ہم خوش رہ سکتے ہیں

Afshan Huma

کیا ہی اچھا ہو اگر ہماری خوشی صرف ہم سے ہی وابستہ ہو۔۔ اگر زرا سا غور کیا جائے تو ایسا ہی ہے۔ لیکن ہم اپنی خوشی کو لوگوں  چیزوں اور واقعات سے جوڑ کر اس کے متلاشی ہو جاتے ہیں۔ ہم نے اپنی تمام تر خوشیاں خود ہی کہیں دفن کی ہوتی ہیں اور پھر ادھر ادھر ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔ ہماری تلاش ختم اس لیے نہیں ہو پاتی کیونکہ ہم اسے وہاں نہیں ڈھونڈتے جہاں ہم نے اسے رکھ چھوڑا ہوتا ہے۔ اگر ذہن پر ذرا سا زور ڈالیں تو آپ کو وہ وقت یاد آہی جائے گا جب آپ خوش رہتے تھے۔ میں نے اپنی زندگی کے ابتدائی 18 سالوں کو وہ وقت قرار دیا ہے جب میں صرف خوشی ہی سے واقف تھی۔ میرے نزدیک زندگی کا مقصد ہنسنا بولنا گانا کھانا پینا اور بھرپور خوشی کا اظہار کرنا تھا۔ میں اپنے ہم عمر، اپنے سے بڑے اور چھوٹے تمام افراد کے ساتھ بھرپور وقت گزارتی تھی۔ شادی بیاہ کے موقع پر مہندی لگانا، گھر سجانا اور گانا بجانا سب میری ذمہ داری پر چھوڑ دیا جاتا۔ اپنی بھابھیوں کی تمام تر شاپنگ بھی میں نے ہی کی اور یہ سب کرنے میں مجھے بے حد مزہ آتا۔ کسی کے آنسو مجھ سے برداشت نہ ہوتے اور لوگوں کے لبوں پر مسکراہٹ سجانے کے لیے میں تا حد کوشش کرتی۔ میں اپنی نانی اور دادی سے جان بوجھ کر لڈو میں ہارتی اور ان کی جیت میں اتنی خوشی محسوس کرتی کہ کبھی خود جیت کر بھی محسوس نہیں کی۔

وقت کے ساتھ ساتھ میں ایک باشعور عاقل بالغ خاتون کی شکل اختیار کرتی گئی۔ مجھے لوگ اچھے اور برے لگنے لگے۔ میں ان سے جیتنے کی کوشش کرنے لگی۔ مجھے لگتا تھا کہ جیت ہی میں اصل خوشی ہوتی ہے۔ میں نے زندگی کو ایک چیلنج سمجھ لیا۔ میں تعلیم اور ترقی کی راہوں پر گامزن ہو گئی۔ میں نے ایک کے بعد ایک ڈگری لی اور ایک کے بعد ایک مقام حاصل کیا۔ لیکن میں اکثر اکیلے میں سوچتی تھی کہ وہ کیا چیز ہے جس کی کمی ہے۔ میرے دوست احباب کہتے تھے شادی کر لو تو خوش رہو گی۔ زندگی مکمل ہو جائے گی۔ میں نے سوچا یہ بھی کر ڈالوں لیکن قسمت اچھی تھی اس لیے بچ گئی۔ ایک بار سوچا نئی گاڑی لی جائے تو وہ بھی کر لیا، پھر ملک سے باہر جانے اور مختلف ممالک دیکھنے کا شوق پال کر بھی دیکھ لیا۔ میں نے امریکہ میں قیام کے دوران بے حد اداسی کے عالم میں اپنی والدہ کو فون کیا تو انہوں نے مجھے بڑے آ رام سے سمجھایا کہ میں تنہا رہوں گی تو بہت اداس رہوں گی، میں لوگوں کی خوشی میں خوش رہتی ہوں۔ میں نے والدہ کی اس بات پر غور کیا تو مجھے لگا کہ وہ خوشی جو میں نے ہر جگہ تلاش کی وہ صرف اتنی سی حقیقت میں پنہاں تھی کہ مجھے خوشی تب ملتی ہے جب میرے آس پاس کے لوگ خوش ہوں۔ میں نے اس کے بعد بھر پور کوشش کی کہ میرے آس پاس کے تمام لوگ خوش ہوں اور میں کسی نہ کسی طرح ان کی خوشی کا حصہ بنوں۔ میں نے ان چند سالوں میں ایک بار پھر خود کو اور اپنی خوشی کو پا لیا۔

وطن واپس آنے پر میں ایک بار پھر زندگی کی بھیڑ میں خوشی کو بھول گئی۔ میں نے اپنے اندر پھر وہی سب مفادات،اوراغراض و مقاصد کو پنپتے ہوئے پایا۔ میں نے دیکھا ہے کہ ہمارے ارد گرد کا ماحول اکثر ہماری بصیرت کو کمزور کر دیتا ہے اور ہم خود کو بھی صحیح سے نہیں دیکھ پاتے۔ ہمیں اپنی ہی آواز سننے میں دشواری پیش آنے لگتی ہے۔ ہم لوگوں کو بظاہر خوش دیکھتے ہیں تو ایسی ہی خوشی کے متلاشی ہو جاتے ہیں ۔ ہمیں اندازہ نہیں ہوتا کہ ہماری خوشی کا فارمولا کسی اور کے پاس نہیں۔ ہماری خوشی صرف اور صرف ہم سے ہی منسوب ہوتی ہے۔ ہم خود کو لوگوں اور دنیا کے فارمولہ سے خوش کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور یہ نہیں سمجھ پاتے کہ ہم میں سے ہر ایک شخص ایک الگ کیمیاوی، طبعی، حیاتیاتی اور نفسیاتی فارمولا کا نتیجہ ہے۔ ہم خود کو جاننے پر وقت سرف نہیں کرتے البتہ ہم دنیا کو جاننے پر بہت محنت کرتے ہیں۔ لوگ کیسے خوش ہوتے ہیں اور ان کے غم کی کیا وجوہات ہیں یہ قطعی ہم پر صادر نہیں آتا۔ ہماری خوشی اورغم ہماری مخصوص ما حول میں ہونے والی پرورش ہے۔ ہم نے جن لمحات میں خوشی کو محسوس کیا ہوتا ہے اکثر ہم انہیں بہت پیچھے چھوڑ آتے ہیں اور دوبارہ ویسے حالات پیدا ہی نہیں کر پاتے۔ ہم نے جن لوگوں کے ساتھ بہترین وقت گزارا ہوتا ہے وہ ہم سے دور ہو جاتے ہیں اور ہم سوچتے ہیں کہ بس اب تو ان کی یادیں ہی ہمارا اثاثہ ہونگی۔ یادیں بھی آہستہ آہستہ اداسی کا سبب بننے لگتی ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ گزرے ہوئے حالات ، ملاقاتوں اور لوگوں میں سے جو اب بھی موجود ہے وہ میں ہوں اور میری خوشی میرے ہونے میں ہے۔ میں اب بھی اپنے آس پاس کے لوگوں چیزوں اور واقعات سے خوشی حاصل کر سکتی ہوں اگر میں ویسی ہی رہوں جیسی کہ میں ہوں۔۔۔ اللہ آپ سب کو بھی خوش رہنے کی توفیق دے اور خوشیاں بانٹنے کی بھی۔۔۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *