ملک دشمنوں کی پریس کانفرنس

syed arif mustafa

سول حکومت کی ملٹری قیادت کے ساتھ محاذ آرائی بھی جاری ہے اورکسی اختلاف کے نہ ہونے سےانکار کی گردان بھی ۔۔۔ لیکن اس حقیقت کے شواہد ہیں کہ پختہ تر ہوتے جارہے ہیں کہ نئے آرمی چیف کے اعلان سے پہلے پہلے یہ اندر کی زور آزمائی بہت رنگ لاسکتی ہے ،،، بہت کوشش کرکے کراچی کے سیاسی گرگوں کو قابو کرنے کی جو کوشش آرمی نے اپنے ذیلی ادارے رینجرز کے ذریعے کی تھی ، اپنے سیاسی مفادات کے لیئے اور آرمی پہ دباؤ لانے کے لیئےسول حکومت کی جانب سے ایک خوفناک کھیل کھیلنے کا جوابی راؤنڈ شروع ہوچکا ہے اور اسکے تحت بیرونی طاقتوں کے اشارے بلکہ ڈکٹیشن پہ ، انکے خاص لاڈلے الطاف حسین کو پھر نہلا دھلا کے کراچی کا راج سنگھاسن سپرد کرنے کی حکمت عملی پہ عملدرآمد رو بہ عمل ہے اور یہاں آرمی کو نیچا دکھانے کے علاوہ متحدہ سے مراسم بحال کرکے نواز شریف کی کراچی کی 25 نشستیں جیب میں ڈال سکنے اور کراچی کی اسٹریٹس پہ آرمی کو الجھانے اور ٹف ٹائم دینے کی سوچ ملک کی محبت پہ غالب آتی دکھائی دیتی ہے -

یہ حکومتی آشیرباد کے بغیر ممکن ہی نہ تھا کہ خوفزدہ ہوکر تتر بتر ہوجانے اور بکھر جانے والے الطافیئے 15 اکتوبر کو کراچی پریس کلب میں اپنی مذموم پریس کانفرنس کرنے کا تصور بھی کرپاتے لیکن سیاسی تھپکی ملتے ہی یہ کٹھن مرحلہ آسان ہوگیا اور یوں غدار وطن الطاف حسین کے بچے کھچے بےضمیر ساتھیوں نے جو پریس کانفرنس کی ، وہ درحقیقت کراچی بلکہ ملکی صحافتی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا کہ جب ملک کے سب سے بڑے پریس کلب نے ایک جانے مانے غدار کے ساتھیوں کو وہاں معزز لوگوں کی مانند بیٹھنے اور پریس کانفرنس کرنے کا بھرپور موقع دیا،، گویا پاکستان کی ناموس اور سالمیت یہاں کی صحافتی برادری کے لیئے اس قدر بھی لائق اہمیت نہیں کہ وہ ، کھلم کھلا ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کردینے کے عزم کا اظہار کرنے والوں یا اسکے جوتے چاٹنے والے چیلے چانٹوں کے لیئے اس ادارے کے دروازے بند کرسکے ۔۔۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر الطاف حسین نے ملک کو توڑنے کے بجائے صرف صحافی رہنماء افضل بٹ یا ادریس بختیار وغیرہ کا نام لے کر انکا منہ توڑنے کی بات کی ہوتی تو اسکے اور اسکے چیلوں کے لیئے ملک بھر کے پریس کلبوں کے دروازے مکمل طور پہ بند کردیئے گئے ہوتے

کانفرنس میں 50 سے 60 کے قریب کارکنان و رہنماء موجود تھے کے جن میں سابق رکن قومی اسمبلی کنور خالد یونس ہی متحدہ کے پہچانے جانے والے رہنما تھے اور اس میں ایم کیو ایم کا کوئی موجودہ یا سابقہ رکن قومی و صوبائی اسمبلی یا سینیٹر شریک نہیں ہوا یہ میکینکل اور غلامانہ انداز کی پریس کنفرنس موبائل کے ذریعے ایم کیوایم کے ڈان الطاف حسین کو براہ راست لندن میں سنوائی جارہی تھی تاکہ یہ کٹھ پتلیاں اسکرپٹ سے ذرا بھی ادھر ادھر نہ ہوسکیں - غلامان الطاف کے اس مختصر سے اجتماع میں نوجوان بہت کم تھے اور زیادہ تر بوڑھے پکڑ بلائے گئے تھے - اس پریس کانفرنس سے خطاب کرنے شخص ڈاکٹر ظفر حسن عارف نے ابھی چند ماہ پہلے ہی ایم کیوایم جوائن کی ہے اس سے قبل وہ ایک 'زبردست لوٹے' کے طور پہ پہلے ہی بہت شہرت پاچکے ہیں اورکئی جماعتوں کا حصہ رہ چکے ہیں وہ پکے سرخے اور مذہب بیزار آدمی کے طور پہ بھی جانے جاتے ہیں اور مشہور طیارہ ہائی جیکنگ میں انہیں ہائی جیکروں کے مشیرکے طور پہ بھی جانا گیا تھا - وہ ہمیشہ سے منفی اور ملک مخالف سرگرمیوں میں سرگرم رہے ہیں اور اسی سبب جامعہ کراچی کی لیکچرر شپ سے نکال باہر کیئے گئے تھے

گو ظفر حسن عارف کے نام کے ساتھ لفظ ڈاکٹر جڑا ہوا ہے لیکن وہ حلیئے اور تیوروں کے اعتبار سے قطعی سڑک چھاپ اور چھٹے ہوئے لفنگے دکھائی دیتے ہیں اور اس پریس کانفرنس میں بھی وہ چڑھی آستینوں اور بہت کھلے گریبان کے ساتھ قطعی غنڈے بلکہ مسٹنڈے و کن ٹٹے معلوم ہورہے تھے یوں ثابت ہوا کہ کچھ لوگوں کا تعلیم بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتی ۔۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سوئی پڑی پیمرا کے غافل سربراہ ابصار عالم اس ضمن میں کیا ایکشن لیتے ہیں اور ایک غدار وطن کو ہیرو ماننے اور منوانے والے ان افراد کی اس غدار کی حمایت میں یوں کھلم کھلا کی گئی پریس کانفرنس کو قومی میڈیا پہ نشر کرنے کی مذموم حرکت کرنے والوں کے ساتھ کیسے نپٹتے ہیں کہ جس سے بلاشبہ آرمی و رینجرز کی بہت شدید توہین ہوئی ہے-

[email protected]

loading...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *