STATUS QUO!

photo-nusrat-javed-sb

19ویں صدی کے آغاز تک فرانس میں انقلاب کے بعد ردانقلاب اور پھر جمہوری معاشرے کی تشکیل کا آغاز ہوچکا تھا۔ جرمنی،جواُن دنوں پرشیا کے نام سے مشہور تھا،لیکن ابھی تک ہمارے ’’پنج ہزاری‘‘ اور ’’دس ہزاری‘‘نوعیت کے دلاوروں کا غلام تھا۔ دلاوروں کے آگے بے بس ہوئی قوم نے موسیقی کے ذریعے اپنے جذبات کے اظہار کی راہ نکالی۔ موسیقی کے ذریعے دلوں میں بڑھتی نفرت،غصے اور تبدیلی کی خواہش بیان کرنے کے کئی تخلیقی طریقے ڈھونڈنے کے باوجود وہاں کے لوگوں کے ذہنوں میں مسلسل اُمڈتے سوالات کے جوابات نہ مل پائے۔ ان سوالوں کے جواب ڈھونڈتے ہوئے جرمن قوم نے بے تحاشہ فلاسفر پیدا کئے۔ منطق وفلسفے سے جرمن لوگوں کی اس لگن ہی نے ہمارے اقبال کو بھی وہاں کی ایک یونیورسٹی سے اس مضمون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے پر اُکسایا تھا۔
آج کا پاکستان کئی حوالوں سے جرمنی کے اس دور سے کافی مماثلت رکھتا ہے جس نے بالآخر ہٹلر جیسا سفاک آمر پیدا کیا تھا۔ خوفِ فسادِ خلق اور اپنی عزت وجان بچانے کے ڈر سے میں ٹھوس مثالوں کے ذریعے اپنے اس دعویٰ کو ثابت کرنے کو ہرگز تیار نہیں۔ ویسے بھی مجھے عرض صرف یہ کرنا ہے کہ شاید بڑی تگ ودو کے بعد ہم کوئی ’’میڈاین پاکستان‘‘ ہٹلر کو اپنے سروں پر مسلط کرہی لیں۔ اس کے باوجود مگر نطشے،گوئٹے،شوپن ہار اور ہیگل جیسے فلسفیوں سے مستقل محروم رہیں گے۔
اختراع اور ایجاد میری قوم کا شیوہ نہیں۔ ہم ’’درے‘‘ میں کلاشنکوف کی نقل بناتے ہیں۔ ’’لالہ موسیٰ‘‘ میں دونمبر کی Rolexگھڑیاں اور اٹک کے اس پار افغانستان کو ملانے والے علاقوں میں مشہور برانڈز کے لیبل لگے سگریٹ۔
لفظوں اور اصطلاحوں کو ان کے ٹھوس تناظر میں رکھ کر سمجھنے کے بجائے ہم ان کی جگالی میں مصروف رہتے ہیں۔ مثال کے طورپر ایک اصطلاح ہے Status Quo۔ یہ اصطلاح لاطینی زبان سے انگریزی میں آئی ہے۔ اس کے معنی اتنے پیچیدہ اور گہرے ہیںکہ انگریزی زبان کو بھی اس کا معقول ترجمہ میسر نہ ہوپایا۔ اُردو بے چاری کیسے ڈھونڈ پائے گی۔ Status Quoکا اُردو مترادف ڈھونڈنے کا تردد نہ کرنے کے باوجود یہ اصطلاح ہمارے کئی حکمران اور سیاست دان تقریباََ1996ء سے مسلسل استعمال کئے چلے جارہے ہیں۔
نواز شریف صاحب جب ’’ہیوی مینڈیٹ‘‘ کے ساتھ ایک بار پھر اس ملک کے وزیر اعظم بنے تو ’’Status Quoتوڑنے‘‘ کے لئے انہوںنے سب سے پہلے فاروق لغاری سے 58(2)Bوالا وہ اختیا ر چھین لیا جس کی بدولت پیپلز پارٹی کے بنائے صدر نے اپنی ہی جماعت کی وزیر اعظم-بے نظیر بھٹو-کو 1996ء میں کرپشن کے الزامات لگاکر گھر بھیجا تھا۔ محترمہ کی قبل از آئینی مدت فراغت نئے انتخابات کا باعث بنی۔اس کے نتیجے میں نواز شریف کو ’’ہیوی مینڈیٹ‘‘ملا۔ اس مینڈیٹ کو نواز شریف نے اس مینڈیٹ کے اصل سہولت کار-فاروق لغاری-کے پر کاٹنے کے لئے استعمال کیا۔
فاروق لغاری کو آج کا ممنون حسین بنانے کے بعد نواز شریف کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کی فکر لاحق ہوگئی۔ شاہ صاحب قطعاََ ذاتی وجوہات کی بناء پر محترمہ بے نظیر بھٹو سے ناراض ہوگئے تھے۔ اپنے غصے کو انہوں نے ’’عدلیہ کی آزادی‘‘ کا نام دے کر ان کی دوسری حکومت کے خلاف استعمال کرنا شروع کر دیا۔ نواز شریف کو شاہ صاحب ایسا کرتے ہوئے اتنے ہی ’’انقلابی‘‘ نظر آنا شروع ہوگئے جیسے بعدازاں کئی برسوں تک افتخار چودھری بھی نظر آتے رہے۔ سجاد علی شاہ ترنگ میں آکر اس حد تک چلے گئے کہ فاروق لغاری نے جب محترمہ کی دوسری حکومت کو فارغ کیا تو موصوف نے اسے ٹھوس دلائل کے ساتھ آئینی اور قانونی عمل قرار دے دیا۔ یہ بات یاد رکھے بغیر کہ صرف 4 ہی سال قبل 1992ء میں نسیم حسن شاہ کے سپریم کورٹ نے ایک اور صدر غلام اسحاق خان کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 58(2)B کے تحت نواز حکومت کی معزولی کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔
سجاد علی شاہ نے نسیم حسن شاہ کے اس فیصلے کے خلاف احتجاجی نوٹ لکھتے ہوئے اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کیا تھا کہ اعلیٰ عدلیہ -ان کی نظر میں- پنجاب کے سیاستدانوں کی سہولت کے لئے آئینی معیار کو جانچنے کے لئے وہ پیمانے استعمال نہیں کرتی جو چھوٹے صوبوں سے آئے سیاستدانوں کے ’’خلاف‘‘ استعمال ہوتے ہیں۔ لاڑکانہ سے آئی وزیر اعظم کو گھر بھیج کر سندھ سے آئے چیف جسٹس سجاد علی شاہ اپنے احساس جرم سے نجات پانے کے لئے کسی ایسے موقع کی تلاش میں تھے جہاں وہ پنجاب سے تعلق رکھنے مگر’’ہیوی مینڈیٹ‘‘ سے وزیر اعظم بنے نواز شریف کو بھی ’’عدلیہ کی آزادی‘‘ سے روشناس کروا سکیں۔ سردار فاروق لغاری کی طاقت پر نواز شریف کے لگائے زخم بھی ابھی تازہ تھے۔ صدر لغاری، چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہوگئے۔
برسرِ میدان مقابلہ کرنے کے بجائے نواز شریف، شہباز شریف اور چودھری نثار علی خان کے ہمراہ اس وقت کے آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کے ساتھ مسلسل تین روز تک خفیہ ملاقاتیں کرتے رہے۔ بالآخر جنرل کرامت کو قائل کرلیا گیا کہ لغاری اور سجاد علی شاہ باہم مل کر سیاسی عدم استحکام کو پیدا کر رہے ہیں۔ ان دونوں کی فراغت قومی سلامتی کی ضرورت بن گئی۔
فاروق لغاری اور جہانگیر کرامت کو فارغ کرنے کے بعد بھی نواز شریف کو چین نہ آیا۔ موصوف کی سوئی خلقِ خدا کو سستا اور فوری انصاف مہیاکرنے پر اٹک گئی۔ یہ انصاف فراہم کرنے کے لئے ’’شریعت بل‘‘ متعارف ہوا۔ میں نے اس بل کو نواز شریف کی جانب سے ’’امیر المومنین‘‘ بننے کی خواہش کے طور پر بیان کرنا شروع کیا تو وزیر اعظم بہت ناراض ہوگئے۔ میری شکل کہیں دیکھتے ہی طنز بھری حقارت سے مجھے ’’Status Quo کا حامی‘‘ کہہ کر پکارتے۔ میں مسکراکر خاموش ہو جاتا۔
جنرل جہانگیر کرامت مگر آرمی چیف تھے۔ انہیں نواز شریف کی پاکستان میں واحد فیصلہ کن قوت بن جانے کی لگن سے بے اطمینانی محسوس ہونا شروع ہوگئی۔ یہ بے اطمینانی جب اپنی انتہاء کو پہنچی تو انہوں نے نیول کالج لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی امور کے بارے میں اجتماعی پالیسی سازی کی ضرورت پرزور دیا اور اس ضمن میں قومی سلامتی کونسل کے قیام کا مطالبہ بھی کردیا۔
اس تقریر کے عین ایک دن بعد 8اکتوبر 1998ء کے روز مری میں نواز شریف کی جہانگیر کرامت سے ملاقات ہوئی۔جنرل نے استعفیٰ دے دیا۔ پرویز مشرف ان کی جگہ تشریف لائے۔ وہ Status Quoکے نواز شریف کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑے باغی نکلے۔کارگل کی چوٹیوں کے ذریعے سری نگر پہنچنے میں ناکام رہے تو جھنجلاہٹ میں بالآخر 12اکتوبر 1999ء کرڈالا۔
اقتدار سنبھالنے کے بعد جنرل پرویز مشرف نے بھی ایک سات نکاتی ایجنڈے کے ذریعے Status Quoسے نجات پانے کا عہد کیا۔ میں بدنصیب ان کی نظر میں Status Quoکا محافظ ٹھہرا۔ Status Quoکے اپنے تئیں مخالف بنے جنرل مشرف نے لیکن چودھری شجاعت حسین جیسے انقلابی اور لال حویلی سے اُٹھے بقراط سیاستدانوں کی معاونت سے نو سال اقتدار کے مزے لوٹے۔ ان کی رخصت کے بعد سے Status Quoسے جنگ کا ذمہ اب عمران خان اور ان کی تحریک انصاف نے اپنے سر لے رکھا ہے۔میں ان دنوں نواز شریف سے ’’لفافے‘‘ لے کر Status Quoکوبچانا چاہ رہا ہوں جبکہ شہباز شریف کے دریافت کردہ بہت ہی بڑے انقلابی جہانگیر ترین ان دنوں اپنے ذاتی طیارے سمیت کپتان کو سپرسانک رفتار کے ساتھ انقلاب کی طرف رواں رکھتے ہوئے ہیں۔
اندھی نفرت وعقیدت کی غلامی میں ہیجانی ہوئے معاشروں میں لفظ محض دہرائے جاتے ہیں۔ ان کے معنی پر غور کرنے کو کوئی تیار ہی نہیں ہوتا۔ غوروفکر سے محروم ہیجانی کیفیات ہٹلر جیسے کسی دیدہ ور کو جنم دے کر ہی ختم ہوتی ہیں۔ دیکھتے ہیں ہمارے ہاں تاریخ خود کو کب اور کیسے دہرائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *