سکھ نے مسلمان عورت سے شادی کرلی، گوردوارے پر مسلح افراد کا قبضہ

gordwara

مختلف مذاہب کے مرد اور عورت کی شادی ہمیشہ فساد اور تنازعات پر منتج ہوتی ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ لندن میں پیش آیا جب سکھ نے مسلمان عورت سےشادی کر کے دونوں فرقوں کے لوگوں کو احتجاج پر مجبور کر دیا۔ یہ احتجاج اتنی شدت اختیار کر گیا کہ کچھ مسلح مسلمان شہریوں نے سکھوں کی مذہبی عمارت گردوارہ پر قبضہ کر لیا اور برطانوی پولیس کو حرکت میں آنا پڑا۔برطانوی پولیس نے 55 مسلح افراد کو بلیڈ سمیت اتوار کےروز سکھوں کے گردوارہ سے گرفتار ر لیا۔ برطانیہ کے مرکزی علاقے لیمنگٹن سپا میں اس وقت مسلح پولیس اہلکاروں کو حرکت میں آنا پڑا جب کچھ افراد زبردستی ایک گردوارہ میں داخل ہو گئے۔ 55 افراد کو گرفتار کیا گیا اور ان کے قبضے سے چھڑا لیے گئے۔ گرمل سنگھ نے بتایا کہ لوگ آزادی سے گردوارہ میں داخل ہوئے اور کوئی توڑ پھوڑ نہیں کی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ لوگوں نے نمازیں ادا کیں اور دھرنا دیا جس کا مقصد ایک سکھ کی شادی ایک غیر سکھ سے ہونے پر احتجاج تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ شادی ایک مقدس رشتہ ہے جو کسی بھی مذہب کے لوگ آپس میں جوڑ سکتے ہیں لیکن کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ سکھ کو سکھ عورت سے ہی شادی کرنی چاہیے۔دی انڈیپینڈینٹ کی رپورٹ کے مطابق ایک احتجاجی نے فیس بک پر اپنا احتجاج براہ راست دکھایا۔ ایک چشم دید گواہ نے بتایا کہ احتجاج بہت پر امن تھا۔ کوئی شور شرابا نہیں تھا۔ احتجاج کرنے والے لوگوں نے کرپان اٹھا رکھے تھے ۔یاد رہے کہ انگلینڈ اور ویلز میں سکھوں کی تعداد 4 لاکھ سے بھی زیادہ ہے جو کل آبادی کا تقریبا 1 فیصد بنتا ہے۔ عیسائیوں کی تعداد 60 فیصد جب کہ 5 فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ انگلینڈ میں بسنے والے ہندو لوگ کل آبادی کا ڈیڑھ فیصد ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *