اپنے وجودمیں ایک عدالت

muhammad-imran-chaudhry

حکایات مولاناروم میں مرقوم ہے کہ ایک مسجدمیں چارہندوستانی مسلمان نمازکے لیے تشریف لائے،چاروں میں ایک دوسرے کا عیب نکالنے کی عادت تھی۔چاروں نمازیوں نے نیت باندھ لی اورنمازپڑھنے لگے۔اسی وقت مسجدکاموذن آیاتوایک نمازی نے اُس سے دریافت کیا۔محترم!کیاابھی نمازکاوقت نہیں ہوا؟۔دوسرے نمازی نے فوراًکہا۔"دیکھواِس نے بات کرلی۔اب اس کی نمازگئی۔ "تیسرے نمازی نے کہا۔"تُم اُسے کیا کہہ رہے ہوخودتمہاری نمازجاتی رہی۔"چوتھے نمازی بھی دُعائیہ اندازمیں گویاہوئے۔اللہ تیراشُکرہے کہ سب بولے لیکن میں نہیں بولا۔"اپنی سیاسی جماعتوں کی تعریف میں رطب اللسان پاکستانی سیاست کارواں کااحوال بھی اِن نمازیوں جیسا ہے۔سب کا روّیہ ایک سا،سب کے کرتوت ایک جیسے۔ایک دوسرے پردشنام طرازی روزمرہ کامعمول ہے۔گِلہ اِن راہنماوں سے بھی کیا ہو۔حکومت کسی کووراثت میں اورکسی کو اتفاق سے مِل گئی۔وہ زمین جولاکھوں جانوں،لاکھوں عصمتوں سے باوضو ہوکرپاک ہوئی۔اس کی قدروقیمت وہ کیا جانیں جو
'شریک سفر"نہ ہوتے ہوئے بھی"منزلیں"پاگئے۔اُنہیں راہنمائی کا مطلب"بازی گری"ہی سمجھایاگیاتھااورپھریہ توبازی گروں کاکمال ہی تھا کہ سنہرے مستقبل کا سپنادکھادکھاکراُنہوں نے قوم کوقدم قدم پرمایوس کیا۔گروہ بازیگراں باری باری ایک دوسرے کوغداراورمجرم کہتارہااوراتنی باریہ گردان ہوئی کہ لاتعداد"غدار"اور"مجرم"سامنے آگئے اوراِس ہجوم میں اصل اورنقل کی پہچان کھوگئی۔سرے محل سے پانامہ لیکس تک سب حقیقتیں فسانہ ہوگئیں۔غورکریں توہم خودہی سب سے بڑے مجرم ہیں۔ اوریہ حقیقت بھی ہے کہ ہم نعروں،نظریوں،منصوبوں پرراہنماؤں کی عملی کاروائیوں کے منتظررہے۔اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہوگئے۔ذاتی اغراض پراجتماعی مفادات قربان کربیٹھے۔اگرہم سب ایک ہوکرہفتے کاایک دن ہی قومی تعمیروترقی کے لیے وقف کرلیتے توٹوٹی پھوٹی سڑکیں دوبارہ تعمیرہوسکتی تھیں۔کھیت کھلیان آباداورکسان شادہوتے۔تعلیمی ادارے،ہسپتال،عوامی فلاح کے سینکڑوں ادارے ترقی وکامرانی کے درواکرتے۔روزی کُھلے بندوں میسّرآتی۔خداوندکریم کی رحمت ہوتی۔سچے مسلمان،اچھے پاکستانی اکثریت میں نظرآتے لیکنہ ہم نے کبھی اپنے وجود میں کوئی عدالت ہی قائم نہیں کی۔جہاں اپنی خوبیوں،خامیوں پرگرماگرم بحث ہوتی۔اوراگرہم مجرم ثابت ہوتے توپھراپنی سزاخودہی تجویز کرنے کا حوصلہ ہوتا۔ہم توگزشتہ69سالوں میں سے ایک ہی ملک میں رہتے ہوئے دیہی وشہری زندگی کاتفاوت ہی دورنہ کرسکے۔گاؤں ہمارے تہذیبی عمل کے سچے عکاس ہیں۔قیام پاکستان سے لے کراب تک گاؤں سے شہروں کوجانے والی پکڈنڈیوں پرمسافروں کے تیزتیزچلتے قدموں سے اُٹھتی دُھول گواہی دیتی ہے کہ سادگی سے ناآشناذہنوں کو؛چمک دمک؛ہمیشہ سے مرعوب کرتی رہی ہے ۔بگڑے حالات سنوارنے کی دُھن میں مگن دیہی علاقوں کے باسی وسائل کم،مسائل زیادہ کی تلخ حقیقت کے پیش نظرروٹی روزی کے لیے شہروں کی جانب ہجرت پرمجبورہیں۔منتخب عوامی نمائندوں کاایک؛موثرذریعہ اِنکم؛ٹھیکے داری کاتحفہ،ناقص رابطہ سڑکوں کی بدولت گاؤں ویران اورشہرگنجان آبادیوں کاروپ دھاررہے ہیں۔پاکستانی کی دیہی آبادی جس کاتناسب تقریباً70فیصدہے۔وہاں زندگی اُسی طرح ساکت وجامدہے۔دُنیا بھرمیں ترقی کاعمل جاری وساری ہے پاکستان بھی دعویدارہے۔ہرآنے والی اورجانے والی حکومت اعدادوشمار کے ذریعے "ثبوت وشواہد"دیتی ہے کہ اُنہوں نے جوکام کیاوہ"حاتم"سے بھی نہ ہوگا۔لوگ کہتے ہیں کہ روزی روٹی کے دھندوں سے فرصت ملے تو سوچیں،بس ایک کان سے سُنتے ہیں دوسرے سے نکال پھینکتے ہیں۔"نکاسی"کایہ عمل بھی غنیمت ہے کہ ذہن زیادہ متاثرنہیں ہوتا۔ترقی کے لاکھ دعوے اوردیہاتوں کی صورتحال جُوں کی تُوں ہے۔ان بیچاروں کا کیا ہے۔ ازل سے ٹھہرے "پینڈو" اور شاید ابد تک"پینڈو" ہی رہیں۔نا خواندہ اور پسماندہ۔پی ٹی وی ان کیلئے ایک غیر ملکی چینل ہے۔جس پر دکھایا جانے والا "ہمارا کلچر "ان کیلئے ایک الف لیلوی داستان ہے۔پُرانی روایت کے یہ امین اِس قدر مجبورومقہور ہیں کہ الیکشن ہو یا ریفرنڈم۔یہ تو معاشرے میں قد آور سرداروں،وڈیروں،گودوں اور جاگیرداروں کیلئے فقط"ریموٹ کنٹرول" بونے ووٹر ہیں جو پانی، بجلی،صحت،تعلیم ودیگر بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی کے لارے سُننے اور "آوے ای آوے"کے نعرے لگانے کی ڈیوٹی پر مامور ہیں۔"قومی ترقی"اس قدر تیز ہے کہ یہ اُنیسویں صدی کے باسی ننگے پاوٗں ان گنت چھالوں سمیت ساتھ دینے سے معذور ہیں۔دیہی آبادی پر روا رکھے جانے والے مظالم کی اگر چھان بین کی جائے تو بہت سے تلخ حقائق اور ناانصافیاں سامنے آئیں گی۔پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا بھی اِس معاملے میں بے بس نظر آتا ہے۔عوامی نمائنگی کے سب دعوے جھوٹے اور بیکار ہیں۔نہ یہ جیالے ہیں نہ متوالے اور نہ ہی کرماں والے ہیں۔یہ تو اب سیاست بیزار ہیں۔انہیں تو اب سیاست کے نام سے ہی چِڑ ہو گئی ہے۔چانکیہ ولی کے پیروکاروں نے غلبہ پا لیا ہے۔ انہوں نے قائداعظم کے بعد"قائد ثانی"بہت سے دیکھ لئیے ہیں لیکن کوئی ایسا نہیں مِلا جو قائد کے فرمودات پر عمل پیرا ہو۔ذرعی و سماجی انقلاب شاید ان کا مقدر ہی نہیں۔آنے والی نسلوں کا مستقبل بھی مخدوش نظر آتا ہے۔جاہل پڑھنا لکھنا سیکھ لے،پیٹ بھر روٹی میسرآجائے۔انساف کی عملداری ہو۔اندھیرے دور اور اُجالا قریب ہو۔معلوم نہیں عِلم سے محروم اور ذاتی مفادات کے دائرے میں رقص کرتی بدمست سیاست میں کب اور کیسے نظم و ضبط پیدا ہوگا۔ٹاٹ سکولوں میں پڑھنے والوں کو تجربہ ہے کہ بچپن میں پڑھتے ہوئے کوئی غلطی ہو جاتی تھی تو استاد محترم بھی کان کھینچتے اور کبھی "مولا بخش"سے خاطر تواضع کرتے تھے۔کیا آپ محسوس نہیں کرتے کہ نہ حرف ہماری سیاست کو ہمیشہ سے ایک عدد "مولا بخش"کی ضرورت رہی ہے بلکہ اب تو یہ عوام کیلئے بھی کِسی حد تک ضروری ہو گیا ہے کیونکہ وہ ووٹ دیتے ہوئے جو فاش غلطی کرتے ہیں اُس پر پورے پانچ سال پچھتاتے رہتے ہیں۔
دُعا کیجئے ایک ایسے انقلاب -------ایک ایسے قائد کی۔جو ہر ایک کیلئے ایک سا ہو۔جو اِس قوم کو واقعی قوم بنا دے۔وہ جو تا حال ہمارے خوابوں میں ہے کاش ہماری زندگی میں آجائے۔
جو رات ہوتے ہی خواب دیکھیں کہ صُبح کو انقلاب ہوگا
میرے قبیلے کے وہم پر وردہ لوگ اکثر ہیں ایک جیسے

loading...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *