عمران خان تاریخ کے دھارے کے خلاف

اسد پلیجو

asad-paleejo

بحیرہ چین کو جب  امریکہ ، جاپان اور آسٹریلیا نے تین اطراف سے گھیر لیا تو پاکستان چائنہ کوریڈور کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی۔ اب یہ پراجیکٹ پاکستان سے بھی زیادہ چین کے لیے اہم ہو چکا ہے۔ انڈیا کا اوڑی حملے سے بھی قبل پاکستان کے خلاف جارحانہ رویہ اختیار کرنا اس بات کی علامت ہے کہ امریکہ کی بھارت کے ساتھ سول نیو کلیر ڈیل کے بعد بھارت امریکہ کے ایما پر پاکستان کے ساتھ بڑی گیم کھیلنا چاہتا ہے۔ امریکہ بھارت تعلقات کے بعد پاکستان کے مغربی ہمسایہ ممالک سے بگڑتے تعلقات  پاکستان اور چین کے لیے مزید مشکلات کا باعث بن رہے ہیں۔ البتہ امریکہ جو پاکستان کے تین اطراف سے گھیرے جانے کے بعد بھی مطمئن نہیں ہوا اس نے پاکستان کے اندر بھی اپنے اتحادیوں کو حکومت کے خلاف کھڑے ہونے کا حکم جاری کر دیا ہے

خصوصا ایسے وقت میں جب بھارت پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کے حیلے بہانے ڈھونڈ رہا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین ان دو طاقتوں کے بیچ آنا چاہتے ہیں۔ جب سے وہ خانوں کے خان بنے ہیں وہ اس طرح کی دیدہ دلیریوں میں لگے ہوئے ہیں۔ کوئٹہ کاحملہ ہو یا سانحہ آرمی پبلک سکول، عمران خان ہر موقع پر اپنے زخم چاٹتے رہ جاتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ واقعات عمران خان کی تبدیلی کے عزم کو ثبوتاژ کرنے کے لیے پلان کیے جا رہے ہیں۔ البتہ بھارت امریکہ گٹھ جوڑ کو دیکھتے ہوئے پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی میں روس اور چین کے تعلقات کو وسعت دینے کا ترجیح شامل کر لی ہے۔ کچھ دن قبل امریکہ کے دو قانون دانوں نے پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دینے کا بل کانگریس میں پیش کر دیا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ امریکہ نے پاکستان کو ایف 16 طیارے بیچنے سے انکار کے علاوہ نیو یارک بم دھماکے کرنے والے شخص کو بھی پاکستان سے متعلق کر دیا ہے۔ پاکستان کے خلاف نہ صرف امریکہ کے اندر بلکہ کچھ دوسرے ممالک میں بھی امریکہ کی ایما پر ہولناک واقعات پلان کیے جا رہے ہیں۔ میں ہمیشہ ہمارے ملک کے ایلیٹ طبقے کی نیت کے بارے میں مخمصے میں رہا ہوں کہ آیا وہ پاکستانی شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں یا نہیں۔ کیا پاکستانیوں کو کھلی آزادی، فئیر ٹرائل کی آزادی  اور تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی یا نہیں؟  اپنے مفاد کے لیے فوجی حکومتوں اور جاگیر داروں نے بھی ہمیشہ عوام کے مفاد کو قربان کرنے کو ترجیح دی ہے۔ پاناما لیکس میں  آنے والے سیاستدانوں جن میں پرویز مشرف، نواز شریف، عمران خان اور پرویز کیانی کی آف شور کمپنیاں اور دوسرے ممالک میں جمع کی ہوئی دولت اس بات کا واضح ثبوت ہے۔

بھارت میں بھی ایک بلین سے زیادہ  لوگوں کے ساتھ اسی سلوک کی تفصیل کے لیے اروندھتی رائے کی کتاب 'بروکن ری پبلک' اور 'الجبرا آف انفنٹ جسٹس' کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔  بھارت میں بھی پاکستان کی طرح دن دیہاڑے غریب عوام کے زمین اور مویشی ہتھیا لیے جاتے ہیں۔ خضدار، بادین، چھتیس گڑھ، اور اڑیسا ایسے علاقے ہیں جہاں  لوگوں کے ساتھ ہر قسم کی نا انصافی دیکھنے کو ملتی ہے۔ آج تک عوام کو کوئی ڈاکومنٹ نہیں دکھائی گئی جس میں یہ معلومات دی جائیں کہ برصغیر میں سے کھربوں ڈالر پچھلے کئی سال سے عوام کی جیب سے دوسرے ممالک میں منتقل کیے جا چکے ہیں۔ لیکن اس لڑائی کو نظر انداز کر کے لوگوں کو دشمن ملک کے خلاف جنگ میں حصہ لے کر اپنے ملک کا دفاع کرنے پر ابھارا جا رہا ہے۔ ایک ایسا وقت آ چکا ہے جب سچ بولنے کے لیے بہت ہمت کی ضرورت ہوتی ہے

اور کئی بار تو انسان کو کسی بڑے کام کے لیے اپنے کئی مفادات قربان کرنے پڑتے ہیں۔ اگر سی پیک سے پیچھے ہٹ جائیں تو بہت سے دوسرے پراجیکٹ بھی نظر انداز کرنے پڑتے ہیں۔ یہ امید کی جا رہی ہے کہ اس پراجیکٹ کی تکمیل سے پاکستان، چین اور روس کا ایک مضبوط بلاک بن سکتا ہے۔ کیا عمران خان اسی طرح کی دنیا میں طاقت کے سب سے بڑے سٹیج تک رسائی چاہتے ہیں؟ ایک ایسی دنیا جس میں کوئی امید دکھائی نہیں دیتی، پاکستانیوں کے خواب کہیں نظر نہیں آتے، جہاں لوگ کچھ کہنے سننے کے لیے گرین کارڈ کے محتاج ہیں  اور اپنی عزت کی حفاظ کے لیے امریکہ میں رہائش کے متمنی ہیں۔ رائیونڈ کو کسی اور دن بھی فتح کیا جا سکتا ہے۔ عمران خان کو چاہیے کہ وہ اس وقت جب جنگ کے خطرے منڈلا رہے ہیں اپنے خواب چھوڑ کر عوام کی حفاظت کے بارے میں سوچیں ورنہ ان کا اقتدار حاصل کرنے کا خواب تو شاید پورا ہو جائے لیکن  اس کے نتائج پورے ملک کے عوام کو ایک لمبے عرصے تک بھگتنے پڑیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *