’’شیرو‘‘ مر گیا، پر یاد آتا ہے

رؤف طاہرRauf tahir

سعد رفیق یقیناً لاعلم ہوگا، ورنہ اس سے یہ سنگدلی سرزد نہ ہوتی۔ کشمیری/ امرتسری خاندان کے سپوت نے اندرونِ لاہور کے علاقہ لوہاری گیٹ میں آنکھ کھولی۔ یہیں پلا بڑھا ۔ دوستوں، میں ’’بریشم کی طرح نرم‘‘ یہ شخص ’’رزمِ حق و باطل ‘‘ میں فولاد ہوتا ہے۔ پاکستان میں آمریت اور جمہوریت کا معرکہ اس کے لئے رزمِ حق و باطل کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ عقیدہ اسے ساری عمر جمہوریت کی جنگ لڑنے والے اس کے والد سے ورثے میں ملا۔ چنانچہ غیرجمہوری طاقتوں اور ان کے آلۂ کاروں کے خلاف اس کے لہجے میں تندی و تلخی بھی در آتی ہے، لیکن ایسے میں بھی اسے روایتی اخلاقیات اور وضعداری کا پاس رہتا ہے۔ ان دنوں عمران خاں اور اس کا دھرنا سعد کا خصوصی ہدف ہے۔ پارلیمنٹ کے حالیہ اجلاس میں عمران خاں کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے وہ ’’شیرو‘‘ کا ذکر بھی لے بیٹھا جس پر ایک ٹی وی انٹرویو میں عمران کا کہنا تھا، ’’سعد رفیق کو شاید علم نہیں کہ ’’شیرو‘‘ تو تین ماہ پہلے اس دُنیا سے رخصت ہوگیا۔ اب ’’شیرو‘‘ کا ذکر کر کے اس نے میرے زخم ہر ے کر دیئے۔ یہ الفاظ ادا کرتے ہوئے یوں لگتا تھا عمران کے لہجے میں گہرا دُکھ سمٹ آیا ہو۔ اس کا چہرہ بھی اس کے داخلی کرب کا آئینہ بن گیا تھا۔
’’شیرو‘‘ کا ذکر، جہاں تک ہمیں یاد پڑتا ہے، سب سے پہلے سلیم صافی نے اپنے کالم میں کیا تھا۔ وہ دبئی میں ڈکٹیٹر مشرف کا انٹرویو کر کے آیا تھا۔ انٹرویو کے بعد غیر رسمی گپ شپ میں مشرف نے ’’شیرو‘‘ کا ذکر کیا، اور سلیم سے پوچھا، تمہیں علم ہے، ’’شیرو‘‘ اب کس حال میں ہے؟ عمران کے لئے یہ گراں قدر تحفہ ڈکٹیٹر نے ہمایوں گوہر کے ہاتھ بجھوایا تھا۔ کہا جاتا ہے، ڈکٹیٹر کی کتاب ’’آن دی لائن آف فائر‘‘ہمایوں ہی کے زورِ قلم کا نتیجہ تھی۔ کیا حسنِ اتفاق تھا کہ پاکستان کے پہلے ڈکٹیٹر فیلڈ مارشل ایوب خاں کی کتاب ’’فرینڈز ناٹ ماسٹرز‘‘ لکھنے کا اعزاز ، ہمایوں کے والد گوہر ایوب کو حاصل ہوا تھا جو فیلڈ مارشل کے عہد کے آخری برسوں میں سب سے طاقتور بیوروکریٹ سمجھے جاتے تھے۔ کہنے والے انہیں شیخ مجیب کے 6 نکات کا مصنف بھی کہتے تھے۔ ایوب خاں کے زوال کے بعد گوہر ایوب ’’ڈان‘‘ کے ایڈیٹر ہوگئے۔ یحییٰ خاں کے دور میں ان کے کئی اداریے بھٹو صاحب کی طبع نازک پر گراں گزرتے۔ سقوطِ ڈھاکہ کے بعد، بھٹو صاحب کے زیرعتاب اولین لوگوں میں گوہر ایوب بھی تھے۔(ان میں عاصمہ جہانگیر کے والد ملک غلام جیلانی مرحوم بھی تھے۔ تب عاصمہ جہانگیر ، عاصمہ جیلانی تھیں۔ انہوں نے اپنے والد کی گرفتاری کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔ ’’عاصمہ جیلانی کیس‘‘ کے نام سے یہ مقدمہ پاکستان کی سیاسی و عدالتی تاریخ کا زریں باب بن گیا۔ جس میں چیف جسٹس محمود الرحمٰن کی زیرقیادت بنچ نے جنرل یحییٰ خان کے مارشل لاء کو غاصبانہ اقدام اور جنرل موصوف کو غاصب قرار دیا۔ بھٹو صاحب کی جیل میں گوہر ایوب نے مولانا مودودی ؒ کی تفہیم القرآن کا ترجمہ شروع کیا، جو چند ماہ بعد عدالت کے حکم پر ان کی رہائی کے باعث ادھورا رہ گیا۔
ہم عمران خاں کے چہیتے ’’شیرو‘‘کی بات کر رہے تھے جس کے ذکر پر عمران کے زخم ہرے ہوجانے کی بات سمجھ میں آتی ہے۔ کتوں کے لئے عمران کی چاہت اس کے بچپن سے ہے۔ کرکٹر کے طور پر عمران کو چاہنے والے ، ہندوستان میں بھی کم نہیں۔ان میں انڈین جرنلسٹ فرینک حضور بھی ہے۔ عمران پر اپنی کتاب میں اپنے ممدوح کے بچپن کا ذکر کرتے ہوئے اس نے لکھا اسے کتوں سے اتنا انس تھا کہ انہیں گلے لگائے رکھتا تھا ، وہ کتوں سے محبت کرتا تھا اور ان کا بہت زیادہ خیال رکھتا تھا۔ اس کی والدہ اسے ہر قسم ،ہر شکل اور ہر جسامت کے کیویلیئرکنگ اور چارلس سپینئل کتوں کے ساتھ کھیلنے کی حوصلہ افزائی کرتی تھیں۔ آج بھی کتوں کی مختلف اقسام کے ساتھ اس کی محبت برقرار ہے۔ عمران کے بنی گالہ پہاڑی کی چوٹی پر تعمیر کئے گئے گھر میں پہریداری کرتے یہی اس کے واحد ساتھی ہوتے ہیں۔ جب وہ لندن میں ہوتا ہے تو کتوں کی ہر ریس اور ویسٹ منسٹر کنیل کلب ڈاگ شوز لازماً دیکھتا ہے۔ لارڈ بائرن نے اپنی نظم میں جانوروں کی عادات کے متعلق تاکیداً جوبات کہی، عمران نے اِسے یاد کیا ہوا ہے، سب سے پختہ دوست ، گھر آنے پر سب سے پہلے اِ سے خوش آمدید کہنے اور سب سے آگے بڑھ کر اس کا دفاع کرنے والا۔‘‘
’’شیرو‘‘ میں یقیناً کوئی بہت ہی غیر معمولی بات ہوگی جو مشرف نے اسے عمران کی نذر کردینے کے بعد بھی یاد رکھا۔ اور سلیم صافی سے پوچھے بغیر نہ رہا، جانے شیرو کس حال میں ہوگا؟ خبر نہیں، عمران نے ’’شیرو‘‘ کی سورگباشی کی اطلاع مشرف کو کی تھی یا نہیں۔ نہیں تو اب اس سانحہ کی اطلاع پانے پر، ہوسکتا ہے، اس نے عمران کو فون کیا ہوا ور دونوں دیر تک ’’شیرو‘‘ کے بارے میں باتیں کرتے رہے ہوںاور پھر شیرو کی جدائی کا غم غلط کرتے کرتے ، بات مشرف اقتدار میں، دونوں کے درمیان خوشگوار تعلقات کی سنہری یادوں تک جا پہنچی ہو، سوئی ہوئی محبتوں نے انگڑائی لی ہو۔ تو کیا گزشتہ روز دھرنے سے خطاب میں عمران کا یہ کہناکہ’’ اِس سے مشرف کا دور کہیں اچھا تھا‘‘،اسی محبت کا شاخسانہ تھا؟
عمران خاں نے ہفتہ 13ستمبر کو دھرنے کا ایک ماہ مکمل ہونے پر ’’خصوصی جشن‘‘ منانے کا اعلان کیا تھا۔ عام جشن تو یہاں پہلے روز سے ہورہا ہے۔اس خصوصی جشن کے التواء کی خبر آئی تو ہم سمجھے، شاید عمران خاں کو سیلاب کی بدترین تباہ کاریوں کا خیال آگیا ہے جس میں سینکڑوں ہم وطن اگلے جہاں سدھار گئے اور لاکھوں بے گھر ہوگئے۔ ٹی وی چینلز پرتباہی و بربادی کے مناظر دیکھ کر کون حساس شخص ہے، جس کا کلیجہ منہ کو نہ آتا ہو لیکن ہماری خوش فہمی جلد ہی دور ہوگئی ۔ جشن کا التواء ڈی جے بٹ کی عدم دستیابی کے سبب ہوا تھا۔ تحریکِ انصاف کے دھرنا جشن میں موسیقی کے آئیٹم وہی کنٹرول کرتا ہے۔ گزشتہ شب گرفتاری کے سبب اب اس کی خدمات دستیاب نہیں تھیں۔
گزشتہ شام الخدمت فاؤنڈیشن کے نائب صدر سید احسان اللہ وقاص، مدیرانِ جرائد اور کالم نگاروں کے ساتھ ایک نشست میں سیلاب کی تباہ کاریوںکے ذکر کے ساتھ ان خدمات کا تذکرہ کیاجو الخدمت اپنی روایت کے مطابق اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کے لئے انجام دے رہی ہے۔ اس میں بے گھر ہوجانے والوں کے لئے خوراک اور ان کے جانوروں کے لئے چارہ کی فراہمی بھی ہے، بیماریوں سے بچاؤ کے لئے طبی خدمات بھی (اس کے موبائل میڈیکل کیمپس اور فیلڈ ہاسپٹلز میں 500 کوالیفائیڈ ڈاکٹر اور دیگر میڈیکل اسٹاف خدمات انجام دے رہے ہیں)۔ صاف پانی کی فراہمی کے لئے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔ کشتیوں کے ذریعے ریسکیو کا کام بھی جاری ہے جس کے لئے مزید کشتیوں کی ضرورت ہے۔ (موٹر والی ایک کشتی کی قیمت 5لاکھ روپے ہے)وہ اس کارِ خیر میں دیگر فلاحی تنظیموں ، خصوصاً حافظ سعید کی فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن کی خدمات کا بھی کھلے دل سے اعتراف کر رہے تھے۔ اِ ن کی تجویز تھی کہ حکومت غیرسرکاری تنظیموں کی سرگرمیوں میں ربط و ضبط کا اہتمام کرے، مختلف تنظیموں کو مختلف علاقے سونپ دیئے جائیں، اِ ن میں تقسیم کار کا بھی اہتمام کر دیا جائے کہ کون کس نوع کی خدمات انجام دے گا، تو ریسکیو اور ریلیف کا کام زیادہ مؤثر اور بہتر انداز میں انجام دیا جاسکتا ہے۔
ایک اہم بات یہ کہ الخدمت فاؤنڈیشن کا تعلق جماعت ِ اسلامی سے ہے، لیکن وہ رفاہی و فلاحی خدمات کا کوئی سیاسی صلہ طلب نہیں کرتی، چنانچہ اس کی سرگرمیوں میں کہیں جماعت کا نام نہیں آتا۔ ہے نا حیرت کی بات! عمران نے نوازشریف کی عطیہ کردہ زمین پر، دنیا جہان کے چندے ، زکوٰۃ اور صدقات کے ذریعے شوکت خانم بنایااور پھر اسے اپنی سیاست کی بنیاد بنا کر وزارتِ عظمیٰ کا طلب گار ہوگیا۔ حافظ سعید کی جماعت الدعوۃ تو ایک غیر سیاسی تنظیم ہے، لیکن جماعت اسلامی تو ایک سیاسی جماعت ہے، لیکن بے وسیلہ اور ضرورت مند لوگوں کی خدمات کے عوض ووٹوں کا تقاضا نہیں کرتی۔
جماعت کی بات ہوئی ہے تو جب یہ سطور رقم کی جارہی ہیں، اس کی شوریٰ کا اجلاس جاری ہے جس میں اسلام آباد میں دھرنوں سے پیدا شدہ بحران اور اس حوالے سے جماعت کا کردار زیرِ غور ہے۔ جناب سراج الحق حالیہ بحران میں ایک قد آور لیڈر کے طور پر ابھرے ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن کے دیگر ارکان کے ساتھ مل کر، بحران کے سیاسی حل کے لئے جو سعی و کاوش کی، اس پر قومی حلقوں کی طرف سے تعریف و ستائش کے بجا طور پر مستحق ٹھہرے۔
سید مودودی کی زیرقیادت اپنے آغاز سے لے کر اب تک بعض اوصاف جماعت کا طرۂ امتیاز رہے ہیں۔ ان میں جمہوریت سے وابستگی ، تشدد سے گریزاور آئین و قانون کی پابندی بطورِ خاص قابلِ ذکر ہیں۔ فوجی و سول آمریتوں کے ادوار میں بھی جماعت نے ان اصولوں کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ وہ مختلف ادوار میں ، مختلف جماعتوں کے ساتھ سیاسی و انتخابی اتحادوں کا حصہ بھی بنی۔ 2013 کے انتخابات اس نے تنہا لڑے اور بعد میں خیبر پختونخوا کی کولیشن گورنمنٹ میں تحریکِ انصاف کی پارٹنر بنی لیکن اپنے طرز ِ سیاست اور اپنے کلچر کی جداگانہ شان برقرار رکھی۔
عمران خاں نے پاکستانی سیاست میں ایک نئے کلچر کی بنیاد رکھی۔ جلسوں میں موسیقی کی تان پر نوجوانوں کے مخلوط رقص اس کی نمایاں صفت ہے۔ انہوں نے اپنی تقاریری میں اشتعال انگیز دھمکیوں، بے بنیاد الزامات اور گالی گلوچ کی نئی سیاسی ڈکشن کو بھی رواج دیا اور یہ سب کچھ جماعت کے طرزِ سیاست اور کلچر سے متضاد اور متصادم ہے۔ امیر جماعت نے سیاسی بحران کے حل کے لئے جو رول ادا کیا، اس پر جماعت کے وقار میں اضافہ ہوا۔ اب قوم کی نظر یں جماعت کی شوریٰ پرہیں کہ وہ اپنے لئے آئندہ کس لائحہ عمل کا انتخاب کرتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *