معاشرے اور مذہب کی کشمکش

Muhammad Asif
معاشرے نے جیسے جیسے ترقی کی ہے اس کا مقصد تعمیری ہی رہا ہے۔ چاہے اس مقصد کا حاصل یااس کوشش کا نتیجہ منفی یا تخریبی ہی کیوں نہ نکلا ہو۔
سماج کے ایک ساتھ بڑھنے سے جو بھی تبدیلیاں سامنے آئی ہیں ان میں سے مثبت پہلو ڈھونڈنےکے لیےکسی نہ کسی درجے میں ایک طبقہ ہمیشہ سے کوشش کرتا چلا آرہا ہے۔ آپ تاریخ اٹھا کر دیکھیے تو یہ چیز ایک مشترک بنیاد کے طور پر سامنے آتی ہے کہ معاشرے کی تعریف اور اسکے عملِ اطلاق میں ایک ارتقاء کا تصور پیشِ نظررہا ہے۔
انسان کے تصورات اور خیالات کو آزاد اور کسی حدود کے تابع نہ رکھنے کے تصور نے بہت سے تجربات کو جنم دیا۔اور ان تجربات کے نتیجے میں اخلاقی پہلووں پر ضرب بھی پڑی۔ البتہ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ انسان نے اپنے ذہن کی تسکین حاصل کرنے کی کوشش کی تجسس اور تخیل کو عملی شکل میں سامنے دیکھ کر انسان نے معاشرے کو ہمیشہ سے اعلی سے اعلی نہج پر قائم رکھنے کی سعی جاری رکھی ہے۔
میل ملاپ، نسل کی بڑھوتری، حتی کہ نسل کُشی ، ہرمعاملے میں معاشرے نے جمود کو ختم کرنے اور آگے بڑھنے کی کوشش کی۔
جبکہ اس کے برعکس ایک مخصوص ذہن کے حامل طبقے نے معاشرے کی سوچ کو ایک محدود سے دائرے میں رکھنے کی بھی کوشش کی اور اس کی ایک لمبی تاریخ ہے۔
میری ناقص رائے میں دونوں طبقات کی نیت پر شک نہیں کیا جاسکتا۔
وہ طبقہ جو ہر نظریے اور سوچ کو عملی شکل کی کسوٹی سے گزار کر تجربہ حاصل کرنے کے بعد اس کے نتائج پر غور کر کے اور اس سے اپنی راہ متعین کرے، میری نظر میں بصارت کا توحامل کہا جاسکتا ہےمگر بصیرت سے محروم گردانا جائے گا۔اس لیے کہ انسان کے پاس شعور ہے وہ محسوس سے غیر محسوس جان سکتا ہے۔ وہ اپنے فہم اور ادراک سے آنے والے حالات کو جاننے کی طاقت رکھتا ہے۔
دوسری جانب جو وہ طبقہ جو ذہن و خیال پر بابندی لگاتا ہے، معاشرے میں انسانی فکر کے آگے رکاوٹیں کھڑی کرتا ہےوہ اس وقت زیادہ قصوروار ٹھہرتا ہے جب علمی بنیادوں پر اپنے اقدام کا جواز پیش کرنے میں ناکام رہتا ہے۔
تاریخ سے گفتگو کی جائے تویہ راز آشکار کرتی ہے کہ یورپ آج مذہب بیزاری کی جس سطح پر کھڑا ہے اور آزاد خیالی کی جس روش پر قائم ہے اس کے پیچھے بذاتِ خود آزاد خیال طبقہ نہیں بلکہ اسی طبقے کی کوشش کارفرما ہے جسے معاشرے کو حدودو قیود میں رکھنے کی خواہش رہی ہے۔
عمرانیات کے طالب علم یہ بات جانتے ہیں کہ عیسائیت میں جب شادی کے بعد طلاق کو پیچیدہ اور ناقابلِ برداشت کر دیا گیا یہاں تک کہ ایک بار شادی کے بعد طلاق کے تصور کو ہی ختم کیا جانے لگا تو ایک وقت وہ آیا کہ انسان نے آزاد خیالی کی روش اپنائی اور بخیر شادی کے ہی خاندانی نظام کی داغ بیل ڈال دی۔ آج سارا یورپ اسی طبقے کی غلط سوچ کے مقابلے میں آزاد خیالی کا راستہ اپنائے ہوئے ہے۔
برینڈررسل سے کسی نے پوچھا کہ آپ نے قرآن پاک پڑھا ہے؟ تو اس کا جواب تھا کہ ساری الہامی کتابیں ایک سی ہیں۔
اس کے یہ الفاظ کہ ساری کتابیں ایک سی ہیں۔ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ اس وقت سے پہلے جو الہامی کتابیں تھیں ان کا بیڑا ظاہر ہے مذببی طبقے کے ہاتھ میں تھا۔ اور اس طبقے کے پاس وہ فہم اور شعور نا تھا جو اس عظیم مفکر کے منتشر ذہن کو سیراب کر سکتا۔ ورجہ جس قدرآزاد خیال طبقے نے رسل سے استفادہ کیا ہے اتنا ہی علمی سرمایا رسل مذہب کو بھی دے سکتا تھا۔
معروف سائنس دان رچرڈ ڈاکنز اس خدا کو جو عیسائیت نے اس کے سامنے پیش کیا اس کو ماننے سے انکار کردیا کیوں؟ اس لیے کہ جس طبقے نے خدا شناسی کو عوام سے روشناس کرانے کا بیڑا اٹھایاہوا تھا وہ خود خداشناس نہ تھا۔
جب اس بحث کو ہم اپنے پاکستان کے معاشرے کے تناظر میں دیکھتے ہیں تو یہ بات بہت آسانی سے سمجھ آجاتی ہے کہ آزادخیالی کی وہ روش جو اس وقت اپنی لہروں میں تیزی اور طغیانی لارہی ہے اس کے پیچھے بھی ہماری یہی پلٹون شامل ہے۔مسجد و منبر جو اپنی اصل خدمت اور مقصد کو فراموش کر چکے ہیں۔ الحاد جو ہماری نوجوان نسل کو ہر طرف سے اپنے گھیرے میں لینے کے در پہ ہے اس کے سامنے بند باندھنے کے لیے جو علم اور فہم درکار ہے مذہبی طبقہ اس سے تہی داماں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *