آخر میں ہی کیوں۔۔۔!

akhter saeed madan..

امجد نے شکوہ کیا :ابا آخر میں ہی کیوں بیمار ہوا ۔۔۔۔۔!
باپ ہنس دیا ۔: تم دونوں پاگل ہو ۔۔۔۔خدا پتہ نہیں کس بات پر ہم سے خوش ہوگیا ہے اور اُس نے اپنا ارادہ بدل لیا ہے ۔
وہ چھ دوست رات کو ایک پان سگریٹ والے کھوکھے کے سامنے کھڑے گپیں لڑا رہے تھے۔کبھی اُن کی آواز اتنی اونچی ہو جاتی کہ راہ چلتے لوگ رک کر اُن کو دیکھنے لگ جاتے ۔سبھی نوعمر تھے۔ایسی عمرجہاں لڑکپن اور جوانی کا نیا نیا ملاپ ہوتا ہے ۔آدمی ایک عجیب سی سر مستی سے گزر رہا ہوتا ہے۔جیب میں باپ کے کمائے ہوئے روپے ہوتے ہیں ۔خون گرم اور اچھل رہا ہوتا ہے۔جب مائیں مناجات پڑھ کر پھونک مار کر لڑکے بالے کو گھر سے رخصت کرتی ہیں اور ساتھ ہی متنبے کرتی ہیں کہ جلدی گھر آنا ۔بہنیں دیر تک دل لگا کر بھائی کے کپڑے استری کرتی ہیں ۔جب بھائی دن میں دو بار غسل کرتا ہے اور ہر روز نئی خوشبو لگا کر گھر سے نکلتا ہے ۔ بار بار کپڑوں کی کریز دیکھتا ہے ۔کپڑوں پر سے خیالی گرد جھاڑتا جاتا ہے ۔جب سہلیاں بہنوں کے کان میں سر گوشیاں کرتی ہیں کہ اُس کا بھائی بہت خوبصورت ہے ۔اور بہنیں اور بھی رازداری سے کہتی ہیں کہ غصہ اُس کی ناک پر دھرا رہتا ہے۔مائیں بہت تنگ آ جائیں تو کہتی ہیں:یہ بالکل باپ پر گیا ہے۔۔۔!
نکلتے قد کا امجد بھی اُن چھے میں موجود تھا۔اُس نے کلف لگے سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے۔بال بہت قرینے سے کاڑھے ہوئے تھے۔وہ پتہ نہیں کون سی رام کہانی سنا رہا تھا کہ سبھی دوستوں کے حلقوں سے قہقہے اُبل رہے تھے۔ہر کوئی اپنے اپنے حصے کی جملے بازی کر رہا تھا۔جس سڑک کے کنارے وہ کھڑے تھے وہاں ایسا رش نہیں تھا ۔کبھی کبھار کوئی موٹر سائیکل یا چینگ چی گزر رہی تھی۔ایک موٹر سائیکل جس کی رفتار اتنی تیز بھی نہیں تھی کہ بے قابو ہو جاتی۔اچانک موٹر سائیکل کے سوار کا ہاتھ کانپا ،موٹر سائیکل لڑکھڑائی اور سیدھی امجد کو آ لگی۔امجد کے ساتھ موٹر سائیکل سوار بھی زمین پر آرہا۔خیال تھا کہ دونوں کو ہلکی خراشیں آئی ہوں گی۔بائک والا لڑکا جو کہ اُن ہی کا ہم عمر تھا ،جلدی سے اُٹھ گیااور اپنی موٹر سائیکل کو سیدھا کرنے لگا۔امجد بھی کپڑے جھاڑتا ہوا اُٹھ گیا۔موٹر سائیکل کا اسٹیرنگ اُس کے پہلو میں لگا تھا۔اُس کے پہلو سے ایک ٹیس سی اُٹھی تھی۔سبھی بائیک والے لڑکے کو برا بھلا کہنے لگے ۔ایک نے اُس کا گریبان پکڑ لیا :اندھا ہے تو ۔۔نظر نہیں آتا !
کسی دوسرے نے بیچ بچاو کروا دیا: چھوڑ یار ۔۔۔دفع کر
بائیک والا معذرت کرتا ہوا چلا گیا۔ امجد اپنا پہلو سہلانے لگا۔اُس نے قمیص اُٹھا کر دیکھا۔پہلو پر کوئی خاص نشان نہیں تھا۔وہ خود کلامی کے انداز میں بولا:اُلو کے پٹھے نے سیدھا مجھے ہی آ کر نارا ہے۔امجد نے دوبارہ سلسلہِ کلام جوڑنا چاہا مگر وہ اپنے پہلو سے اُٹھنے والی ٹیس سے پریشان ہوا :یا ر پتہ نہیں کیا ہوا ہے ۔۔۔!درد ہو رہا ہے۔
چند لمحے بعد درد کو افاقہ ہوا تو امجد نے پھر اپنی بات شروع کی ۔دو ایک منٹ بعد اُسے رک جانا پڑا ۔پہلو کے درد نے اُسے پھر بے کل کر دیا تھا۔لیکن وہ خاموش نہیں ہوا ۔اُس نے اپنی بات مختصر کر دی۔لڑکے اُس کہانی کی تفصیلات سننے کے متمنی تھے۔اس لئے وہ اس سے سوالات کرنے لگے کہ جزئیات سنائے مگر امجد ٹال مٹول کر کے گھر کی طرف چل دیا ۔وہ گھر پہنچا تو بھی پہلو سہلا رہا تھا۔اُس کی ماں نے دیکھا تو بے قرار ہو گئی ۔پریشانی سے بولی :کیا ہوا ہے ؟
:ماما۔۔ وہ ایک بائیک والے نے ٹکر مار دی ۔پتہ نہیں کیوں درد سا ہو رہا ہے،یہاں پر ۔۔۔
:لاؤ دکھاؤ تو ۔۔۔ماں نے قمیص اُٹھا کر دیکھی اور بد بدائی :نشان تو کوئی نہیں ہے اور مادرانہ شفقت سے مالش کی ۔مالش کرنے سے درد کو افاقہ ہوا ۔
امجد بولا :بس ٹھیک ہے اب ۔۔۔۔ماں مسکرا دی اور لاڈ سے بولی :جوان جہان ہو ۔بس نخرے کرنے لگ جاتے ہو ۔میں تو پریشان ہی ہو گئی ،پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے !
گھر کے سبھی لوگ ٹی وی دیکھ رہے تھے۔امجد بھی صوفے بیٹھ گیا اور ٹی وی دیکھنے لگا۔باپ نے گردن موڑی اور مسکرا کر بولا:آج کل کے نوجوان بہت نازک ہو گئے ہیں ۔۔زنخے کہیں کے۔۔۔!امجد کی بہنوں اور چھوٹے بھائی نے بھی شرارت سے مسکرا کر امجد کی طرف دیکھا ۔
ابھی تھوڑی دیر نہیں گزری تھی کہ امجد پہلو بدلنے لگا ۔درد پھر جاگ اُٹھا تھا۔ ماں نے اُسی لمحے محسوس کر لیا ،ٹی وی سے نظریں ہٹا کر بولی :درد پھر ہو رہا ہے۔۔؟
امجد نے اثبات میں سر ہلایا۔اس کے ساتھ ہی اُس کے منہ سے سسکاری نکل گئی۔گھر کے سبھی افراد امجد کی طرف متوجہ ہو ئے ۔امجد نے پہلو کو زور سے دبایا اوردرد سے دوہرا ہو گیا۔سبھی گھر والے اُٹھ کر امجد کر گرد جمع ہو گئے ۔اب کی بار باپ نے امجد کا کرتا ہٹا کر دیکھا۔بہ ظاہر چوٹ کا کوئی نشان نہیں تھا۔باپ بولا:چلو ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں۔
ڈاکٹر کا کلینک زیادہ دور نہیں تھا ۔تاہم باپ نے موٹر سائیکل نکال لی ۔امجد پیچھے بیٹھ گیا۔پانچ منٹ بعد وہ ڈاکٹر کے کلینک پہنچ گئے ۔ کلینک پر رش تھا۔ ڈاکٹر مریضوں میں مصروف تھا۔باپ نے ڈاکٹر کو متوجہ کیا اور کہا کہ تھوڑی ایمر جنسی ہے ۔ڈاکٹر اپنے سامنے بیٹھے ہو ئے مریض سے فارغ ہوا اور اُٹھ کر امجد کے پاس پہنچا اور زندہ دلی سے بولا:شیخ صاحب خریت تو ہے ؟ امجد کے بجائے باپ نے جواب دیاکہ وہ کسی موٹر سائیکل والے سے ٹکرا گیا ہے ۔ڈاکڑ نے زندہ دلی سے کہا:لگتا ہے شیخ صاحب سڑک پر میسج کرتے جارہے ہوں گے۔اس کے ساتھ ہی ڈاکٹر ہنس دیا:ہاں کہاں چوٹ آئی ہے؟
پھر باپ نے ہی بتایا :بہ ظاہر کوئی چوٹ تو نہیں آئی۔غالباً موٹر سائیکل کا اسٹیرنگ اس کے پہلو میں لگا ہے ۔ڈاکٹر نے امجد کو عقبی کمرے میں سٹریچر پر لٹا کر معائنہ کیا اور بتا کہ یہ مسکولر پین ہے۔گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔اس کے ساتھ ہی اُس نے درد کا انجیکشن لگایا اور سکون آوار دوا دی۔
امجد اُس رات سکون سے سویا رہا۔صبح بیدار ہوا اور کالج جانے کے لئے تیار ہو رہا تھا کہ اُس نے درد کی پھر شکائت کی ۔ماں نے اُسے کالج جانے سے منع کیا ۔لیکن امجد نے ماں کی بات نہیں مانی ۔وہ تیار ہو کر بس سٹاپ پر پہنچا ،جہاں درد نے پھر اُسے بے کل کر دیا۔وہ وہیں سے گھر آ گیا۔اُس نے ڈاکٹر کی دی ہوئی دوا کھائی اور لیٹ گیا ۔اُس کی آنکھ لگ گئی۔گیارہ بجے ایک دم درد سے کراہتا ہوا اُٹھ گیا۔ماں ببے قرار ہو گئی ۔اُس نے جلدی سے باپ کو فون کیا کہ امجد کو سخت درد ہو رہا ہے ،آپ جلدی سے آ جائیں اور اُسے کسی ڈاکٹر کے پاس لے جائیں۔باپ نے لا پروائی سے کہا کہ گبھرانے کی کوئی ضرورت نہیں ،مسکولر پین ہے ۔اُس نے داکٹر کی رات والی میڈیسن کھانے کی ہدایت کی ۔ماں نے بتایا کہ وہ دوا امجد کھا چکا ہے ،جس سے کوئی افاقہ نہیں ہوا ۔باپ نے ماں کو تسلی دی کہ وہ ابھی آرہا ہے ۔
کوئی آدھ گھنٹے میں باپ گھر پہنچ گیا ۔باپ نے امجد کو موٹر سائیکل پر بٹھایا اور ہسپتال لے گیا ۔ہسپتال میں ڈاکٹر نے معائنہ کیا اور بتایا کہ شائد پیٹ کی اندر والی جھیلی کو ضعف پہنچا ہے ۔اٍُس نے ادویات کے ساتھ لگانے کے لئے ایک کریم بھی دی ۔اس سے امجد کو کچھ افاقہ ہوا ۔رات کو امجد کے دوست خبر گیری کے لئے آئے اور دیر تک گپیں لگاتے رہے۔اس کے بعد امجد نے درد کی شکایت نہیں کی ۔ لیکن دوسرے دن سحری کے وقت امجد چیحتا ہوا اُٹھ گیا ۔اُسے شدید درد ہو رہا تھا۔سارے گھر والے سوئے ہوئے اُٹھ گئے ۔ماں نے اپنا ٹوٹکا آزمایا اور بوتل میں گرم پانی ڈال کر ٹکور کے لئے دیا ۔ گرم پانی کی ٹکور سے کوئی افاقہ نہیں ہوا ۔دوا کی خوراک دی گئی مگر افاقہ نہیں ہوا ۔ماں رونے لگ گئی ۔باپ نے ماں کو ڈانٹا : خدا کا خوف کرو ۔۔۔جوانوں کو اس طرح کی چھوٹی موٹی تکلیفیں آ ہی جاتی ہیں۔خدا نخواستہ ۔۔۔جاؤ جا کر نماز پڑھو ۔مجھے طیش مت دلاؤ۔۔۔!
ماں نماز پڑھنے چلی گئی ۔اس دوران میں شائد دواؤں کے زیر اثر امجد کو نیند آ گئی تھی ۔باپ نے بہ ظاہر ماں کو ڈانٹ دیا تھا لیکن اندر سے وہ بھی ڈر گیا تھا۔ باپ بھی مسجد میں نماز پڑھنے چلا گیا ۔نماز پڑھنے کے دوران میں بھی وہ امجد کے بارے میں سوچتا رہا ۔نماز ادا کرنے کے بعد اُس نے امجد کے لئے خصوصی دعا کی ۔اُس د ن باپ کام پر نہیں گیا ۔کوئی دس بجے امجد کی آنکھ کھلی ۔اُس نے بتایا کہ اب درد نہیں ہو رہا ۔ماں اور باپ نے خدا کا شکر ادا کیا ۔تاہم امجد کے باپ نے اُسے کہا کہ ہسپتال چلتے ہیں۔
ہسپتال کے ڈاکٹر نے اچھی طرح امجد کو چیک کیا اور تجویز کیا کہ الٹرا ساؤند کروایا جائے ۔الٹرا ساؤنڈ کی رپورٹ دیکھ کر ڈاکٹر نے بتایا کہ گردے میں انفیکشن ہے ۔اس کے لئے اُس نے کچھ دوائیں لکھ کر دیں ۔امجد نے دو تین دن تک ادویات استعمال کیں ۔ وہ جب تک دواؤں کے زیر اثر رہتا ،درد کی شکایت نہ کرتا ۔لیکن جب دواؤں کا اثر ختم ہوتا ،درد سے کراہنے لگتا ۔ہسپتال والوں نے امجد کے کچھ اور ٹیسٹ لئے اور کافی سوچ بچار کے بعد آپریشن کرکے گردے کے متاثرہ حصے کو کانٹنے کا فیصلہ کیا ۔چند دن بعد امجد کا اپریشن ہوا۔آپریشن کے بعد ڈاکٹروں نے گردے کے کاٹے جانے والے متاثرہ حصے کی لیبارٹری کروائی تو پتہ چلا کہ گردہ کینسر زدہ ہے ،تاہم کینسر ابھی ابتدائی سٹیج پر ہے ۔
یہ جان کر ماں کو رونے دھونے سے فرصت نہ تھی۔لیکن باپ بہت خوش تھا۔جس دن امجد گھر آیا گھر آیا، باپ نے دو بکرے ذبحہ کئے اور غریبوں میں بانٹنے کے علاوہ دو دیگیں چاولوں کی بھی پکائیں۔ماں دانت پیس کر رہ گئی ۔امجد بھی کچھ تلخ ہوا ۔
رات کو امجد ماں باپ کے سامنے پھٹ پڑا اور باپ سے شکوہ کیا:آخر میں ہی کیوں بیمار ہوا ۔۔۔!ابا مجھے کینسر جیسا موذی مرض ہو گیا ہے اور آپ دیگیں چڑھا رہے ہیں؟
ماں سے بھی رہا نہیں گیا ۔وہ بھی بول اُٹھی :پتہ نہیں ان کو کس بات کی خوشیاں چڑھی ہوئی ہیں!
باپ ہنس دیا ۔: تم دونوں پاگل ہو ۔۔۔۔خدا پتہ نہیں کس بات پر ہم سے خوش ہوگیا ہے اور اُس نے اپنا ارادہ بدل لیا ہے ۔دیکھو ۔۔۔یہ چھ لڑکے سڑک کے کنارے کھڑے تھے۔تم نے سوچا نہیں کہ آخر موٹر سائیکل والا مناسب سپیڈ کے باوجود ان سے تھوڑے فاصلے پر ہی کیوں یکدم بے قابو ہو گیا؟وہ چھ میں سے سیدھا امجد کو ہی آ کر کیوں لگا ؟ موٹر سائیکل کا اسٹیرنگ آخر امجد کے گردے پر ہی کیوں لگا ؟اُسے درد کیوں ہوا؟ذرا سوچو اگر یہ سب نہ ہوتااور ابھی کینسر کی تشخیص نہ ہوتی جو کہ اس وقت ابتدائی سیٹج پر ہے۔جس کا علاج ممکن ہے ۔۔۔اگر خدانخواستہ دو ،چار سال بعد اس کا پتہ چلتا جبکہ کینسر اپنی جڑیں پکڑ چکا ہوتا توکیا ہوتا۔۔۔۔!دیکھو خدا نے ہمیں کسی کمی کوتاہی پر پکڑنے کا فیصلہ کیا تھا ،پھر پتہ نہیں کیوں اُس نے اپنا اردہ بدل دیا ہے ۔۔۔۔۔کیا ہمیں اُس کی اس مہربانی پر شکر گزار نہیں ہونا چاہیئے؟؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *