میاں زرداری بھائی بھائی

Haq Nawaz Jillani

میاں زرداری بھائی بھائی یہ کوئی سیاسی نعرہ نہیں بلکہ یہ سچ ہے کہ میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری بھائی بھائی بہت عرصہ پہلے بن چکے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ اس بھائی چارے میں مزید اضافہ اور گہری ہوتی چلی گئی ہے ۔ہم زیادہ دور نہیں بس صرف2013الیکشن سے پہلے کی بات کرتے ہیں جہاں پر میاں نواز شریف جلسوں اور پر یس کانفرنسوں میں آصف علی زرداری کے خلاف برملا کہتے تھے کہ زرداری صاحب یہ اکیلے تمہارا ملک نہیں ہے جس طرح تم چاہوں اس کو لوٹوں۔ میاں شہباز شریف جو اس وقت بھی وزیراعلیٰ پنجاب تھے ان کا جلسوں میں کہناتھا کہ زرداری میں نے تمہیں لاہور کے سڑکوں پر نہ گھسیٹا اور تمہیں سرعام لاہور کے چوک میں نہیں لٹکایا تو میرا نام بھی شہباز شریف نہیں۔ ان باتوں یابیانات کو ہم جوشیلے خطاب کانام دے سکتے ہیں لیکن پیپلز پارٹی کی حکومت میں جوکرپشن اور لوٹ مار پر نون لیگ نے شور مچایا تھا اور اس وقت کہا تھا کہ ہماری حکومت آنے کے بعد ان سے ایک ایک پیسے کا حساب لیں گے وہ وعدے اور باتیں کہاں گئی ۔آج تین سال گزر گئے لیکن زرداری حکومت میں ہونے والی کرپشن پر کسی کو بھی سزا نہیں ہوئی ۔ زرداری کو سرعام لٹکانے اور ان سے کرپشن کا پیسہ نکالنے کو تو چھوڑدے جو کرپشن اور لوٹ مار ان کے وزیروں نے کی خاص کر چندوزرا نے جن میں رحمان ملک بھی شامل ہے ان کے خلاف کونسی کارروائی آج تک ہوئی ہے اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ قومی اسمبلی اور سینٹ میں قائمہ کمیٹیوں جنہوں نے پچھلے حکومتوں کا حساب کتاب دیکھنا ہے اس کی سربراہی اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ اور رحمان ملک کررہے ہیں جس کا سیدھاسادہ مطلب ہے کہ وہ اپنے کیے ہوئے بلوں کو کلےئر کریں گے ۔اس سے بڑھ کر یہ کہ آئے روز وزیرداخلہ چوہدری نثار پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کو دھمکیاں دیتا آرہاہے کہ چھپ ہوجاؤں ورنہ بہت سے راز اور ثبوت میرے پاس موجود ہے جس پر پچارے پیپلزپارٹی والے خاموش ہوجاتے ہیں۔ مجھے اس موقعے پر وہ ملاقاتیں یاد آجاتی ہے جس میں میاں نواز شریف اور آصف زرداری دونوں بھائی بھائی بن جاتے ہیں اور ایک دوسرے کو سپورٹ کرنے پر راضی ہوتے ہیں، مجھے زرداری کی وہ باتیں بھی یاد آجاتی ہے جو انہوں نے ملٹری کورٹ بارے میں میاں صاحب کو بتائی تھی کہ میاں صاحب ایسا نہ ہوکہ کل یہ کورٹ ہمارے خلاف فیصلہ دے ۔ پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی محبت اور ایک دوسرے کو بچانے کیلئے اب پورے ملک کو معلوم ہوچکاہے کہ انہوں نے ایک دوسرے کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھانا ، صرف عوام کے سامنے ایک دوسرے کے خلاف بیانات دینے ہیں جس سے عوام خوش رہے کہ ہمارے لیڈربھی کم نہیں ہے۔نون لیگ کی حکومت اس لئے بھی پیپلز پارٹی کے خلاف ایکشن نہیں لے سکتی کیوں کہ نون لیگ کی خود ہر جگہ سکینڈل موجود ہے ۔ نندی پور پروجیکٹ ہو ، ریلوے میں اربوں کی کرپشن ہویا وزرات بجلی سمیت دوسروں وزراتوں میں ہونے والی کرپشن جس پر پیپلز پارٹی خاموش ہے لیکن اس سے بھی بڑھ کر زرداری نے بڑی چالاگی سے اپنے بھائی میاں نوازشریف کے ساتھ ڈیل کردی ہے کہ ہر صورت میں ایک دوسرے کی سپورٹ جاری رکھنی ہے۔ اب پاناما لیکس پر پہلے کی طرح تحریک انصاف ہی سڑکوں پراحتجاج کریں گی جس طرح 2013الیکشن کے بارے میں زرداری نے کہا تھا کہ یہ دھاندلی شدہ الیکشن ہے ، عمران خان کی تبدیلی کو پلاننگ کے ساتھ اٹک پرروک دیا گیا لیکن بعد میں دھاندلی کے خلاف 22جماعتوں میں صرف پی ٹی آئی نے احتجاج اور دھرنا دیا جن حلقوں کی عمران خان بات کررہے تھے کہ صرف چار حلقوں کو کھول دیںآج تین سال بعد ان چاروں حلقوں میں دھاندلی ثابت ہوگئی ہے جن میں دو حلقوں پر الیکشن بھی ہوچکے ہیں۔اس طرح اب پانامالیکس پر پیپلز پارٹی صرف سیاست کررہی ہے حقیقی معنوں میں میاں نواز شریف کا احتساب نہیں چاہتی ،کیوں کہ دونوں بھائی بھائی ہے۔
اس طرح دیکھا جائے تو خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت جس کانعرہ اورتحریک کرپشن کے خلاف ہے انہوں نے بھی سابق عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومتوں میں ہونے والے کرپشن پر کوئی خاص کام نہیں کیا ، دوسراصوبائی احتساب کمیشن کوبھی سیاست کی نظر کیا جو نعرہ احتساب کے بارے میں عمران خان نے لگایا تھا کہ احتساب کمیشن آزاد اور خود مختار ہوگا اس کے پر کاٹے گئے یا اب بھی کوشش ہے کہ ان کو محدود کیا جائے ۔ خیبرپختونخوا میں عمران خان اور تحریک انصاف کو دیکھنا چاہیے کہ کرپٹ لوگوں کے خلاف ایکشن کیوں نہیں لیا جاتا ۔لیکن جو کرپشن اور لوٹ مار پیپلز پارٹی دور میں ہوئی تھی جس میں اربوں اور کھربوں کا پیسہ کھایا گیا اس طرح کرپشن صوبوں میں نہیں ہوسکتی کیوں کہ صوبوں کے پاس فنڈز کی کمی ہوتی ہے وہاں کم حساب سے کرپشن کی جاتی ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ میاں اور زرداری تو بھائی بھائی بن چکے ہیں ، ملک میں ہونے والی لوٹ مار اور کرپشن کو کون روکے گا اور ان لوگوں سے کرپشن کا حساب کون لے گا جن کی وجہ سے عام لوگوں کی زندگی اجیرن بن چکی ہے۔ کرپشن اور اس لوٹ مار کے خلاف عوام کو آواز بلند کرنا ہوگا اور آئندہ ان پارٹیوں اور کرپٹ افراد کو مکمل طور پر بلیک آوٹ کرنا ہوگا جبکہ میاں زرداری کرپشن اور لوٹ مار میں بھائی بھائی بن گئے ہیں ان کے خلاف جب تک عوام خود فیصلہ نہیں کرتی ان کا بھائی چارہ قائم رہے گا۔ جب کرپٹ افراد ایک دوسرے کا ساتھ دے سکتے ہیں تو عام اورایماندار لوگ کرپٹ مافیاز اور ان کی کرپشن کے خلاف اکٹھی کیوں نہیں ہوسکتی ۔کرپشن اور اس ملک کو لوٹنے والوں کاجب تک احتساب نہیں ہوتا اس وقت تک ملک ترقی نہیں کرسکتا اور نہ ہی عام آدمی کی زندگی بہتر ہوسکتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *