ہتک عزت

gul

قریشی صاحب نہایت عزت دار انسان ہیں، گریڈ17 کے اُستاد ہیں اور انتہائی محنت سے پڑھاتے ہیں۔ آج سے ایک سال پہلے انہوں نے اپنے ایک شاگرد کو معمولی سی ڈانٹ پلائی تو شاگرد نے اپنے صحافی باپ سے کہہ کر قریشی صاحب کے خلاف یہ خبر لگوا دی کہ قریشی صاحب اپنے طالبعلموں کو اچھے نمبردلانے کا لالچ دے کرلمبی رقم بٹورتے ہیں ۔قریشی صاحب یہ خبر پڑھ کر ہکا بکا رہ گئے کیونکہ وہ تو سرے سے کسی کو بھی ٹیوشن نہیں پڑھاتے تھے بلکہ ٹیویشن کلچر کے خلاف تھے۔اخبار میں خبر لگی تو قریشی صاحب کے مخالفین کو موقع ہاتھ آگیا، اگلے دن کالج آئے تو نوٹس بورڈ اور کالج کی دیواروں پر اس خبر کی فوٹو کاپیاں لگی ہوئی تھی۔اس روز قریشی صاحب اتنے پریشان ہوئے کہ ٹھیک سے کلاس بھی نہیں لے سکے اور وقت سے پہلے ہی گھر چلے گئے۔ گھر میں ایک اور اندوہناک خبر ان کی منتظر تھی، پتا چلا کہ بیٹی کا رشتہ ٹوٹ گیا ہے کیونکہ لڑکے والوں نے بھی یہ خبرپڑھ لی ہے۔
قریشی صاحب دو ہفتے تک بیمار رہے، پھر پتا نہیں ایک دن کیا سوجھی، میرے پاس آئے اور مدلل انداز میں بولے’’میں ہتک عزت کا دعویٰ کر رہا ہوں‘‘۔
میں اچھل پڑا’’لیکن قریشی صاحب!آپ تو اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہتک عزت کے دعوے یونہی دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں، یہ بڑا لمبا کام ہے، آپ کیوں ان چکروں میں پڑ رہے ہیں؟‘‘
قریشی صاحب نے ایک گہری سانس لی اور مٹھیاں بھینچتے ہوئے بولے’’میں نے ایک وکیل ہائر کر لیا ہے، کل کیس دائر ہوجائے گا‘۔
مجھے پتا تھا کہ اب قریشی صاحب کے ساتھ کیا ہوگا، پہلے وہ بڑے جوش کے ساتھ وکیل کو پیسے دیں گے، پھر کورٹ فیس ادا کریں گے، پھر ہر چوتھے دن ایک نئی امید کے ساتھ کورٹ کے چکر کاٹیں گے، پھر ایک دن ان کا بھیجا ہوا نوٹس مخالف پارٹی کوبھیجا جائے گا اور وہ قبول کرنے سے انکار کردے گا۔۔۔پھر دوسرا نوٹس جائے گا۔۔۔اور پھر پیشیاں شروع ہوجائیں گی، قریشی صاحب اپنے دوستوں سے کٹ جائیں گے اور کچہری میں ہی ذلیل و خوار ہوتے پھریں گے۔۔۔اور پھر ایک دن وہ یہ سب بھول چکے ہوں گے۔آج تک تو ایسا ہی ہوتے دیکھا ہے۔۔۔!!!
الحمدللہ میری بات سچ ثابت ہوئی ، قریشی صاحب چونکہ ضد کے پکے تھے لہذا انہوں نے ہتک عزت کا دعویٰ دائر کر ہی دیا۔عدالتی پروسیجر شروع ہوگیا اور اسی چکر میں میری اور قریشی صاحب کی ملاقاتیں بھی کم ہوگئیں۔ میں اپنے کام میں مصروف ہوگیا اور قریشی صاحب اپنی دوڑ دھوپ میں۔یونہی ایک سال بیت گیا،پرسوں اچانک وہ مجھے ایک بس سٹاپ پر کھڑے دکھائی دیے، میں نے جلدی سے ان کے قریب گاڑی روکی اور اندر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ قریشی صاحب خوش ہوگئے اور بڑی محبت سے گاڑی میں بیٹھتے ہی شکریہ ادا کیا۔ وہ پسینے میں شرابور تھے اور بار بار اپنا گیلا رومال ماتھے اور چہرے پر پھیر رہے تھے۔اے سی کی ٹھنڈک سے ان کے حواس بحال ہوئے تو میں نے حال چال کے بعد ہتک عزت کے کیس بارے پوچھا۔ قریشی صاحب نے جو جواب دیا اسے سن کر میں نے بے اختیار گاڑی سائیڈ پر روک دی۔ ’’یہ کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔یعنی۔۔۔آپ۔۔۔آپ جیت گئے؟‘‘
’’ہاں‘‘۔۔۔قریشی صاحب مسکرائے۔۔۔میں نے پوری طرح کیس کی پیروی کی، ہر پیشی پر حاضر ہوا اور کسی موقع پر بھی سستی کا مظاہرہ نہیں کیا۔۔۔نتیجہ یہ نکلا کہ نہ صرف میری مخالف پارٹی نے مجھ سے تحریری معافی مانگی‘ اخبار میں اپنی غلطی کا اعتراف کیا بلکہ جج صاحب کے حکم پر مجھے پانچ لاکھ ہرجانہ بھی ادا کیا گیا۔‘‘
میں نے کنپٹی کھجائی’’تو پھر آپ نے پانچ لاکھ کا کیا کیا؟‘‘
قریشی صاحب مسکرائے’’بیٹی کی شادی کی اور تھوڑا پرانا قرض اتارا۔۔۔‘‘
قریشی صاحب کے اس واقعے نے کم ازکم مجھ پر ثابت کر دیا کہ ہتک عزت کے قانون کی بھی کوئی حیثیت ہے ورنہ میں یہی سمجھتا رہا ہوں کہ یہ محض دھمکی کے لیے استعمال ہوتاہے ورنہ اس کے نتیجے میں ہوتا کچھ نہیں۔اصل میں ہر بندہ اپنی روٹی روزی میں مصروف ہوتاہے، کسی کے پاس اتنا ٹائم نہیں ہوتا کہ وہ اپنی ہتک کا بدلہ لینے کے لیے قانون کا سہارا لے، وکیلوں کو پیسے دے اور ’ازالہ حیثیت عرفی ‘ کے چکر میں مزید خوار ہوجائے۔لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہم اسی وقت قانونی جنگ ہارتے ہیں جب حق پر نہ ہوں یا سچائی ثابت کرنے کا وقت نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل کسی کو ہتک عزت کا نوٹس بھیجا جائے تو وہ اسے چیتھڑے سے زیادہ اہمیت نہیں دیتا۔ مخالف فریق بھی جانتا ہے کہ جس نے یہ نوٹس بھجوایا ہے وہ کچھ دنوں تک خود ہی تھک ہار کر بیٹھ جائے گا۔لیکن صاحب! کچھ سر پھرے ایسے موجود ہیں جو برے کو اس کے گھر تک چھوڑ کرآنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔قریشی صاحب کی مثال سامنے ہے، قریشی صاحب کی جھوٹی خبر لگانے والے کو آئندہ ساری زندگی یہ جرات نہیں ہوگی کہ وہ کسی کی پگڑی اچھال سکے، یقین کیجئے ایسی ایک دو مثالیں اور سامنے آجائیں تو لوگ کسی پر الزام لگانے سے پہلے سو بار سوچیں۔ہمارے ہاںیہ رواج ہے کہ جو الزام لگاتا ہے وہ اس بات پر سیخ پا ہوجاتاہے کہ اس کے الزام کو قانونی طور پربھی غلط کیوں ثابت کیا جارہا ہے‘ یہ لوگ اپنے آپ کو عقل کُل سمجھتے ہوئے کامل یقین رکھتے ہیں کہ ’مستند ہے ان کا فرمایا ہوا‘۔۔۔لہذا ان سے جو بھی اختلاف رکھتاہے وہ انتہائی جاہل اور مکروہ انسان ہے۔سچ صرف انہی پر آشکار ہوا اور بالفرض اگر ان کا الزام غلط بھی ہے تو اس سے کیا ہوتاہے؟ بس خاموشی اختیار کرلینی چاہیے۔
میں نے جب قریشی صاحب سے مقدمے کی تمام تفصیل سنی تو بڑی ہنسی آئی، قریشی صاحب بتانے لگے کہ ان پر جھوٹا الزام لگانے والے نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ وہ تو اتنا نڈر صحافی ہے کہ جرات اظہار کی پاداش میں چھ سال جیل بھی کاٹ چکا ہے۔بعد میں پتا چلا کہ موصوف 500 گرام چرس برآمد ہونے پر سلاخوں کے پیچھے گئے تھے۔قریشی صاحب بتا رہے تھے کہ جب جھوٹی خبر لگانے والے صحافی کو یہ پتا چلا کہ فیصلہ اس کے خلاف ہوگیاہے اور اب پانچ لاکھ دینے پڑیں گے تو اس نے فوری طور پر انہیں فون کیا اور کہنے لگا’میں معافی چاہتاہوں‘ زندگی میں پہلی بار غلط خبر لگ گئی‘۔ قریشی صاحب نے انتہائی اطمینان سے جواب دیا’کوئی بات نہیں، انشاء اللہ زندگی میں پہلی بار آپ سے غلط خبر لگی ہے اور پہلی بار ہی پانچ لاکھ دینے پڑیں گے‘ اس کے بعد آپ کو اپنے وجود سے اتنی نفرت ہوجائے گی کہ نہ آپ غلط خبر لگانے کی جرات کریں گے نہ کبھی پانچ لاکھ دینے کی نوبت آئے گی۔۔۔!!!‘‘

loading...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *