اقوامِ متحدہ کے نئے سیکرٹری جنرل کون ہیں؟

jahangir-ashraf-qazi

دنیا کی سب سے ناممکن جاب کے لیے انٹونیو گویٹرز سب سے موزوں امیدوار ہیں۔ جب میں بغداد میں یو این اے ایم آئی کا سربراہ تھا  تب میری ان سے ایک ملاقات ہوئی تھی  اور میں یو این ایچ سی آر کے سربراہ کی حیثیت سے ان کی انسانیت، کمٹمنٹ اور ارادے کی پختگی سے بہت متاثر ہوا تھا۔ اتنا جلدی اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا بلا مقابلہ سیکرٹری جنرل بن جانا گویٹر کی شہرت اور عزت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔  یکم جنوری کو اپنا عہدہ سنبھالتے وقت  ان کے پاس جو خصوصیات ہونا ضروری ہے وہ دل و دماغ کی قابلیتیں وہ پہلے ہی دنیا بھر کو منوا چکے ہیں۔ جو لوگ آج ان کی تعریفیں کر رہے ہیں کچھ عرصہ بعد انہیں اپنی غلط پالیسیوں کا ذمہ دار ٹھہرانا شروع کر دیں گے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی ذمہ داریاں یو این چارٹر کے 15ویں چیپٹر میں درج ہیں۔ سب سے اہم ذمہ داریاں آرٹیکل نمبر 97 سے 101 تک درج ہیں۔ جاب ڈیسکرپشن کے مطابق وہ اقوام متحدہ تنظیم کے چیف ایڈمنسٹریٹر آفیسر ہیں۔ لیکن حقیقت میں ان کی ذمہ داریاں اس سے کہیں زیادہ ہیں ۔نیو یارک میں موجود روسی نمائندے  وٹالی  چرکن نے کہا : سیکرٹری جنرل سکیورٹی کونسل کو کنٹرول نہیں کر رہا ہوتا، سکیورٹی کونسل خود اپنے آپ کو کنٹرول کرتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے  اور کئی بار یہ سیکرٹری جنرل کے لیے رکاوٹیں بھی کھڑی کرتی ہے۔ موجودہ یو ایس پی آر سمانتھا پاورز نے جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے اقوام متحدہ کو بہت کچھ کرنا ہو گا۔

 دلچسپ بات یہ ہے کہ سمانتھا پاورز سے پہلے  یو ایس پی آر جان بولٹن نے کہا تھا کہ  اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی  کو سی اے اوتک محدود رہنا چاہیے۔ اسے دنیا بھر میں امریکی سرگرمیوں کی قانونیت کے بارے میں سوچنا بند کر دینا چاہیے۔ پاورز کے ویلکم کرنے والے بیان کے باوجود بولٹن نے مزید بہتر طریقے سے  امریکہ کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی طرف رویہ بیان کیا ہے ۔سچ بات کی جائے تو  دوسری طاقتیں بھی یہی کچھ کرتی ہیں۔ بہر حال گویٹر کا کہنا ہے کہ وہ انسانی  جانوں کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہوئے  دنیا بھر کے خطرات سے نمٹتے ہوئے امن کے قیام کو بھر پور کوشش کریں گے۔ پاکستان کے پہلو سے نظر دوڑائیں تو  ہمیں یو این چارٹر کا آرٹیکل 99 یاد آتا ہے جس کے مطابق  سیکرٹری جنرل کی ذمہ داری ہے کہ وہ  سکیورٹی کونسل کی توجہ ان مسائل کی طرف  مبذول کرائے  جو دنیا کے امن اور تحفظ کے لیے خطرہ محسوس ہوتے ہیں۔

 یو این چارٹر کے چیپٹر 6 کے مطابق جمو ں اینڈ کشمیر کے بارے میں کئی قراردادیں موجود ہیں۔ یہ قراردادیں اس نوعیت کی ہیں جو ادارے کے میکنزم کو اپنے اوپر عملد رآمد پر مجبور نہیں کر سکتی  اور اسی لیے بعض ماہرین ان قراردادوں کو قانونی فرائض کی بجائے قانونی مشورہ قرار دیتے ہیں۔ کچھ دوسرے ماہرین اس رائے کو چیلنج کرتے ہیں  اور کہتے ہیں کہ یو این سکیورٹی کونسل کی قرارد اگر فورسبل نہ بھی ہو  تو بھی اس سے وہ فرض ختم نہیں ہو تا  جس کے مطابق سکیورٹی کونسل کے لیے ضروری ہے کہ  ان مسائل پر توجہ دے  اور چیپٹر 7 میں موجود خود انفورس ہونے والی قراردادوں کی طرح ان پر کاروائی کی جائے۔ کچھ بھی ہو، آرٹیکل 99 سیکرٹری جنرل کو اختیار دیتا ہے کہ چیپٹر 6 اور 7 کی قراردادوں میں موجود گیپ کو ختم کرے  خاص طور پر جب کوئی مسئلہ دنیا بھر کے امن اور تحفظ کے لیے خطرہ پیدا کر رہا ہو۔

بھارت کے قبضہ میں موجود کشمیر میں سیاسی اور انسانی حقوق کا  مسئلہ گویٹرز کے لیے آرٹیل 99 کے تحت اہم قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس مسئلہ پر اس سے قبل پاکستان اور بھارت تین جنگیں لڑ چکے ہیں اور چوتھی جنگ بھی کسی وقت چھڑ سکتی ہے۔ پاکستان کی کشمیر پالیسی کا  فوکس اسی بات پر ہونا چاہیے۔ بھارت کا یہ دعوی کے کشمیر کا الحاق بھارت کے ساتھ ہے اقوام متحدہ کے آرٹیکل 103  اور قرارداد کشمیر جو سکیورٹی کونسل میں موجود ہے کی خلاف ورزی ہے۔ مسائل کا ذکر کرتے ہوئے گویٹرز نے شام کے مسئلے کا ذکر کیا  اور اسے دنیا میں دوسرے ممالک کے مسائل کے ساتھ جوڑ کر دہشت گردی کی بھی مذمت کی۔ مسائل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بھی مسئلہ کشمیر کو نظر انداز کرنا ہی مناسب سمجھا۔ یہ بات ان کی نظر اندازی سے زیادہ پاکستان کی کشمیر پالیسی کی ناکامی دکھائی دیتی ہے۔

اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بہترین گورنینس، انسانی حقوق کے تحفظ، ہیومن ریسورس ڈولپمنٹ،  جمہوری اداروں کی ترقی، قانون کا نفاذ، دہشت گرد گروپوں کے خلاف بلا امتیاز کاروائی، کرپشن کا خاتمہ ، شخصی آزادی، بہترین فیصلہ سازی کے بغیر دنیا میں ہماری آواز پر اثر نہیں ہو سکتی۔

اس کے ساتھ ساتھ سرل المیڈا کا نام  ای سی ایل میں ڈالنے کی بنیادی وجہ اس کے قومی سلامتی کے خلاف آواز اٹھانا بتایا جاتا ہے۔ معاملے میں کچھ اہم لوگوں کے لیے اس طرح کی حب الوطنی  ان کے لیے آخری حل کے طور پر کام آتی ہے۔ ایک قابل یقین بیانیے کے لیے پروٹیکشن کی ضرورت نہیں ہوتی۔ گلوبل پرسپیکٹِو کے لحاظ سے گویٹرز پر پریشر ہو گا کہ وہ اپنی پالیسی تیار کرے  اور اقوام متحدہ کی سیاسی اور ادارتی کریڈبلٹی کو بھی اس غیر عقلی اور پر تشدد دنیا میں بحال کروانا ہوگا۔ پورا کیپٹلسٹ آرڈر مزید خراب ہوتا جا رہا ہے۔ امریکی صدارت کے لیے مقابلہ زندگی کا سب سے بُرا ثابت ہو سکتا ہے۔ نئی امریکی لیڈر شپ ہمیں کس طرف لے کر جائے گی۔

دونوں صدارتی امیدواروں میں سے ایک  سے بھی کوئی اچھی امید نہیں رکھی جا سکتی۔ روس دنیا میں اپنی پوزیشن بحال  کرنے یا امریکہ کے خلاف فیصلہ کن جنگ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ چین دنیا میں اپنی حیثیت منوانے کے لیے نت نئے طریقے اختیار کر رہا ہے۔ یہ ایک ایسا وقت ہے  جب دنیا میں ہر طرف نئے مسائل کا انبار ہے  اور اقوام متحدہ  کے لیے اپنا کردار مزید بہتر کرنا اشد ضروری ہے۔ خاموش جذبہ اور  عقل مند انہ تجاویز اقوام متحدہ کے نئے دور کے لیے بہت اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس کے جواب میں دنیا کی طاقتور قوتیں بہتر تعاون اور سجھداری کا مظاہرہ کر سکیں گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *