عمران خان قوم کو بے وقوف بنارہے ہیں، کون سی تحقیقات کرنی تھیں جو نہیں کی

اسلام آباد -مسلم لیگ ن کے رہنما دانیال عزیز اور محمد زبیر نے پریس کانفرنس میں ایک بار پھر تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور ان کی پارٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ محمد زبیر نے کہا عمران خان نے دو نومبر کو اسلام آباد بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومتی آفس بند کرنا کسی آئین میں نہیں لکھا۔ 1947 سے لیکرآج تک حکومتی آفس بند کرنے کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے تمام اقدامات اٹھائے اور تمام اداروں نے قانونی تقاضے پورے کیے۔ عمران خان کو مرضی کے آفیسر سے تحقیقات کا کہا تھا لیکن عمران خان اداروں کی تضحیک کرتے ہیں۔ عمران خان یہ بتائیں اداروں نے کونسی تحقیقات کرنا تھیں جو نہیں کی کیونکہ ساری دنیا میں ایسے ہی تحقیقات ہوتی ہیں۔ محمد زبیر نے کہا بدقسمتی سے عمران خان پچھلی باتیں بہت جلد بھول جاتے ہیں۔ ایف بی آر اور متعلقہ محکموں کو تحقیقات کے لیے خط لکھے گئے۔ پاناما لیکس میں ٹیکس چوری کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں لکھا عمران قوم کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔ عمران خان نواز شریف کے لندن میں مبینہ فلیٹ کی رجسٹری دکھائیں۔

مسلم لیگ ن کے رہنما دانیال عزیز نے اس موقع پر بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ 6 اپریل 2016 کو بتایا تھا عمران نے شوکت خانم کے چندے کو علاج کی بجائے برٹش ورجن آئی لینڈ میں انویسٹمنٹ کیا۔ انہوں نے عمران خان سے مخاطب ہوئے کہا جہانگیر ترین اور علیم خان کی آف شور کمپنیوں میں لگا پیسہ پاکستان میں بھی لگایا جا سکتا تھا آپ بھی ان دونوں کو بھی تلاشی لیں۔ خان صاحب اگر آپ نے چوری نہیں کی تو تلاشی سے کیوں گھبراتے ہیں۔ دانیال عزیز نے کہا اب عمران خان کو بھی تلاشی دینا پڑے گی کیونکہ عمران خان نے اسپتال کے لیے جمع چندے سے آف شور کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی۔ پاناما لیکس میں کوئی ثبوت نہیں لیکن عمران خان کے خلاف پکے ثبوت ہیں۔

انہوں نے مزید کہا عمران لوگوں پر بھارت میں کاروبارکا الزام لگاتے ہیں لیکن بھارتیوں نے عمران کے ڈبوئے ہوئے پیسے بھرے ۔ عمران ہمیں شوگر لینڈ کے انویسٹرز کے بارے بتائیں۔ دانیال عزیز نے کہا اداروں کی کارکردگی میں عمران خان رکاوٹ بن رہے ہیں اور تحریک انصاف نے کرپشن کے خلاف نیا قانون نہیں بننے دیا۔ عمران خان 35 پنکچروں والے الزام کی طرح عوام کو بیوقوف بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاناما لیکس کی تحقیقات کے حوالے بنی ٹی او آر کمیٹی کو اپوزیشن نے توڑا۔ خان صاحب کینٹنر سے اتریں اور جواب دینے آئیں اور سپریم کورٹ میں کل پیشی ہے۔ سپریم کورٹ کے دروازے کھلے تھے لیکن عمران نے پانچ ماہ تاخیر کی ۔ حکومت نے ایک لمحے کی تاخیر کیے بغیر سپریم کورٹ کو خط لکھا ۔ معاملہ جب سینیٹ میں آیا تو عمران خان بھاگ گئے یہ سارا کھیل بنایا جا رہا ہے اور 2 نومبر کی تاریخ بھی الیکشن کمیشن میں پیشی سے بچنے کے لیے رکھی گئی :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *