اک ترے جانے کے بعد

سیفیؔ صاحب کا ہمارے ادارے سے ٹرانسفر ہوگیا تھا ۔آج اُن کے اعزاز میں الوداعی پارٹی تھی۔ عجیب نشاط کا عالم تھا۔ پورے ادارے پہ مسرّت و شادمانی کی فِضا چھائی تھی۔میں نے کسی کی رُخصتی پے خوشی کا یہ انداز آج تک نہیں دیکھا۔ چہرے یوں کھِل رہے تھے گویا کسی عذاب سے جان چھوٹی ہو۔ ہم نے خوشی کے آنسوؤں کے بارے میں سنا تھا آج دیکھ بھی رہے تھے۔پارٹی کسی چھوٹے سے یومِ نجات کا منظر پیش کر رہی تھی۔پانچ سال میں یہ پہلا موقع تھا کہ سیفیؔ صاحب بھی موجود تھے اور لوگ خوش بھی تھے۔
سیفی ؔ صاحب عرصہ پانچ سال تک ادارے میں ایک اہم عہدے پر تعینات رہے۔سیٹ بڑی تھی لہذا کافی لوگ اُن کے ساتھ اور اُن کے ماتحت کام کر رہے تھے۔آپ کا تعارف پیش کرناقدرے مُشکل ہے۔۔آپ جیسے ’’ ناہنجار نابغے ‘‘ کہیں برسوں میں پیدا ہوتے ہیں۔آپ کا شمار اُن ہستیوں میں ہوتا ہے جن سے ملنے کے بعد گھٹیا ترین لوگ بھی قابلِ تعریف ٹھہرتے ہیں۔بخیل ، رذیل ، ذلیل، ۔۔لفظ کم پڑ جاتے ہیں لیکن آپ کی جُملہ ’’ صفات ‘‘ کا احاطہ ناممکن لگتا ہے۔لوگوں نے اُن کے کئی نام رکھے ہوئے تھے جن کی تفصیل لکھنا شُرفاء کے بس کی بات نہیں۔ان کے بارے میں کئی کہانیاں مشہور تھیں او ر لُطف یہ ہے کہ وہ ساری ہی درست لگتی تھیں۔ سیفی ؔ صاحب سراپا ٹینشن اور سٹریس تھے۔اور یہ دونوں ’ صفات ‘ ہمہ وقت اپنے متعلقین میں بانٹتے رہتے۔اُن کا خُبثِ باطن اُن کے انگ انگ سے پھوٹتا تھا۔ان کی خاموشی بھی زہریلے پن کا اظہار تھی تو تصور کریں کہ تکلّم کیا بلا ہو گا۔غالبؔ نے شاید آپ جیسیوں کے بارے میں ہی کہا تھا
’’ گرمی سہی کلام میں مگر نا اسقدر۔۔کی جس سے بات اُس نے شکایت ضرور کی ‘‘
آپ دفتر کھُلنے سے کوئی گھنٹہ بھر پہلے تشریف لے آتے اور پھر واپسی کا کوئی وقت طے نہیں تھا۔ ہم نے سب کو ہمیشہ اُن کے ’’ دفتر و دنیا ‘‘ سے اُٹھنے کے لیے دُعا کرتے ہی پایا۔ ہمیشہ مصروف نظر آتے ! جب کوئی کام نہ ہوتا تو اور بھی مصروف دکھائی دیتے۔انہی عادات کے پیشِ نظر ماشاللہ اتنے قلیل عرصے میں جتنا نقصان آپ نے ادارے کو پہنچایا اس کی نظیر ملنا مُشکل ہے۔اُن کی زندگی کا زیادہ تر وقت دفتر میں ہی گُزرا۔مشہور تھا کہ اُن کو اتنا جلدی دفتر بھیجنے میں اُن کے گھر والوں کا عمل دخل تھا۔ یہ بھی شُنید تھی کہ دفتری اوقات میں گھر کا ماحول بہت پُرسکون اور خوشگوار رہتا۔ اذیّت دہی کے سینکڑوں طریقے آپ کو ازبر تھے بلکہ کئی ایک کے تو موجد بھی آپ خود ہی تھے۔پہلی ملاقات میں ہی ملنے والے کو ’’ سیسے ‘‘ میں اُتار لیتے۔ماتحت عملے کے لیے آپ سے ملنا ایک عذاب تھا۔خواتین اُن کے کمرے سے روتے اور ماتحت حضرات منہ بسورتے نکلتے۔دفتر میں لوگوں کے ساتھ اپنے سلوک میں وہ ہمیشہ مساوات اور انصاف پسندی کے سنہری اُصولوں پر عمل کرتے وہ اس طرح کہ وہ بلا تفریقِ رنگ ، نسل ، جنس یا عہدہ۔۔سب کو برابر اذیّت دینے کی کوشش کرتے۔جن ’’ خوش نصیبوں ‘‘ کو ان کی طویل رفاقت اور معیت میسّر آئی اُن پر اس کے ’ ثمرات ‘ نظر آنا شروع ہو گئے تھے۔ مثلاً اُن کے رفقائے کار اور خاص طور پر اُن کے ما تحتوں کو شوگر ، بلڈ پریشر اور اس نوع کے کئی دیگر عوارض ’’ مُفت ‘ میں میسّر آ گئے تھے۔ہمارا مشاہدہ ہے کہ جو شخص اُن سے طویل صُحبت کے باوجود بھی نفسیاتی مریض نہیں بنا اس کا صرف ایک ہی مطلب ہے کہ وہ پہلے ہی سے نفسیاتی مریض ہے۔یہ بات نہیں کہ اُن کے اس مکروہ رویّے کو ہر ایک نے برداشت کر لیا تھا۔۔ اس عرصہ کے دوران تین چار لوگوں نے اُن کو خوب سُنائی بھی تھیں اور ایک آدھ نے تو اندر سے کُنڈی لگا کر ان کی ٹھکائی وغیرہ بھی کی تھی۔ لیکن اس سے انہیں کوئی خاص فرق نہیں پڑھا تھا۔ ویسے بھی عزت وزّت آپ کے نزدیک ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔لیکن چونکہ ان کی ذبان کے ساتھ ساتھ ہاتھ بھی کافی لمبے تھے۔ چنانچہ ان چار پانچ ’گستاخوں ‘ کے خلاف سخت محکمانہ کاروائی کی گئی جس سے باقی لوگوں کو کان ہو گئے۔
سو ! متذکرہ بالا اعلیٰ اخلاق کے پیشِ نظر اُن کی غیبت ہی وہ واحد ایجنڈا تھا جس پر پورا ادارہ ایک پیج پر تھا۔چنانچہ اُن کی ’باجماعت غیبت ‘ روزانہ گھنٹوں کی جاتی اور ماننا پڑے گا کہ اس کے لیے روزانہ تازہ مواد مہیّا کرنے میں سیفی ؔ صاحب نے بھی کبھی مایوس نہیں کیا۔لوگوں کو یقین تھا کہ اُن کی غیبت ہی وہ واحد ’ نیکی ‘ تھی جو اُن کمے کھاتے میں مسلسل لکھی جارہی تھی۔چنانچہ کئی دفعہ لوگ اُن کی غیبت کرتے کرتے صرف اس خوفناک خیال سے رُک جاتے کہ مبادا یہ اُن کی وجہ نجات نہ بن جائے۔
تقریب کے اختتام پر سیفی صاحب نے تقریر کرتے ہوئے کہا ، ’’ اس الوداعی تقریب میں آپ لوگوں کی بھرپور شرکت اور دلچسپی نے مجھے بہت متاثر کیا ہے۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ آپ میرے لیے اس قدر محبت رکھتے ہیں۔میرا یہاں سے تبادلہ ہوا ہے لیکن آپ لوگوں کے شوق اور میرے ساتھ اس تعلق کے اظہار کے بعد میری خواہش ہو گی کہ میں اپنا تبادلہ رکوانے کی کوشش کروں یا وہاں کُچھ عرصہ کام کرنے کے بعدواپس تبادلہ کروا کر آپ کو پھر جوائن کرلوں۔‘‘سیفیؔ صاحب کے یہ الفاظ حاضرین کی سماعتوں پرکسی بم کی طرح گِرے تھے۔یک دم تقریب میں مکمل سناٹا چھا گیا۔۔ہرطرف ہو کا عالم تھا۔۔اور سامعین کی یہ خوفناک خاموشی سیفیؔ صاحب کے اس بیہودہ خیال اور فضول خواہش کی تردید کر رہی تھی۔
شام ڈھلے تقریب ختم ہوئی۔سیفی ؔ صاحب کی گاڑی مین گیٹ سے باہر نکلی تو پیچھے محفل میں گویا خوشی کا طوفان اُمڈ آیا تھا۔عیدِ سعید کا سا سماں تھا۔ لوگ والہانہ ایک دوسرے سے گلے مل رہے تھے۔میں سوچ رہا تھا کہ یہ شخص جب دنیا سے رُخصت ہو گا تو کیسا منظر ہو گا۔مجھے آسکر وائلڈ یاد آ رہا تھا۔۔دیکھیے اُس نے کیسے سمندر کو کُوزے میں بند کیا ہے۔ لکھتا ہے ، ’’ کُچھ لوگ جہاں جاتے ہیں خوشی کا باعث بنتے ہیں ۔۔ اور کچھ جب جائیں تو خوشی کا باعث بنتے ہیں۔ ‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *