امتیابھ بچن ۔۔ایک عہد ایک جنون

hussain-javed

وہ کلکتہ میں ایک کان کنی کی فرم میں ملازمت کرتا تھا تنخواہ یہی کوئی پانچ سو کے قریب تھی جو کہ اس دور کے حوالے سے خاصی مناسب تھی ۔اس نوکری میں آگے بڑھنے کے مواقع بھی تھے لیکن اس شخض کے اندر کچھ تخلیقی جراثیم موجود تھے جنہوں نے اس کے اندر اداکاری کا بھوت سما دیا ۔یہ شوق کیسے پروان نہ چڑھتا آخر وہ ہندوستان کے ایک مشہور شاعر کا بیٹا تھا گویا تخلیقی ماحول اس نے ہوش سنبھالتے ہی دیکھا تھا ۔اس نے آل انڈیا ریڈیو میں بھی بطور اناؤنسر آڈیشن دیا مگر اسے یہ کہہ کر لوٹا دیا گیا کہ اس کی آواز ضرورت سے زیادہ بھاری ہے جب اس نے فلم سٹوڈیوز کے چکر لگانے شروع کئے تو کئی ڈاریکٹرز نے اسے صاف صاف کہہ دیا کہ ہیرو بننے کیلئے اتنے لمبے قد کا آدمی بے ڈھنگا لگتا ہے یہاں تک کہ کئی ڈاریکٹرز نے تو اس کی چال ڈھال پر بھی اسے لگی لپٹی کے بغیر ہی کہہ دیا کہ اس میں ہیرو والی کوئی بات نہیں ۔لیکن پہلی ہی فلم ’’سات ہندوستانی‘‘ نے اسے ایوارڈ دلا دیا اور یوں اس نوجوان کی بمبئی کی فلم نگری آمد ہوتی ہے اور آج دنیا اسے’’ امتیابھ بچن ‘‘کے نام سے جانتی ہے بلکہ یوں کہنا مناسب ہوگا کہ امتیابھ بچن، بھارت کی بیرون ملک میں پہچان بن کر ابھرا ۔امتیابھ کے والد ہری ونش رائے بچن بھارت کے مشہور شاعر رہے ہیں امتیابھ کی والد ہ تیجی بچن کا تعلق فیصل آباد سے تھا اور وہ گورنمنٹ کالج لاہور میں بھی زیر تعلیم رہیں۔امتیابھ کی ابتدائی بارہ فلمیں باکس آفس پر فلاپ رہیں لیکن ان کو ’’آنند‘‘ میں اس وقت کے اداکار راجیش کھنہ کے مقابل ایک مضبوط کردار ملا ، بابو موشائے کا یہ رول پہلے اداکار اسرانی کو ملا تھا لیکن بعد ازاں یہ رول امتیابھ کی جھولی میں جاگرا۔Image result for amitabh bachchan

اگرچہ یہ راجیش کھنہ کی فلم تھی لیکن امتیابھ نے کھنہ کے سامنے جم کر اداکاری کی اور ایک ایسی چھاپ چھوڑی جس سے راجیش کھنہ چوکنے ہوگئے۔کہا جاتا ہے کہ راجیش کھنہ کئی سالوں تک ان سے کھچے کھچے رہے لیکن امتیابھ نے کبھی اپنا ردعمل ظاہر نہیں کیاوہ آج بھی کہتے ہیں کہ اصل سپرسٹار راجیش کھنہ ہی ہیں ان کا کریز ویسا جنون کسی اور کے حصے میں نہیں آیا۔یہ امتیابھ کیلئے شدید مایوسی کا دور تھا ایسے میں فلم ’’ملی ‘‘میں ان کی جیا بھادری کے ساتھ جوڑی کچھ ایسی جمی کہ دونوں نے جھٹ پٹ شادی کا فیصلہ کرلیا اور جون 1973 میں دونوں ایک ہوگئے اس کے بعد وقت بچن کیلئے بدل گیا۔ان کو پرکاش مہرہ نے فلم زنجیر آفر کی جس میں ان کو ایک پولیس ا فسرکا رول دیاگیا یہی وہ فلم تھی جس میں انہوں نے اپنی آنکھوں سے ایک ناراض اور غصیلے نوجوان کے جذبات کا اظہار کچھ یوں کیا کہ انہیں angry young man کہا جانے لگا۔خاص کر فلم کے مکالمے ’’جب تک بیٹھنے کیلئے نہ کہا جائے کھڑے رہو یہ پولیس سٹیشن ہے تمھارے باپ کا گھر نہیں ‘‘۔یاد رہے زنجیر کیلئے راجیش کھنہ،راجکمار پہلے ہی منع کرچکے تھے یہ جاوید اختر اور سلیم جاوید ہی تھے جنہوں نے ملی اور سوداگر میں امتیابھ کے اندر کا ایک ناراض غصیلا نوجوان بھانپ لیا تھا اور اسی بنیاد پر انہوں نے پرکاش مہرہ کو راضی کرلیا کہ زنجیر کیلئے ان کو آزمایاجائے۔آج بھی جاوید اختر کہتے ہیں کہ’’ یہ کردار کوئی بھی کرلیتا مگر شائد اس کردار سے حقیقی انصاف بچن ہی کرسکتے تھے‘‘۔اس کے بعد دیوار اور شعلے کی کامیابی نے گویا امتیابھ کے قدم فلم نگری میں جمادئیے اب بمبئی امتیابھ پر مہربان ہورہا تھا لوگ کھنہ کے مسلسل رومانوی کرداروں سے بیزار ہورہے تھے ان کو جھرنوں اور پربت کے نیچے رومانس کرتے ہیرو کے بجائے سماج میں پھیلی غریبی،نا انصافی کے خلاف ایک جوشیلا ہیرو مل چکا تھا جو کہ دلی سے بنگال اور بنگال سے مہاراشٹر تک عوامی پسندیدگی کی سند حاصل کرچکاتھا۔یاد رہے دیوار کے کردار کیلئے امتیابھ نے مشہور گینگسٹر حاجی مستان سے ملاقاتیں کیں اسکی چال ڈھال کا مشاہدہ کیا۔بچن رات کو بمبئی میں دیوار اور دن کو بنگلور کے قریب شعلے کی شوٹنگ کرتے۔Image result for amitabh bachchan

سلیم جاوید کے مکالمے’’ میرے پاس ماں ہے‘‘ نے گویا فلم بینوں کو پاگل کردیا۔بچن اور ششی کپور کی جوڑی سامنے آئی جس کو عوام میں بہت سراہا گیا۔اسکے بعد 1978 وہ سال تھا جب امر اکبر انتھونی، ڈان، ترشول اور مقدر کا سکندر کی شاندار کامیابیوں نے ہندی فلم انڈسٹری کو ایک نیا سپر سٹار دیا اب امتیابھ بچن کی مقبولیت آسمان کو پہنچ چکی تھی۔یہ وہ وقت تھا جب بچن پیتل کو بھی سونا بنا رہے تھے سینما گھروں پر کھڑکی توڑ رش ہوا کرتا کاامتیابھ ی نئی فلم رہلیز پر ٹکٹ خریدتے کئی لوگ بری طرح زخمی ہوجاتے مگر یہ جنون اور سٹار پاور ہی تھی کہ بچن کی فلم پہلے ہی روز دیکھنا فیشن بن چکا تھا۔یہاں پر سلیم جاوید،جاوید اختر اور قادر خان کو بھی سراہنا ہوگا جن کے اثر انگیز مکالموں نے امتیابھ کو اونچائیوں پر پہنچادیا۔اسے غریبوں کا مسیحا کہاگیا اس نے سماج میں قلی ،مزدور ،ٹیکسی ڈراےؤر پر مبنی کردار ادا کئے اور برائی کے خلاف ایک آواز ایک بغاوت بن کرابھرا۔خون پسینہ،عدالت،کالا پتھر،انقلاب،لاوارث،یارانہ میں ایسے کردار نبھائے کہ ایک عالم اس کی بے مثال اداکاری کا اسیر ہوگیا اب کہا جانے لگا کہ ہیرو قد آور ہونا چاہیے اسکی آواز بھاری ہو اور بھاگے تو امتیابھ جیسا لگے گویا امتیابھ کی ابتدائی خامیاں اب اسکی خوبیاں بن چکی تھیں ۔کچھ ایسے ہیروز بھی تھے جنہوں نے بچن کو ٹکر دی ان میں ونود کھنہ نمایاں رہے دونوں کی جوڑی کو ہیرا پھیری،امر اکبر انتھونی،پرورش اور ضمیر میں سراہاگیا۔امتیابھ بچن کی یک خصوصیت یہ تھی کہ انہوں نے ہمیشہ اداکاری کے ہر چیلنج کو قبول کیا اور خود کو منوایا جیسے جوانی میں ادھیڑ عمر کے کردار نبھائے جیسے کبھی کبھی میں ایک شاعر کی جوانی سے بڑھاپے تک کا رول،دیش پریمی میں ایک محب الوطن ماسٹر کا کردار ہو،عدالت کا بوڑھا سمگلر یا مہان کا بوڑھا وکیل ہو یا آخری راستہ کا انتقام میں جلتا بوڑھا کرسچن ہو ،بچن نے نہایت خوبی سے یہ کردار نبھائے۔امتیابھ نے 10 فلموں میں ڈبل رول کیا جبکہ 19 فلموں میں ان کا نام وجے رکھا گیا۔دوران شوٹنگ امتیابھ اپنے ڈاریکٹرز کو خوب چھڑتے جیسے من موہن ڈیسائی کو بار بار کہتے کہ سر کچھ کھا لیں سر کچھ کھالیں یہاں تک کہ ڈیسائی زچ ہوجاتا۔مشہور ولن رنجیت کہتے ہیں ’’میرے اور بچن کے درمیان ہمیشہ یہی بات ہوتی ہے وہ کہتے ہیں اور لالے کیا حال ہے میں بھی یہی بار بار کہتا ہوں اور لالے کیا حال ہے‘‘ ؟اسی طرح امتیابھ بنگلورمیں قلی کی شوٹنگ کررہے تھے کہ رات گئے سمیتا پاٹل نے فون کر کے ان کی خیریت دریافت کی امتیابھ حیران ہوئے تو سمیتا نے کہا کہ ابھی ابھی ایک بھیانک سپنا دیکھا ہے اپنا خیال رکھو اور اگلی صبح امتیابھ ایک ایکشن سین میں بری طرح زخمی ہوگئے۔اس سین میں امتیابھ کے ساتھ اداکار پونیت ایسر آج بھی کہتے ہیں کہ’’ میں بہت خوفزدہ تھا کہ لوگ مجھے اس حادثے کا ذ مہ دار سمجھیں گے لیکن بعدازاں امتیابھ نے مجھے بلایا اور پریس سے کہا کہ اس سانحے میں پونیت کا کوئی قصور نہیں۔Image result for amitabh bachchan

امجد خان وہ پہلے اداکار تھے جو امتیابھ کو د یکھنے ہسپتال پہنچے اس سے قبل 1979 میں امجد ایک حادثے میں زخمی ہوئے تو بچن اس وقت تک ان کیلئے ہسپتال رہے جب تک امجد کی حالت خطرے سے باہر نہیں ہوگئی۔مشہور ولن ڈینی نے امتیابھ کے مقابل کئی بار رول ٹھکرائے کیونکہ اس کی خواہش تھی کہ امتیابھ کے سامنے کوئی جاندار رول ہی کروں گا یہ خواہش اگنی پتھ کے دوران پوری ہوئی اس فلم میں ایک سین میں ڈینی اپنے میک اپ سے مطمئن نہیں ہوئے اور میک مین پر خوب برسے ایسے میں بچن نے ڈینی کو خود جا کرکہا یار تم بہت کمال لگ رہے ہو میں تم سے بہت متاثر ہوا ہوں۔اسی طرح بقول جاوید اختر فلم شکتی میں جس طرح امتیابھ اور دلیپ کا ملاپ ہوا اور دونوں میں راکھی کی موت کے بعد پہلی ملاقات میں آنکھوں آنکھوں میں جذبات کا جو اظہار ہوا یہ ایک بیمثال اداکاری کا نمونہ تھااسی طرح فلم یارانہ کی شوٹنگ کلکتہ میں جاری تھی اداکارہ نیتو سنگھ اپنے منگیتر رشی کپورکو یاد کر کے رو پڑی امتیابھ کو علم ہوا تو فوراٰ پہلی فلائٹ سے نیتو کو بمبئی رشی کے پاس بھجوایا اور کہاں میں اکیلے ہی سین مکمل کر لوں گا نیتو کو جانے دیں۔یہ تو سب جانتے ہیں کہ امتیابھ بچن اور ریکھا کے درمیان ایک ہنگامہ خیز تعلق رہا لیکن یہ بہت کم کو علم ہوگا کہ امتیابھ کچھ وقت کیلئے امرتا سنگھ سے بھی خاصے متاثر رہے تھے لیکن یہ یہ سلسلہ جلد ختم ہوگیا۔کنگ خان شارخ خان کہتے ہیں’’ میں پہلی بار امتیابھ سے ملنے گیا تو ہم دونوں چہل قدمی کر ر ہے تھے کہ کچھ لوگوں نے امتیابھ کو دیکھ کر نعرے مارے ہاتھ ہلائے تو امتیابھ نے شاہ رخ سے کہا شاہ رخ تم تو بہت پاپولر ہو یہ ثابت کرتا ہے کہ امتیابھ کتنے عاجز انسان ہیں‘‘۔مرتیو داتا کو امتیابھ کی سب سے بری فلم کہا جاتا ہے اس فلم کے بعد ان کیABCL کمپنی بھی ڈوب گئی گویا دیوالیہ نکل گیا لیکن پھر اس نے دوبارہ خود کو منوایا اورشو کون بنے گا کروڑ پتی ،فلم ، محبتیں اور کبھی خوشی غم ،سرکار ،بلیک ،وزیر ،پنک،خاکی میں انہوں نے پھر ثابت کیا کہ وہ گر کر دوبارہ اٹھنا جانتے ہیںآج ان کیلئے کردار لکھے جاتے ہیں ۔کچھ ایسے اداکار بھی ہیں جو امتیابھ سے نالاں رہے جیسے اداکار قادر خان کو بچن سے گلہ ہے کہ سیاست میں جانے کے بعد بچن بدل گیا اس سے ملنا مشکل ہوگیا وہ پہلے والا امتیابھ نہیں رہا ۔اداکار محمود کے مطابق وہ میرا بیٹا ہے میں نے اسے فلمیں دلائیں کمانا سکھایا لیکن جب میرا پائی پاس ہوا وہ جانتے ہوئے بھی مجھے ملنے سپتال تک نہیں آیا ۔Image result for amitabh bachchan

اسی طرح شترو گھن سنہا کو قلق رہا امتیابھ نے بیٹے کی شادی میں انہیں مدعو نہیں کیا کئی مواقعوں پر شترو نے بچن کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا لیکن بگ بی خاموش رہے۔ لیکن جب شترو بیمار ہوئے تو امتیابھ نے اپنے پرانے دوست کی عیادت کی او ر یوں ٹوٹا تعلق پھر جڑ گیا۔بچن خاندان کے گاندھی خاندان سے بہت پرانے اور گہرے تعلقات قائم رہے یہی وجہ ہے بقول امتیابھ، راجیو گاندھی سے ان کی دوستی کا تعلق تب سے قائم تھا جب وہ محض چار سال کے تھے ۔یہ راجیو گاندھی ہی تھے جن کے اصرار پر امتیابھ 1984 میں انتخابی میدان میں اترے اور الہ آباد سے ہیما وتی ٹنڈن کو ہرا کر لوک سبھا پہنچ گئے ۔یہ الگ بات ہے کہ آج امتیابھ کھل کر کہتے ہیں کہ سیاست میں جانا ان کی فاش غلطی تھی ۔راجیو گاندھی اور امتیابھ بچن کے تعلق کی گہرائی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اندرا گاندھی کے آخری رسومات کی تیاریوں کی ساری ذ مہ داری امیتابھ نے ہی نبھائی ۔جبکہ سونیا گاندھی نے شادی سے قبل امتیابھ کے گھر ہی قیام کیا اور راجیو بارات لے کر بچن خاندان کے گھر پہنچے۔ تاہم اندرا گاندھی کے قتل کے حوالے سے امتیابھ پر الزامات عائد کئے جاتے ہیں کہ انہوں نے دلی میں سکھوں کے خلاف عوامی جذبات بھڑکائے جس کے نتیجے میں3000سکھ دلی میں مارے گئے ۔ آج بھی امتیابھ بچن کے گھر پرصبح سویرے لوگ ان کی ایک جھلک کی خاطر گھنٹوں باہر کھڑے رہتے ہیں۔ان کے جنم دن 11 اکتوبر کو بھارت میں تہوار کی سی حیثیت حاصل ہے ۔ان کے پاس 2017 کیلئے 9 فلمیں موجود ہیں،ان کے ہمصر اداکار گھر بیٹھ چکے لیکن امتیابھ کی انرجی، محنت اور جذبہ آج بھی جوان ہے ۔ شائد فلم کالیا میں امتیابھ بچن نے درست ہی کہا تھا’’ ہم لائن میں کھڑے نہیں ہوتے ،ہم جہاں کھڑے ہوجائیں لائن وہیں سے شروع ہوتی ہے ‘‘۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *