مسلم لیگ (ن) کے ممنون حسین بھاری اکثریت سےملک کے 12ویں صدر منتخب ہوگئے

Mamnoo

مسلم لیگ (ن) کے ممنون حسین  بھاری اکثریت سے ملک کے نئے صدر  منتخب ہوگئے ہیں تاہم نومنتخب صدر مملکت 9 ستمبر کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

ملک کے نئے صدر کے لئے مسلم لیگ (ن) کے صدارتی امیدوار ممنون حسین اور تحریک انصاف کے صدارتی امیدوار جسٹس( ر) وجیہہ الدین احمد کے درمیان ون ٹو ون مقابلہ تھا ، مسلم لیگ( ن) کے امیدوار کو ایم کیو ایم، جے یو آئی (ف)، مسلم لیگ (فنکشنل)، مسلم لیگ (ض)، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی، مجلس وحدت المسلمین اور آزاد اراکین جبکہ تحریک انصاف کے وجیہہ الدین احمد کو جماعت اسلامی، عوامی مسلم لیگ اور آل پاکستان مسلم لیگ کی حمایت حاصل تھی، اس کے علاوہ پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، مسلم لیگ(ق) اور بی این پی عوامی نے انتخابی عمل کا بائیکاٹ کررکھا تھا۔

صدارتی انتخاب کے لئے قومی اسمبلی اور سینیٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کیا گیا جبکہ چاروں صوبائی اسمبلیوں میں بھی پولنگ اپنے مقررہ وقت پر شروع ہوئی جو سہ پہر 3 بجے تک بلا تعطل جاری رہی۔  غیر سرکاری غیر حتمی نتائج کے مطابق ممنون حسین بھاری اکثریت سے ملک کے نئے صدر منتخب ہوگئے ہیں، ایکسپریس نیوز کو ملنے والے اعداد و شمار کے مطابق سینیٹ اور قومی اسمبلی سے ممنون حسین کو 277 جبکہ ان کے مد مقابل وجیہہ الدین احمد کو 34 ووٹ ملے ہیں،بلوچستان اسمبلی میں 56 ارکان نے حق رائے دہی استعمال کیا جس میں سے 55 نے ممنون حسین جبکہ ایک نے وجیہہ الدین احمد کے حق میں ووٹ دیا۔ خیبر پختونخوا اسمبلی میں تحریک انصاف کے امیدوار کا پلڑا بھاری رہا جہاں 110 ارکان نے حق رائے دہی استعمال کیا جن میں سے وجیہہ الدین احمد کو 69 جبکہ ممنون حسن کو 41 ووٹ ملے اس طرح خیبر پختونخوا اسمبلی سے تحریک ا نصاف کے امیدوار نے 36.16 جبکہ ن لیگ کے امیدوار ممنون حسین نے 21.49 الیکٹورل ووٹ حاصل کئے۔ سندھ اسمبلی میں 69 ارکان نے پولنگ میں حصہ لیا جس میں سے ممنون حسین کو64 اور وجیہہ الدین احمد کو 5 ووٹ ملے اس طرح ممنون حسین نے 25 جبکہ وجیہہ الدین احمد نے 2 الیکٹورل ووٹ حاصل کئے۔

واضح رہے کہ ملک کے موجودہ صدر آسف علی زرداری کی مدت 8 ستمبر کو ختم ہورہی ہے اور نئے صدر مملکت 9 ستمبر کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *