سماجی مساوات اور جمہوریت

انجم نیازAnjum Niaz


کراچی سے اسلام آباد جانے والے پی آئی اے کے طیارے ، جس میں انتظار کی کوفت برادشت کرتے کرتے مسافروں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا، میں رحمان ملک کو سوار ہونے سے روکنے کی ویڈیو اتنی پرلطف ہے کہ آدمی اسے دیکھتے ہوئے قہقہے لگائے بغیر نہیں رہ سکتا۔ لوگوں کو یہ دیکھ کر ایک طرح کی نفسیاتی تسکین ہوئی کہ ایک جہاندیدہ گھاگ سیاست دان کو عام شہریوں نے جہاز میں سوار ہونے سے اس لیے روک دیا کہ وہ سمجھتے تھے کہ جہاز کی پرواز میں ہونے والی تاخیر کی ذمہ داری مسٹر ملک پر عائد ہوتی ہے۔ رحمان ملک خود کو کیا سمجھتے ہیں؟ درحقیقت کسی کو اس بات کا حق نہیں ہے کہ وہ ٹیکس دھندگان کے خرچے پر خود کو کچھ سمجھے۔
مسٹر رحمان ملک یقینی طور پر کوئی جاگیر دار نہیں اور نہ ہی ان کا تعلق کسی استحقاق زدہ خاندان سے ہے، لیکن حکومتی پارٹی کے اہم ترین رہنماہونے کی حیثیت سے سابق دور میں اُنھوں نے وی آئی پی کلچر کے مزے لوٹے۔ چنانچہ عوام نے اس کا حساب چکانے کی ایک ادنیٰ سی کوشش کی۔ یادرہے کہ اعلیٰ ترین کوششیں بھی دیکھنے میں آسکتی ہیں۔ اس واقعے سے سیکھنے والا پہلا سبق یہ ہے کہ جب بھی آپ پر اقتدار کی دیوی مہربان ہو تو اپنے ان دنوں کو ضرور یادرکھیں جب یہ اقتدار نہیں ہوگا اور آپ عام شہری بن کر اس وطن میں رہیں گے۔ دوسری طرف Gerry\'s Group نے بھی افسوس ناک حرکت کرتے ہوئے اُس شخص ، ارجمند حسین، کو ملازمت سے نکال دیا جس نے رحمان ملک والے واقعے کی فلم بنائی تھی۔ اس بہادر شخص کی ’’قومی خدمت ‘‘ کو سراہنے کی بجائے اُسے سزا دی گئی۔ اگر وہ ارجمند حسین اس واقعے کی فلم نہ بناتے تو باقی پاکستان کو ہر گز پتہ نہ چلتا کہ کس طرح تاخیر سے آنے پر رحمان ملک اور حکمران جماعت کے رمیش کمار کومسافروں نے طیار ے میں نہیں بیٹھنے دیا۔ یہ وی آئی پی کلچر کے خلاف عوامی مزاحمت کا ایک واقعہ تھا ۔ آنے والے دنوں میں ایسے مزید واقعات پیش آنے کی بھی توقع ہے... ان کی فلم بن سکے گی یا نہیں، شاید اب اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
ارجمند حسین قوم کے ایک دلیر سپوت نکلے۔سوشل میڈیا پر قوم نے Gerry\'s Group کو خوب آڑھے ہاتھوں لیا۔ اگرچہ اس فرم کی طرف سے کہا گیا کہ مسٹر حسین ایک نئے ملازم تھے اور فرم ان کی کاردگی سے مطمئن نہیں تھی۔ چنانچہ یہ محض اتفاق تھا کہ فلم بنانے کا واقعہ پیش آیا اور ان کو ملازمت سے سبکدوش کرنے کا ایک بہانہ بن گیا۔ خدامعلوم یہ بات درست ہے یا غلط لیکن قوم نے یہی دیکھا کہ انہیں فلم بنانے کے واقعے کے بعد ملازمت سے نکالا گیا۔ اس لیے سوشل میڈیا پر ان کے لیے قابلِ قدر جذبات موجود ہیں۔ہمارے وزرا، سفارت کاروں اور ارکانِ پارلیمنٹ کے حوالے سے ایک اور ویڈیو بھی گردش میں ہے۔ تاہم اس کے بنانے والے کو برطرف نہیں کیا جاسکتا کیونکہ وہ کینیڈا میں ٹیکسی سروس مہیا کرنے والی ایک کمپنی چلارہا ہے۔ وہ خود بھی ٹیکسی چلاتا ہے۔ ویڈیو میں ایک پاکستانی نژاد کینیڈا کا باشندہ تقریباً روتے ہوئے کہتا ہے کہ کینیڈا امیر ترین ممالک میں سے ایک ہے لیکن یہاں کے وزراء عام گاڑیوں، اور کبھی کبھار ٹیکسیوں میں بھی سفر کرتے ہیں جبکہ پاکستانی وزرا بیرونی ممالک میں لیموزن سے کم کا انتخاب نہیں کرتے۔ وہ کہتا ہے کہ اس وی آئی پی کلچر نے ملک کو برباد کردیا ہے۔ ویڈیو کے آخر میں وہ خدا سے دعا کرتا ہے کہ پاکستان کے غریب عوام کواس وی آئی پی کلچر سے نجات دلا دے۔
وقت آگیا ہے جب حکومت، اس کے حواری اور چمچے سر جوڑ کر بیٹھیں اور عوام کے دل میں پلنے والی اُس نفرت کا جائزہ لیں جو دھیرے دھیرے آتشیں آلاؤ کار وپ دھار رہی ہے۔ ناپسندیدہ نعرے تو اس کا ادنیٰ سا اظہار ہیں۔اُنہیں فی الفور اس بات کا احساس ہوجانا چاہیے کہ اب ان کا طرزِ عمل برداشت نہیں کیا جائے گا کہ لوگ غربت کی دلدل میں دھنستے چلے جائیں اور وہ شہزادوں کی طرح زندگی بسر کریں۔جمہوری حکمرانوں کے لیے صرف انتخات جیتنا ہی نہیں، جمہوری دکھائی دینا بھی ضروری ہے۔ سب سے پہلے وہ پی آئی اے سے وی آئی پی کلچر کا خاتمہ کریں۔ اس میں رحمان ملک سوار ہونے کے لیے آئیں یا کوئی اور، عام مسافروں کی طرح برتاؤ کیا جائے۔عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے سب سے پہلے برطرف شدہ ارجمند حسین کو ملازمت دی جائے۔ حکومت کواپنے گھر سے شفافیت کا عمل شروع کرنا ہوگا تاکہ دیکھا جاسکے کہ ملازمتیں کس طرح دی جارہی ہیں۔ جب بھی ملازمتوں سے پابندی اٹھتی ہے، اربوں روپے ادھر سے اُدھر ہوجاتے ہیں۔
ملک میں احتساب کی غیر جانبدارانہ روایت کی ضرورت ہے۔ اس میں سول اور حساس اداروں، دونوں کا احتساب ہونا چاہیے۔ ہمارے بہت سے دفاعی اداروں اور حساس مقامات پر طالبان نے حملے کیے اور بعض اوقات’’ اندر سے روابط ‘‘ کی باز گشت سنائی دی، لیکن ذمہ داروں کو سزا نہیں ہوئی۔ عوام کو پتہ تو چلے کہ کوتاہی کی پاداش میں کسی کی ملازمت گئی ، کسی کے خلاف تادیبی کارروائی ہوئی... فلم بنانا تو بہت کم درجے کا جرم تھا۔ اس وقت ملک کی فضا اس طرف جارہی ہے کہ اسٹبلشمنٹ کو اپنے طرزِ عمل پر نظرِ ثانی پر مجبور ہونا پڑے گا۔سولین حکومت کا ووٹ سے احتساب تو بعد (کچھ کہتے ہیں جلد) میں ہوگا، فی الحال یہ ناپسندیدہ نعروں کی زد میں آئی ہوئی ہے۔
امریکہ میں سیکریٹ سروس میں اعلیٰ ترین عہدے پر کام کرنے والی ایک خاتون کواپنے فرائض میں کوتاہی برتنے کی پاداش میں استعفا دینا پڑاکیونکہ اس معاشرے کی یہی روایت ہے۔ وہ جمہوریت کے امین ہونے کے باجود ہر بات کو سیاسی رنگ نہیں دیتے۔ کوتاہی کی سز ا لازمی ملے گی اور جتنا بڑا عہدہ ہوتا، جانچ کا معیار اتناہی سخت ۔ کانگرس کے رکن مسٹر کمنگز (Cummings) نے کہا کہ وہ مس جولیا کے کام سے مطمئن نہیں کیونکہ ایک وائٹ ہاؤس کے سامنے والے کھلے دروازے سے چاقو سے مسلح ایک شخص باڑپھلانگ کر داخل ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ ایک اور رکن کا کہنا تھا کہ یا تو مس جولیا خود مستفعی ہوجائیں یا صدر اُنہیں نکال دیں۔ اگلے ہی مس جولیا نے وہی کچھ کیا جس کی ایک جمہوری ملک میں توقع کی جاتی ہے۔ الزامات اور سیاسی وابستگیوں کا اظہار کیے بغیر ذمہ داری قبول کریں اورگھر جائیں ، یا سنگین معاملے میں سزا بھی بھگتنے کے لیے تیار رہیں۔ جمہوریت کی گاڑی اسی طرح چلتی ہے۔
جی چاہتا ہے کہ ایک سو اسی ملین افراد کی قوم ، پاکستان بھی یہ سبق سیکھے۔ اگر حکمران خود آمادہ نہ ہوں تو لوگ آگے بڑھ کر اُن سے انصاف، شفافیت اور وی آئی پی کلچر کے خاتمے کا تقاضا کریں ۔ اس کے لیے معذرت خواہانہ لہجہ اپنانے کی ضرورت نہیں۔ نہ کمزور رویوں جمہوریت بحال ہوتی ہے اور نہ ہی قائم رہتی ہے۔ اس وقت پاکستان کا عام آدمی ڈاکٹر قادری یا عمران خان کو اس لیے پسند نہیں کرتا کہ ان کے پاس کوئی بہت بڑے انقلابی معاشی پروگرام ہیں، یا یہ کشمیر آزاد کرانے(علامتی طور پر) کی باتیں کررہے ہیں۔ ان کی مقبولیت کی وجہ صرف ان کی طرف سے وی آئی پی کلچر کے خاتمے کی بات ہے۔ حکمران یاد رکھیں کہ اس مطالبے کا مقابلہ وہ سڑکیں، پل ، معاشی منصوبے بنا کر نہیں کرسکتے کیونکہ اس وقت قومی نعرہ تعمیرات اور ترقی نہیں ، سماجی مساوات ہے۔ یہ بات اسلام آباد اور لاہور کو جتنی جلد ی سمجھ آجائے اتنا ہی بہتر ہوگا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *