12 مئی سانحہ کا منصوبہ گورنر ہاؤس کراچی میں بنا ، مصطفیٰ کمال

cb

کراچی۔ پاکستان سرزمین پارٹی (پی ایس پی) کے سربراہ مصطفیٰ کمال نے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کو ایک بار پھر آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے سخت الزامات عائد کئے اور تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ مصطفیٰ کمال کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ متنازع گورنر سندھ نے 14 سال بعد ٹی وی پر آ کر اپنی زبان کھولی۔ ہم یہی چاہتے تھے کہ گورنر سندھ کھل کر سامنے آئیں۔ ہم نے ان سانپوں کو بین بجا کر باہر نکالا ہے۔ دو دن پہلے بین بجائی اور سارے سانپ باہر آ گئے۔ گورنر کو بل سے نکالا ہے تو سارے واقعات انہیں یاد آ رہے ہیں۔ عشرت العباد کو چھپنے نہیں دیں گے بلکہ کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ گورنر سندھ عشرت العباد کی ساری باتوں کا جواب دینا چاہتا ہوں۔ گورنر سندھ نے مجھ پر کرپشن، ملائیشیاء اور لندن پیسے بھیجنے کے الزامات لگائے۔ میرا مطالبہ ہے کہ گورنر سندھ کے الزامات پر جے آئی ٹی بنائی جائے۔ بلدیہ ٹاؤن سانحے کی از سر نو تحقیقات شروع کی جائیں۔ ہم اس معاملے میں اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں گے۔ سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے تانے بانے بھی گورنر ہاؤس سے جا کر ملیں گے۔ مصطفیٰ کمال نے الزام لگایا کہ بلدیہ فیکٹری کے مالکان کو گورنرسندھ نے پہلے گرفتار کیا اور پھر سیٹل منٹ کرکے بیرون ملک فرار کروایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ 12 مئی کے قاتلوں کو چوکوں پر الٹا لٹکانے کی باتیں کرنے والا ہی سارے معاملے کا ذمہ دار ہے۔ 12 مئی کو گورنر سندھ ہی تمام انتظامیہ کو ڈیل کر رہے تھے۔ 12 مئی سے پہلے گورنر سندھ نے ہفتوں میٹنگز کیں۔ گورنر ہاؤس میں ہی 12 مئی کیلئے کنٹرول روم بنایا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی پاکستان کا جسم ہے۔ انسان اپنے جسم کے زخم کو نظر انداز کرکے زندگی نہیں گزار سکتا۔ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد اور متحدہ بانی پاکستان کے جسم کا ناسور ہیں۔ جب تک ناسور کو ختم نہیں کریں گے، جسم نشوونما نہیں پائے گا۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ برطانوی شہریت رکھنے والا آدمی گزشتہ 14 سال سے گورنر سندھ جیسے حساس عہدے پر تعینات ہے۔ اصل میں یہی شخص سانحہ 12 مئی اور بلدیہ ٹاؤن واقعے کا ذمہ دار ہے۔ میرا مطالبہ ہے کہ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کا نام ای سی ایل میں ڈال کر گرفتار کیا جائے۔ گورنر سندھ کو اگر سزا نہ دی گئی تو پاکستان کا بڑا نقصان ہوگا:۔

loading...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *