نیو یارک سٹی کی سپرٹ اور مذہب کی سادگی 

انعم سعید

anam-saeed

میرا یہ ہمیشہ سے خواب رہا ہے کہ دنیا کے کسی بڑے شہر میں زندگی گزاروں ۔ منہٹن کی گلیوں میں گھومنا بھی میرے خوابوں میں شامل تھا۔ میں چاہتی تھی کہ بڑے لوگوں کے ساتھ شاہانہ زندگی گزار کر ان کےفیشن کے ٹیسٹ  کو اپنی آنکھوں سے دیکھوں۔ جب مجھے نیو یارک میں رہنے کا موقع ملا، تب مجھے یقین ہوا کہ فیشن میگزین میں ظاہر ہونے والے لوگ واقعی اس دنیا میں بستے ہیں۔ منہٹن میرے لیے ایک تخیلاتی جگہ سے بڑھ کر کچھ نہیں تھا۔ لڑکیوں کو شاپنگ کرتے ہوئے شاہانہ انداز میں اپنے بیگ لیے گھومتے دیکھنا میرے لیےایک خیال ہی تھا۔ لیکن نیو یارک پہنچ کر اس حقیقت کو دیکھنے کا موقع ملا۔ نیو یارک کے بارے میں یہی سب سے اہم بات نہیں تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ  وہاں کی چمک دمک کے پیچھے بہت سے بھیانک چیزیں بھی تھیں۔

مجھے  معلوم ہوا کہ وہاں  برکلن اور ہارلم میں رہنے والے لوگوں میں بہت صبر، تنوع، ٹیلنٹ، غربت اور عزت و احترام ہے۔ٹائم سکوائر اور  برانکس کے ٹوٹے پھوٹے گھروں میں رہنے والے لوگوں میں ہمت، محنت، تحمل، اور دوسری اہم خصوصیات موجود ہیں۔ نیو یار ک میں لوگ جو چاہیں کر سکتے ہیں اور لوگوں کو اس کی طرف راغب کر نے کی کوشش کی آزادی رکھتے ہیں۔ ایک سال رمضان میں گرینڈ سیٹرل کے سامنے برائنٹ پارک میں موجود تھی اور اپنے لیے کرسی ڈھونڈ رہی تھی تاکہ بیٹھ کر افطار کر سکوں۔

میں نے وہاں ایک شخص کو جھکتے ہوئے دیکھا جیسے وہ نماز پڑھ رہا ہو۔ وہ ایک زیر تعمیر عمارت کی طرف مڑ کر جھکا ہوا تھا۔ اسی طرف بہت سے لوگ اور کاریں بھی موجود تھیں۔ مجھے بہت پریشانی ہوئی کہ مجھ سے کیا غلطی ہوئی ہے۔ آخر کوئی شخص اس قدر مٹی ، دھول اور رش میں کیسے نماز پڑھ سکتا ہے؟ میں نے کچھ قریب سے اس شخص کو تھوڑی دیر رک کر دیکھنے کی کوشش کی۔ وہ شخص اپنا کارڈ بورڈ بچھا کے بنا کسی پریشانی کے عبادت میں مشغول تھا۔ اس کے چہرے پر سکون اور طمانیت تھی۔ وہ کسی آدمی  یا اپنے گرد دھول اور مٹی سے پریشان نہیں تھا۔ اس کا پورا دھیان نماز میں تھا۔ مجھے یہ نظارہ اچھا لگا تو سوچا تصویر لے لوں۔

نماز ختم ہونے تک میں نے اس کا انتظار کیا تا کہ ان سے اجازت لے لی جائے۔ انہوں نے اجازت دے دی اور کوئی سوال و جواب کیے بغیر اپنے راہ پر چل دیے۔ جہاں ہم لوگ مسجد، صف، جائے نماز ، صاف ستھرا فرش وغیرہ کا خیال رکھتے ہیں وہاں وہ لوگ بہت سخت ماحول میں کام کے باوجود مذہب کے احکامات کو بجا لاتے ہیں۔ کیا یہی وہ سادگی نہیں ہے جو اسلام  میں پسندیدہ سمجھی جاتی ہے؟

وہاں ایک اور اہم چیز میں نے دیکھی کہ وہاں کے لوگ ٹیلنٹ کو بہتر کرنے اور استعمال کرنے پر بہت محنت کرتے ہیں۔ میوزک، جمناسٹک، گانے گانا، ڈانس کرنا، ہر طرح کے آرٹ کے مظاہرے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ سپر فیشلٹی اور مادہ پرستی کے پیچھے جذبات بھی چھپے ہوئے ہیں۔

وہاں میں نے پیار، ہمدردی، مایوسی، اور خیال و خواہشات بھی دیکھی ہیں۔ شہر کی روشنیوں کے پیچھے چھپے بہت سے احساسات ہیں۔ جب بھی میں وہ صورتحال دیکھتی ہوں مجھے یاد آتا ہے کہ پیار کتنا اہم ہوتا ہے۔ آدمی چاہے امیر ہو یا غریب، پیار ہر جگہ ہر وقت اپنی اہمیت  رکھتا ہے۔ جب بھی میں کسی بے گھر شخص سے ملی میں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ  اس نے مجھے اتنی نعمتوں سے نوازا ہے۔ میں نے کئی بار نماز کیتھڈرل میں ادا کی۔ نیو یارک کے بارے میں بہت سی اور باتیں بھی بتانے اور معلوم کرنے کی ہیں۔ لوگ آپ کو بتائیں گے کہ لاکھوں چیزیں ایسی ہیں جو آپ کو وہاں رہنے کی خواہش پر ابھارتی ہیں۔ سب سے اہم چیز یہ ہے کہ اس شہر میں ایک سپرٹ ہے جسے بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اس شہر کی سادگی کو صرف ٹٹولا اور محسوس کیا جا سکتا ہے۔

loading...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *