"میں یہ سمجھوں گی ٹھکانے لگا سرمایہ تن"

زینب طارق

cancer

میں ایک بزدل سی لڑکی ہوں، مجھے چوہے سے ڈر لگتا ہے، مجھے کاکروچ سے ڈر لگتا ہے، مجھے بادلوں کی گرج سے ڈر لگتا ہے ، لیکن خدا کی قسم مجھے ہندوستان سے ڈر نہیں لگتا- آج انڈیا نے ایک بار پھر میرے ملک کو للکارا ہے، میں بتا دینا چاہتی ہوں کہ اس شیطان نے اگر میری دھرتی کی طرف ایک انچ قدم بھی بڑھایا تو مجھ جیسے کمزور جسم بھی اس کا منہ نوچ لیں گے- میں کینسر کی مریضہ ہوں ، میرے لیے زندگی بہت کم رہ گئی ہے، مجھ سے کیموتھراپی کی تکلیف برداشت نہیں ہوتی، لیکن رب کعبہ کی قسم میں نے جب سے یہ خبریں سنی ہیں کہ ہندوستان اور پاکستان میں جنگ ہوسکتی ہے تب سے مجھے یوں محسوس ہورہا ہے جیسے میرے اندر کا سارا کینسر ختم ہوگیا ہے ، آج میں خود بستر سے اٹھی ہوں، آج میں نے وضو بھی خود کیا ہے، آج میں نے کرسی پر نہیں فرش پر سجدہ کیا ہے، میں جانتی ہوں یا میرا خدا جانتا ہے کہ میرے اندر یہ ساری توانائی پاکستان نے بھر دی ہے، اس وقت میری یہ تحریر میری بہن لکھ رہی ہے، مجھے کمپوزنگ نہیں آتی، مجھے الفاظ بنانے بھی نہیں آتے ، لیکن مجھے پاکستان سے محبت کرنا آتی ہے، میری دلی خواہش ہے کہ کاش انڈیا یہ جنگ چھیڑے اور میں مرنے سے پہلے اس کی چیتھڑے اڑتے دیکھوں، میں اپنے وطن کی طرف بڑھنے والے غلیظ قدموں کو کٹتے دیکھوں- میری بیٹی نے جب مجھے یہ خبر سنائی کہ 'دنیا پاکستان' پر اطلاع آئی ہے کہ پاک فوج نے پشاور موٹر وے پر طیاروں کی ہنگامی لینڈنگ کی مشقیں شروع کر دی ہیں تو میرے پاکستانی بھائیو بہنو۔ ۔ ۔ مجھے یوں لگا جیسے کوئی مجھے پکار پکار کے کہہ رہا ہے کہ زینب ۔ ۔ اٹھو، ایک اور معرکہ حق و باطل درپیش  ہے، میری عمر 22 سال ہے ، شائد میں عمر کا 23واں سال نہ دیکھ پائوں، لیکن مجھے لگتا ہے میں آج بھی اپنی فوج کے، اپنے پاکستانی بھائیوں کے شانہ بشانہ لڑنے کی ہمت رکھتی ہوں، میرے فوج کے جانباز سپاہیو! مجھے بھی موقع دو ، میں بھی اپنی قبر میں یہ اعزاز لے کر جانا چاہتی ہوں کہ میں نے وطن دشمنوں پرجیتے جاگتے حملہ کیا، خدا کے لیے اگر یہ جنگ چھڑتی ہے تو میرا جسم حاضر ہے، میرے جسم پر بم باندھ کر دشمن کی صفوں میں پھینک دو ۔۔۔۔"میں یہ سمجھوں گی ، ٹھکانے لگا سرمایہ تن"۔۔۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *