کیا قائداعظم نےتاج برطانیہ سےوفاداری کاحلف اُٹھایا؟

علیم احمد

aleem-ahmed

برطانیہ کے تحت جتنے بھی نو آبادیاتی ممالک آزاد ہوئے، انکے سربراہوں نے وہی حلف اٹھایا جو ہِز میجسٹی کے پروانہ میں درج تھا۔ الفاظ کی تبدیلی صرف قائد اعظم کے اصرار پر کی گئی تھی۔
پاکستان کا سیکولر اور لبرل طبقہ عرصہ دراز سے یہ دعویٰ کرتا آرہا ہے کہ قائداعظمؒ نے 15 اگست 1947ء کے روز پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کی حیثیت سے جو حلف اٹھایا، وہ دراصل تاجِ برطانیہ کے ساتھ وفاداری کا حلف تھا۔ بین السطور اس دعوے کے ذریعے وہ قائداعظم محمد علی جناح کو انگریزوں کا وفادار ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ بات ناقابل فہم ہے کہ ایک ایسی ہستی جس نے اصولی بنیادوں پر پاکستان کا مقدمہ لڑا، اس ارض پاک کے کروڑوں لوگوں کو انگریز کی غلامی سے نجات دلائی، اور جو بستر مرگ پر بھی پاکستان کی فکر میں رہی، اسے انگریزوں کا وفادار کیسے قرار دیا جاسکتا ہے؟ لیکن تحقیق کو ہمیشہ جذبات سے زیادہ ثبوت کی ضرورت ہوتی ہے، اور یہ ثبوت پاکستان کے معروف محقق اور دانشور، جناب عقیل عباس جعفری نے فیس بُک پر اپنی ایک تازہ پوسٹ میں فراہم کیا ہے۔
اس پوسٹ کے مطابق، قائداعظم کا حلف ان الفاظ پر مشتمل ہے،
’’میں حلف اٹھاتا ہوں کہ میں نافذالعمل آئین پاکستان سے وفادار رہوں گا۔“
اسی پوسٹ میں آگے چل کر جناب عقیل عباس جعفری نے قائداعظم کے حلف سے متعلق، پاکستان کے ممتاز ماہر قانون جناب ایس ایم ظفر کی کتاب ’’عدالت میں سیاست‘‘ کے صفحہ نمبر 181 پر موجود عبارت حرف بہ حرف کچھ یوں تحریر کی ہے۔
’’ہم نے اپنی تحقیق پاکستان کی ابتدائی تاریخ سے شروع کی۔ حلف کی اہمیت کا اس سے پتا چلتا ہے کہ جب 15 اگست 1947ء کو قائداعظم محمد علی جناح کے بطور گورنر جنرل پاکستان حلف اٹھانے کا وقت آیا تو گورنر جنرل کے حلف کے الفاظ کو جناح صاحب کے اعتراض کی روشنی میں تبدیل کرنا پڑا۔ ہوا یوں کہ انڈین انڈیپنڈنس ایکٹ 1947ء، جس کے تحت پاکستان اور بھارت کو آزادی ملی تھی، اس کے مطابق نئی مملکت کے گورنر جنرل کو اپنا عہدہ سنبھالنے سے پہلے مندرجہ ذیل حلف اٹھانا پڑتا۔ ہِز میجسٹی جارج ششم بادشاہ برطانیہ کے جاری کردہ پروانے کے مطابق حلف نامہ کے الفاظ یوں تھے،
’’میں حلف اٹھاتا ہوں کہ میں ہِز میجسٹی کا پورا وفادار رہوں گا اور میں ہِز میجسٹی اور ان کے جانشینوں کو وفاداری کا بھی یقین دلاتا ہوں‘‘۔qaid

قائد اعظم محمد علی جناح ایک نئی اسلامی مملکت قائم کرنا چاہتے تھے اور نئی مملکت کے اس تشخص کو ابتداء ہی میں واضح کردینا چاہتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ جب لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے یہ خواہش ظاہر کی کہ دونوں نوزائیدہ مملکتیں (پاکستان اور بھارت) انہیں مشترکہ طور گورنر جنرل بنالیں اور کانگریس نے ان کی اس تجویز کو جی آیا نوں کہا (تو) قائداعظم نے اس تجویز کو رد کردیا کیونکہ اگر وہ یہ مان جاتے تو نظریاتی طور پر یہ ابہام پیدا ہوسکتا تھا کہ بھارت اور پاکستان کی فی الحقیقت علیحدگی نہیں ہوئی اور جلد ہی دونوں مملکتیں ایک ہوجائیں گی۔ بہرحال، حلف اٹھاتے وقت جناح نے ”ہِز میجسٹی کی وفاداری“ کے الفاظ پر اعتراض کیا اور ان کی جگہ جن الفاظ کی تبدیلی حکومت برطانیہ سے منوائی وہ یوں تھے،
’’میں حلف اٹھاتا ہوں کہ میں نافذ العمل آئینِ پاکستان سے وفادار رہوں گا‘‘۔
ہِز میجسٹی سے وفاداری کے بجائے آئین پاکستان سے وفاداری کی تبدیلی فقہی اور آئینی لحاظ سے کس قدر اہم تھی، اس پر ابھی تک ہمارے مؤرخین نے کوئی زیادہ توجہ نہیں دی ہے۔ قائداعظم نے شخصیت پرستی کے بجائے آئین کو اہمیت دی تھی۔ وہ خود کو بھی آئین کا پابند بنانا چاہتے تھے اور قوم کو بھی آئین کی اہمیت بتا رہے تھے۔ یہ بات بھی قارئین کو معلوم ہونی چاہیئے کہ برطانیہ کے تحت جتنے بھی نو آبادیاتی ممالک کسی وقت بھی آزاد ہوئے، ان کے سربراہوں نے وقت آزادی وہی حلف اٹھایا جو ہِز میجسٹی کے پروانہ میں درج تھا۔ الفاظ کی تبدیلی صرف پاکستان کے گورنر جنرل قائد اعظم محمد علی جناح کے اصرار پر کی گئی تھی۔‘‘
یہ عبارت نقل کرنے کے بعد عقیل عباس جعفری صاحب لکھتے ہیں:
’’جناب ایس ایم ظفر کی اس تحریر کے حوالے کے بعد یہ بات بالکل اظہر من الشمس ہے کہ قائداعظم پر لگایا گیا یہ الزام بھی محض نا واقفیت کی بنیاد پر ہے اور اس الزام میں کوئی حقیقت موجود نہیں ہے کہ جب 15 اگست 1947ء کو قائداعظم محمد علی جناح نے بطور گورنر جنرل پاکستان حلف اٹھایا تھا تو اس حلف میں ہِز میجسٹی جارج ششم بادشاہ برطانیہ سے وفاداری کے الفاظ شامل تھے‘‘۔
واقعی، یہ ایک ایسا پہلو ہے جس پر مؤرخین پاکستان نے اب تک قرار واقعی توجہ نہیں دی ہے۔ تحقیق کے اسی فقدان کا فائدہ بزعمِ خویش لبرل اور سیکولر طبقہ پوری طرح سے اٹھا رہا ہے، اور قائداعظم کی تاریخی حیثیت مجروح کرنے میں مصروف ہے۔
بہرطور! اختتام میں مزید صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ قائد اعظمؒ کے حلف سے متعلق ایک دستاویزی (documented) ثبوت آپ کے سامنے ہے۔ اگر پاکستان میں اب بھی کچھ لوگوں کو یہ اگر ناکافی لگتا ہے تو بہتر ہوگا کہ وہ بھی کوئی ’’جوابی ثبوت‘‘ پیش کریں تاکہ دونوں ثبوتوں کے مابین عقلی موازنہ بھی کیا جاسکے۔ لفاظی اور چرب زبانی پر مبنی جوابی وار سے کوئی کام نہیں بنے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *