چھ سبزیوں کی مدد سے کینسر کا شاندار علاج ، آسٹریلوی حکیم کا نایاب نسخہ مل گیا

can

روڈولف بریوس ایک آسٹریلیوی حکیم تھے۔ وہ 1899 میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ساری زندگی کینسر کا علاج ڈھونڈنے میں صرف کر دی اور ایک ۶ ہفتے کا جوس فاسٹنگ پروگرام متعارف کروایا۔ بروس کا دعوی تھا  کہ 1950کےبعدانہوں نےتقریبا 2000 مریضوں کا کامیاب علاج کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے بریسٹ کینسر، برین ٹیومر، گلے کا کینسر، لنگ کینسر، ایڈونس لیور کینسر، ہڈیوں کا کینسر، آنتوں کا کینسر،بچہ دانی کا کینسر، جلن، اور دوسری بہت سی بیماریوں کا مکمل علاج کیا ہے۔ ان کے اندازے کے مطابق 1986کےبعد جوس فاسٹنگ کے ذریعے 45000لوگوں نے کینسر اور دوسری بڑی بیماریوں سے شفا پائی ہے۔ مکمل علاج کا میرے مطابق یہ مطلب ہے کہ کسی بھی بیمار حصے کو جو اپنا کام چھوڑ چکا ہے کاٹے یا ہٹائے بغیر واپس اپنا کام کرنے کے قابل بنا دینا۔ چونکہ کینسر کے خلیے دوسرے خلیوں سے مختلف ہوتے ہیں اس لیے بروس نے ان خلیوں کو بھوک کا شکار کرنے جب کے دوسروں کو پوری خوراک مہیا کرنے کا پروگرام وضع کیا۔ پیٹ کے کینسر کے 2 مریضوں نے بروس کی دی ہوئی ڈائٹنگ پلان سے اپنی تکلیف سے مکمل نجات پائی۔

1950 میں ایک ڈاکٹر نے اولگا مارٹے نامی  آسٹریلوی شخص کو کینسر کا مریض  بتایا  اور انہیں سرجری کروانے کا کہا۔ اولگا کو اس علاج سے تسلی نہیں تھی۔ وہ روڈولف بروس سے ملی ۔ بروس نے ان کو اپنی طرف سے دریافت شدہ علاج بتایا ۔ اس وقت تک صرف 2 اشخاص نے یہ طریقہ علاج اختیار کیا تھا۔ اولگا نے سرجری کے ساتھ جوس فاسٹنگ کا طریقہ بھی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ اولگا کے پاس جوسر نہیں تھا اس لیے انہیں بہت مشکلات درپیش تھیں۔ 42 دن بعد وہ ٹیومر سے نجات حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔ فینڈ نامی مریض نے بھی اتنے ہی عرصے میں اپنے مرض سے نجات پا لی اور علاج کے بعد کروائے گئے ایکسرے میں کینسر کی کوئی علامات دکھائی نہیں دیں۔

بروس کینسر کئیر

بروس ٹوٹل کنسر کئیر علاج 42 دن تک جاری رکھنا ہوتا ہے اور یہ گرسن کی ڈائیٹ کے جیسا سمجھا جاتا ہے۔ یہ زیادہ تر جوس پینے سے متعلق ہے۔ گھر پر یہ علاج جاری رکھنا زیادہ آسان ہے۔ خالص جوس میں عام طور پر اینٹی آکسیڈینٹس اور زندہ انزائمز موجود ہوتے ہیں جو انسانی جسم کی صحت کے لیے بہت ضروری سمجھتے جاتے ہین۔ یہ جوس انسانی جسم کے مدافعاتی نظام کو آج کے ماحول کے مطابق مضبوط کرتے ہیں۔ 42 دن کے علاج کے دوران تمام جوس اور سبزیاں مائع حالت میں استعمال کی جاتی ہیں۔ تمام سبزیاں خود اگا کر ان میں سے غیر ضروری اشیا کو نکال دینا ضروری ہے۔ سائنس کی تھیوری کے مطابق کینسر کے خلیے ٹھوس کھانے میں موجود پروٹین سے  ہی پنپتے ہیں۔ اس لیے اگر آپ کچھ نہیں پیتے  اور سبزیوں کے جوس اور چائے پر انحصار کرتے ہیں تو فوڈ پروٹین کی غیر موجودگی کی وجہ سے کینسر کے خلیے مر جاتے ہیں۔ بروس کے مطابق کینسر کے مریضوں کو جیو پاتھ سٹریس اور عام گھریلو ٹاکسن جن میں مچھر بھگانے کی دوائی، کیمفر، فلائی سپرے، نیفتھلین، ڈی ڈی ٹی، اور ٹائلٹ رم بلاک سے دور رہنا چاہیے۔ اپنی کتاب میں وہ لکھتے ہیں کہ جب کسی گھر میں اس طرح کے ٹاکسن موجود ہوں تو وہاں کسی بیماری سے نجات محال ہوتی ہے۔

ٹوٹل کنسر کئیر جوس  کا نسخہ

یہ جوس بیٹ روٹس، گاجر، سیلری، مولی، آلو وغیرہ سے بنتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انسان کو کچھ جڑی بوٹیوں کی چائے بھی جسم کی صفائی میں بہت مدد گار ثابت ہو تی ہے۔

اجزائے ترکیبی

ایک عدرچقندر

ایک عدد آرگینک گاجر

ایک عدد اجوائن  سٹک

نصف آلو

ایک عدد مولی

ہدایات

تمام سبزیاں ایک ہی بار جوسر میں ڈال دیں۔ جوس گلاس میں ڈالیں اور آہستہ آہستہ تھوڑا تھوڑا کر کے  پئیں۔ پیتے وقت گلاس کو ہلاتے رہیں تا کہ ٹاکسن اکٹھنے نہ ہوں۔ جیسے جیسے ٹیومر مرتے جائیں گے ٹاکسن نکلتے رہیں گے۔ جسم کے مختلف حصوں سے ٹاکسن کا اخراج ہو گا۔ جوس کی صفائی کی وجہ سے آنتیں  بے حس و حرکت رہیں گی اس لیے  صفائی کے اس عمل کو جاری رکھنے کے لیے عام استعمال کے اینیما کا استعمال بھی جاری رکھنا چاہیے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *