سوالوں کے جنگل میں حقیقت کی تلاش!

naeem-baloch1

نعیم احمد بلوچ
دیر سے قلم اٹھانے کا نقصان یہ ہوتا ہے موضوعات کی ایک طویل فہرست ہوتی ہے اور سمجھ میں نہیں آتا کہ کس پر پہلے لکھاجائے لیکن اب حالات نے فیصلہ کر دیا کہ اس وقت سوائے پاک بھارت تعلقات میں تناؤ کے اور کوئی اور موضوع نہیں ہو سکتا۔اس وقت حالات یہ ہیں بڑے بڑے صلح جو ، مدبر اور غیر جانبداری کے دعوے کرنے والے جنگی بخار میں مبتلا ہیں ۔ ایک سادہ اصول سامنے رکھا گیا ہے کہ ہم کیونکہ پاکستانی ہیں ، اس لیے ہمیں اپنے وطن کی حمایت کرنی ہے، یہ ہماری حب الوطنی تقاضا ہے ۔ چنانچہ حقائق کچھ بھی کیوں نہ ہوں ، بس یہی بات درست ہے کہ مودی حکومت کی ایسی کی تیسی، کشمیر ہمارا ہے ، کشمیر بنے گا پاکستان ! بھارت نے کوئی حرکت کی تو اس کو نانی یاد دلا دیں گے! اور بالکل یہی رویہ اس وقت بھارت کی طرف سے دیکھنے میں آ رہا ہے ۔ لیکن کیا اس بات سے انکار کیا جا سکتاہے کہ انسانی ضمیر بھی کوئی چیزہوتی ہے، اخلاق اقدار بھی قابل لحاظ ہوتی ہیں ، انسان کا اپنا کوئی نظریہ بھی ہوتا ہے، کیا یہ حقیقت نہیں قرآن مجید جب مجھ سے مخاطب ہوتا ہے تو انتہائی واضح الفاظ میں مجھے یہ حکم دیتا ہے کہ : کسی قوم کی دشمنی تمہیں ناانصافی پر نہ ابھارے ، انصاف کرو کیونکہ یہ تقویٰ کے قریب ہے ۔ (سورہ المائدہ)چنانچہ جب میں اس ذہن کے ساتھ معاملے پرغور کرتا ہوں تو میرے سامنے سوالوں ایک جنگل ظاہر ہوجاتا ہے ، جس میں نکلنے کا، میں، سردست کوئی راستہ نہیں پاتا ، یہ سوالات بالکل واضح ہیں، اور اس قدر نمایاں ہیں کہ ان سے صرف نظر ممکن ہیں ، مثلاً
* کیا یہ حقیقت نہیں کہ نریندرامودی کے انتخاب جیتنے کی ایک وجہ اس کا مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف جارحانہ رویہ تھا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کی کامیابی کی بنیادی وجہ معیشت کی بحالی اور ترقی کا وعدہ تھا۔
* کیاہم نہیں جانتے کہ اس کے بالکل برعکس نواز شریف حکومت نے بھارتی حکومت کے ساتھ ابتدا میںیک طرفہ طور پرتعلقات بہتر کرنے کا ڈ ول ڈالا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مودی حکومت نے بھی اپنے رویے میں بہتری کرلی۔ اس کے نتیجے میں نواز شریف کو اپنے سیاسی حریفوں سے’’ مودی کا یار ‘‘ ہونے کے طعنے سننے پڑے۔
*کیا یہ بات بھی ایک معلوم حقیقت نہیں کہ جب بھی سرحد کے پار تعلقات میں بہتری کی کوشش کی گئی ، سرحدوں پر چھڑپیں ہوئیں ؟
*کیا اس بات سے انکارکیا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کبھی اتنے خراب نہیں ہوئے جتنے ان برسوں میں ہیں ، افغانستان ، ایران اور بھارت اور پھر امریکہ بھی اس میں شامل ہو گیا کہ پاکستان اچھے اور برے شدت پسندوں کی تقسیم ابھی بھی اپنائے ہوئے ہے۔ خاص طور پر ایران اور امریکہ کے ساتھ ہمارت تعلقات کبھی اتنی سرد مہری کے شکار نہیں ہوئے ، جتنے ان دنوں میں ہوئے ۔
* CPACمنصوبے کی وجہ سے پاکستان اور چین کے تعلقات بہت بہتر ہیں اور یہ بات بلا خوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ امریکہ کو اس منصوبے سے شدید چڑ ہے ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ واحد بات ہے جس پر پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت ایک پیج پر ہیں ۔
* کیا یہ بات آئے روز زیر بحث نہیں رہتی کہ حکومت کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ فاصلے بڑھ رہے ہیں ۔
*کیا اس حقیقت سے انکار کیا جا سکتا ہے عالمی سطح پر کشمیر کی موجودہ تحریک کے بارے میں یہی تاثر پایا جا تا ہے کہ اس کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے ، حتٰی کہُ اری حملے سے پہلے سارا بھارتی میڈیا بھی یہی کہتا تھا لیکن جیسے ہی دہشت گردی کا یہ واقعہ ہوا؛ بازی پلٹ گئی اور توپوں کا رخ پاکستان کی طرف ہو گیا۔ سوال یہ ہے کہ اس کا سفارتی طور پر فائدہ کس کو ہوا؟اور جو کوئی بھی اس واقعے کے پیچھے ہے کیا وہ اس حقیقت کو نہیں جانتا تھا؟
*کیا یہ دونوں ملکوں کے میڈیا کا یکساں المیہ نہیں ہے کہ دہشت گردی کی ذمہ داری فوری طور پر ایک دوسرے پر ڈالی جاتی ہے ؟
*جو تقریر وزیر اعظم نے UNمیں کی ہے ، اس کے لکھنے کا سہرا بادی النظر میں کس کے سر پر باندھا جاسکتا ہے ؟
* کیا پرویز مشرف نے جو’ کارگل‘ میں کیا تھا اور اب جو ’اری‘ میں ہوا ہے، کیا ان واقعات میں کوئی مماثلت تلاش کی جاسکتی ہے ؟
* CPACمنصوبے کی امریکا کو جو تکلیف ہے کیا یہ ڈرامہ اس کے سائیڈ ایفیکٹ ہو سکتے ہیں ؟
*ایک پاکستانی اخبار نویس اور جہادی فلسفے کے چہیتے کالم نگار قبلہ اوریا مقبول جان نے اپنے ٹی وی پروگرام میں انتہائی واضح الفاظ میں کہا تھا ، کہ ستمبر میں پاک بھارت جنگ چھڑجائے گی ، اور پاکستان کو چین کی مدد حاصل ہوگی۔ ان کی اس نادر ’ معلومات ‘ کا کیا ذریعہ تھا، ان کے بقول انھوں نے ایک حدیث رسول یہ نتیجہ نکالا ہے !کیا اس تاویل پر ایمان لے آنا چاہیے ؟
* فرض کریں کہ مودی حکومت نے اس واقعے کو ہونے دیا یا اس ڈرامے کو خود سٹیج کیا ، تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہونا چاہیے کہ وہ جوابی کارروائی کرکے اپنے اس دعوے کوثابت کرے کہ وہ پاکستان کو اسی کی زبان میں جواب دینے کے وعدے پر قائم ہے !اس صورت میں اسے پہلے سے یہ طے کر لینا چاہیے تھا کہ وہ کہاں پر جوابی کارروائی کرے گا ، لیکن کیا یہ دیر اس مفروضے کو غلط ثابت نہیں کر رہی ؟
* کیا ایسی صورت میں پاکستان خاموش رہے گا ؟اگر خاموش نہیں رہے گا تو ہمارا سیاسی سٹ اپ کیا یہی رہے گا ؟ کیونکہ آج تک پاکستان نے جتنی بھی بڑی جنگیں لڑیں ہیں وہ فوجی قیادت ہی میں لڑی ہیں ۔اور کیا سپہ سالار اعظم اپنے ایکسٹنشن نہ لینے کے فیصلے پر قائم رہیں گے ؟
*کیا امریکہ یہ نہیں دیکھ رہا کہ جس روس کو اس نے گرم پانیوں سے روکنے کے لیے اتنے پاپڑ بیلے، کیاوہی روس اب پاکستان کی دوستی کی ٹوپی پہن کراور چین کا ہاتھ پکڑ کر گرم پانیوں تک پہنچ رہا ہے ، کیااس کے سینے پر سانپ نہیں لوٹیں گے ؟کہیں وہ ماضی کی کہانی تو نہیں دہرانے جارہا؟ِ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے اس نے اسلام کے جذبہ جہاد کو استعمال کر کے پاکستان کو بے وقوف بنایا تھا ، اب اس نے یہ ’اعلیٰ مقام‘ بھارت کو دے دیا ہے اور مودی جیسا متعصب برہمن ، اپنی مسلم دشمن کی وجہ سے ’ماموں‘ بننے کو تیار ہو گیا ہے ۔ او روہ بس یہ چاہتا ہے کہ اتنی ’کنٹرولڈ‘ کارروائیاں ہوتی رہیں کہ CPACپر کام نہ ہونے پائے ۔اس سے ایٹمی جنگ کا خطرہ بھی نہیں ہو گا اور عالمی راہداری کا منصوبہ بھی کھٹائی میں پڑ جائے گا ۔
*کیا چین اس سارے معاملے پر خاموش رہے گا؟ کیونکہ اتنی بڑی انوسٹمنٹ کے بعد وہ یہ ڈرامے ٹھنڈے پیٹوں کیونکر برداشت کر لے گا ؟ اس کے عالمی وقار کو دھچکا نہیں لگے گا؟
* اگر نواز شریف حکومت اسٹیبلشمنٹ کی ہر بات مان رہی ہے تو اس مفروضے میں کیا جان رہ جاتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اسے ہر صورت رخصت کرنا چاہتی ہے ؟اگر اسٹیبلشمنٹ کو حکومت کی غلطی کا انتظار ہے تو کیا اس سے پہلے اسے اس کا موقع نہیں مل چکا؟
سوالوں کے اس متنوع جنگل میں مجھے CPAC والے سوال سب سے قابل غور بھی لگتے ہیں اور خطرناک بھی ۔
برسوں پہلے جب میں نے لاہور مزنگ کے قرطبہ چوک میں مسجد کے مینار کے اوپر بنے ہلال پر ایک گدھ کو بیٹھے دیکھا تو ذہن میں اندلس کے کھنڈرات گھوم گئے اور آنکھوں سے دو آنسو گر کر مٹی میں مل گئے ۔ یہ منظر اس وقت پھر یاد آیا جب مجھے سابق امریکی صدر کلنٹن کا یہ تبصرہ معلوم ہوا کہ انھوں نے غرناطہ کے محل کی اوٹ میں میں غروب آفتاب کا منظر دیکھا تو کہا کہ غروب آفتاب کااس سے خوبصورت منظر پوری دنیا میں نہیں دیکھا ۔
اگر آپ کو آخری پیرا گراف کا اوپر کی تحریر سے کوئی ربط سمجھ میں نہیںآیا تو گزارش ہے کہ تحریر ایک دفعہ پھر پڑھ لیں !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *