سیاسی شعور سے ذہنی امراض تک

Afshan Huma

وہ ایک درمیانے طبقہ کے گھر میں پیدا ہوا۔ اس کی بچپن کی تربیت اس قدر نفیس تھی کہ پوری طرح زمین پر نہ بیٹھتا تھا تا کہ کپڑے گندے نہ ہو جائیں۔ سکول کے دس سال تک کوئی اور بچہ اس سے اول پوزیشن نہ لے پایا۔ والدہ نے اس کے رپورٹ کارڈ سالہا سال سنبھال کر رکھے۔ ٹین ایج میں جب بچے لا پرواہی کی مثال ہوا کرتے ہیں، اس کی قمیض پرتمام دن گزرنے کے بعد بھی شکن تک نہ پڑتے تھے ۔ اس کے اتارے ہوئے کپڑے اور دھوبی سے دھل کر آئے ہوئے کپڑوں میں فرق نظر نہ آتا تھا۔ اس کے آس پاس کے لڑکے اس سے رہنا سہنا اور سٹائل سیکھنے لگے تھے۔ لوگ اس کی دیکھا دیکھی کلف والے سفید سوٹ اور واسکٹ کی طرف راغب ہو رہے تھے۔ اللہ نے قد کاٹھ ایسا دیا کہ ایف ایس سی میں ہی بیس بائیس سال کا لگنے لگا۔۔۔اور مزید بیس سال کے اندر اندر میں نے اسے ایک کمرے میں نشے کی حالت میں دھت پایا۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا اور اسے کچھ سجھائی نہ دیتا تھا۔ اپنے بھی ہوش نہ تھی اور ڈیپریشن کا یہ عالم تھا کہ کہتا تھا بس مجھے مر جانے دو۔۔۔ آخر ایک ایسے سلجھے ہوئے انسان کی زندگی میں ایسا کیا بھونچال آیا جس نے اسے اس نہج پر پہنچا دیا

آجکل اس تمام تر سیاسی ماھول کو دیکھ کر مجھے اس جوان کی کہانی یاد آ گئی ۔۔۔ایف ایس سی کے زمانے میں ہی اس کے کالج میں سٹوڈنٹ یونین کو آزادی ملی تھی۔ وہ صبح صبح اٹھ کر تیار ہوا اور ناشتے کی میز پر آیا تو والدہ نے پوچھا یہ بیج کیسا ہے تمہاری جیب پر۔ جواب آیا یہ ہماری سٹوڈنٹ یونین ہے۔ والدہ کا تو سانس ہی خشک ہو گیا، والد صاحب کا کہنا تھا کہ کوئی مسئلہ نہیں ، یہ نوجوان اسی طرح سیاسی شعور حاصل کریں گے۔ لہذا والد کی حوصلہ افزائی ملتی رہی اور وہ آہستہ آہستہ سیاسی پارٹی کے قریب ہوتا گیا۔ پھر ایک روز اس کی الماری سے پستول براآمد ہوا اور سگریٹ کی ڈبی بھی۔ والدہ کو اپنے بچے کی تباہی نظر آ رہی تھی انہوں نے واویلہ کیا تو وہ مکر گیا کہ یہ دونوں چیزیں اس کے دوست کی ہیں۔ والد نے پھر پردہ ڈالا اور کہا اس کے ساتھ کل سیاسی پارٹی کے کچھ لوگ آئے تھے وہ یہاں اپنی چیزیں چھوڑ گئے۔ کچھ ہی عرصے میں تمام پردے فاش ہو گئے اور یہ انکشاف ہوا کہ اب وہ ایک سیاسی پارٹی کا آلہء کار بن چکا تھا۔ والدہ کو اپنے بچے کے کے بہترین دور میں جب وہ علم و فن میں مہارت حاصل کر سکتا تھا، ہر کچھ روز بعد ایک نیا دھچکا لگتا۔ کالج بھی چھوٹا اور پھروہ انتہائی معمولی گریڈ میں بی اے کر کے ایک سرکاری دفتر میں بھرتی ہو گیا۔

خاندان بھر کے خواب ٹوٹتے ٹوٹتے بچ گئے، سرکاری دفتر میں یکے بعد دیگرے ترقی ملتی رہی تو سب نے سوچا کہ ذہانت رنگ لائی ہے۔ لیکن ماں جانتی تھی ایسا کچھ نہیں۔ گھر میں پیسے کی ریل پیل ہوتی گئی لیکن یہ سب کچھ کہاں سے آتا تھا یہ معلوم کرنا ناممکن تھا۔ معلوم تو تب پڑا جب اسی سیاسی پارٹی کا ایک کارکن دو نمبری میں پکڑا گیا اور یہاں ان کو اپنی رقم ڈوب جانے کا غم لاحق ہوا۔ والدہ نے بہت سمجھایا کہ حرام کا پیسہ تھا جانے دو مگر کیسے جانے دیتا۔ اس کے سیاسی لیڈران نے تو یہی سکھایا تھا کہ اسلحہ کی طاقت اور حرام کی دولت ہی سے دنیا رام کی جاتی ہے۔ ان کی اپنی اولادیں تو دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں تعلیم پا رہی تھی اور اس جیسے کتنے مائوں کے لعل ان کے ہاتھوں تباہ ہو رہے تھے۔ نظام کے خلاف نفرت، معاشرے کے خلاف نفرت، دوسری پارٹیوں کے خلاف نفرت اور ہر اس شخص کے خلاف نفرت ان جوانوں کے دل میں بھر دی گئی تھی جو اس سیاسی پارٹی کا ساتھ نہ دے۔ بات بات پر گولیاں چلا دینا اور مار کٹائی معمولی باتیں تھی۔ اب والد صاحب کو سجھائی نہ دیتا تھا کہ وہ دن واپس کیسے آئیں جب بچے کی پہلی غلط حرکت کی پردہ پوشی کی تھی۔ سیاسی شعور کا تو پتہ نہیں لیکن ایک ذہین بلکہ فطین بچہ کو میں نے خود سیاست کی بھینٹ چڑھتے دیکھا ہے، آج وہ ایک ذہنی مریض ہے، ماں کی سکھائی ہوئی اچھائی اور برائی کی تمیز اور سیاست کے سکھائے ہوئے غیر اخلاقی اور غیر انسانی رویوں نے اس کو ایک ذہنی انتشار میں مبتلا کر دیا، آج وہ اپنے ہی بارے میں فیصلہ نہیں کر پاتا کہ اس کی زندگی کا کونسا رخ صحیح تھا۔۔۔ آپ انصاف لینے جائیں یا شہد کی بوتلیں لینے، خدا را ہماری نئی نسلوں کی تباہی بند کریں۔۔۔اس ملک کے مستقبل کو آپ سے نہیں ان بچوں کی ذہانت اور محنت ہی سے ترقی کی راہ پر ڈالا جا سکتا ہے۔۔۔!!!

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *