصائب کے شکار لوگوں کی قربانیوں کو اجاگر کریں گے۔محمد اعجاز الحق نے کہا کہ وزیراعظم محمد نواز شریف کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں حالیہ بھارتی حکومت اور فوج کے مظالم کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کیلئے پارلیمانی وفود بھیجنے کا اقدام درست اور بروقت ہے، پاکستان کو اس صورتحال میں اپنا فعال کردار ادا کرنا چاہئے، پاکستان کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ منتخب نمائندے کسی بھی ملک میں جا کر کشمیر کی موجودہ صورتحال پر اپنا مؤقف بیان کریں گے تو ان کی بات سنی جائے گی، یہ وفود دنیا کے اہم ممالک کے دارالحکومتوں میں جا رہے ہیں، وہاں پر منتخب نمائندوں کے علاوہ انسانی حقوق کی تنظیموں اور اعلیٰ حکومتی عہدیداروں سے ملاقاتیں کرکے انہیں مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی مقامی تحریک کے خلاف ریاستی دہشت گردی کو بے نقاب کریں گے۔ مقبوضہ کشمیر میں پیلٹ گنز کے استعمال سے اب تک حالیہ دنوں میں 85 کشمیری شہید جبکہ 500 سے زائد بینائی سے محروم ہو چکے ہیں، اس کے خلاف پوری دنیا میں آواز اٹھانی چاہئے۔ کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت اقوام متحدہ کی قراردادوں میں دیا گیا ہے، جاری تحریک آزادی میں کوئی غیر ملکی مداخلت نہیں ہے بلکہ یہ خالصتاً مقامی تحریک ہے۔ دفتر خارجہ نے ہم سے رابطہ کیا ہے، دفتر خارجہ کی جانب سے بریفنگ کے بعد توقع ہے کہ عید کے فوراً بعد وفود بیرون ملک جائیں گے۔ سابق وزیر امور کشمیر اور مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی میجر (ر) طاہر اقبال جو سعودی عرب کیلئے وزیراعظم کے خصوصی نمائندہ وفد میں شامل ہیں، نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں اس وقت مقامی سطح پر تحریک زور پکڑ رہی ہے اور اپنے طور پر کشمیری آزادی کے حق کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں جن پر بھارتی مظالم کے پہاڑ ڈھائے جا رہے ہیں ان کے خلاف پیلٹ گنز استعمال کی جا رہی ہیں، عالمی برادری کو اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہئے۔ بھارت الٹا پاکستان کے خلاف دنیا میں منفی پروپیگنڈا کر رہا ہے تاہم دنیا کے سامنے اس کا اصل چہرہ عیاں ہو رہا ہے کہ کس طرح وہ مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم ڈھا رہا ہے۔ جب ارکان پارلیمان دنیا کے سامنے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر بات کریں گے تو اس کا مثبت پیغام دنیا تک جائے گا۔ پیپلز پارٹی کے رکن اور روسی فیڈریشن کیلئے وفد میں نامزد نمائندہ خصوصی نواب علی وسان نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے کیلئے نامزد کئے جانے والے وفود کے نمایاں اثرات سامنے آئیں گے، بھارتی مظالم سے دنیا کو آگاہ کریں گے، اس میں دیگر اپوزیشن جماعتوں کو بھی شامل کیا جانا ضروری ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کی نمائندگی بھی ان وفود میں ہونی چاہئے۔ ہمیں پوری تیاری کے ساتھ دنیا کے سامنے کشمیر کا کیس لے کر جانا ہے، اس ضمن میں مقبوضہ کشمیر میں حال ہی میں بھارتی فوج کی جانب سے استعمال کی گئی پیلٹ گنز اور ان کے اثرات پر مشتمل ویڈیوز بھی عالمی برادری کو دکھانے کیلئے ساتھ لے جانی چاہئیں۔ اچھی طرح سے کشمیر پر اپنا مقدمہ تیار کرکے اگر ہم بیرون ملک جائیں گے تو اس کے مثبت اثرات ہوں گے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی کشمیر میں مظالم اجاگر کرنے کیلئے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے، ہم اپنی جماعت کی بھرپور نمائندگی کریں گے اور مودی کے مظالم کو دنیا کے سامنے اجاگر کریں گے، مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے ان مظالم پر ہمیں خاموش نہیں بیٹھنا چاہئے، اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پالیسیوں اور ظلم و ستم سے آگاہ کرنا چاہئے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *