ابھی سفر باقی ہے

Muhammad Asif

یہ درست ہے کہ تحریکِ انصاف نے بالآخر حکومت کو سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہونے پر مجبور کر لیاہے. مگر زیادہ خوش فہمی اچھی نہیں ہے.کل کو فرض کیجیے کہ نواز شریف کو کلین چِٹ مل گئی تو سارا کچھ یدھرا یہیں رہ جائیگا. اس لیے غیرجانبدار رہیں اور سپریم کورٹ کواپنا کام کرنےدیں..اپنے صوبے پر توجہ دیں اوراگلے الیکشن کی تیاری کریں.آپکے صوبےمیں ابھی اتنی جان نہیں آئی کہ وہاں سے دوبارہ کامیابی حاصل کی جاسکے.یاد رہے خیبرپختونخواہ میں جس کی حکومت ایک بارآئی اسے دوبارہ شاید موقع نہیں مل سکا کیوں کہ وہ لوگ ایک معیار رکھتےہیں.
نوازشریف کو الیکشن میں شکست دینا مشکل ہی نہیں فی الحال ناممکن بھی ہے. اور ایک نوازشریف چھوڑیں انکے پیچھے انکا پورا خاندان کھڑا ہے وہ جسے بھی آگےلائیں گے ان کی پارٹی اسے قبول کریگی.کیوں کہ زات پات اور برادری سسٹم کو کیسے استعمال کرنا ہے نون لیگ سے بہتر کوئی نہیں جانتا.  ایسے میں اب فی الحال مزید کوئی معرکہ نہیں ہونا چاپیے.اور فوکس2018 کا الیکشن ہی بنتا ہے. قوم کی طرف توجہ دیجیے ان کی فلاح و بہبود کی طرف آئیے. صحت تعلیم انفراسڑکچر ابھی کوئی بھی ایسا منصوبہ نہیں جس پر عمران خان کی حکومت تسلی بخش جواب دے سکے. سڑکیں موٹرویز یہ سارے پلان جو کچھ عرصے پہلے شروع کیےگٰئے کسی حد تک نون لیگ کو دیکھ کر ہی کئے گئے ورنہ عمران خان صاحب کئی بار یہ اظہار چکے ہیں کہ سڑکیں اور موٹرویز بنانے سے تبدیلی نہیں آتی.تعلیم کا محکمہ ہنوز توجہ طلب ہے. دہشتگردی اور سیکیورٹی مسائل ہر چھے یا آٹھ مہینے بعد سامنےآکھڑے ہوتےہیں.
دوسری طرف نون لیگ کی بوکھلاہٹ عروج پر ہے. نون لیگ کامیڈیا سیل اس بات کی کئی بار مشہوری کر چکا ہے کہ ہم نے اپریل میں چیف جسٹس کو درخواست بھیج دی ہوئی تھی کہ ہم ٹرائل کے لیے تیار ہیں مگر عوام الناس سے یہ جھوٹ چھپایا گیا کہ تب جس قانون کے مطابق کیس چلنا تھا وہ سپریم کورٹ آزادانہ نہیں کر سکتی تھی. معروف تجزیہ نگار اوریاء مقبول جان نے حکومت کے اس پروپگینڈا کا جواب بھرپور انداز میں دیا کہ کمیشن تو ہم بھی بنانے کیلئے کہا تھاـ
1- میاں نواز شریف  نے جو کمیشن بنانے کیلئے کہا تھا وہ 1956 کے تحت تھا، اس کے دانت ہی نہیں تھے، وہ وزیراعظم کے نیچے تھا، اس کی رپورٹ ایوان وزیراعظم کو ارسال کی جاتی اور جج کسی کمیشن کو بنانے کے مجاز نہیں تھے۔
2- جو کمیشن اب بنا ہے یہ 183/3 کے تحت بنے گا، اس کے اندر سپریم کورٹ مکمل طور پر کمیشن کی ذمہ دار ہے۔ اس میں وہ سپریم کورٹ کمیشن بنا کر اپنے نیچے تحقیقاتی کمیٹی بھی بنا سکتا ہے، اور کسی کو طلب بھی کر سکتا ہے۔یہ تھی وہ خفیہ کُنڈی جو لگائی گئی مگر عوام کے سامنے یہی ظاہر کیا گیا کہ ہم پہلے سے کمیشن بنانے کے حق میں تھے.
پچھلے چار پانچ دن میں حکومت نے میڈیا میں ایک خاص قسم کا تاثر پیش کرنے کی کوشش کی ہے کہ جیسے ٹرائل شاید بس نوازشریف کا ہی ہونا ہے. اس سلسلے میں نون لیگ میڈیا سیل نے ایک پلان کےتحت کچھ تھرڈ کلاس قسم کے صحافی عمران خان کے جلسے کی کوریج کے لیے بھیجے. جو وہاں جاکر اس بات پر طنزاور مضحکہ خیز انداز میں دس لاکھ لوگوں کے آنے کی بات کومزے لے لے کر بیان کرتے رہے. آپ میں سےاگر کسی کو وہ وڈیو دیکھنے کا موقع ملے تو آپ دیکھیے گا کہ پانچ سے چھےکروڑ روپے نون لیگ میڈیا سیل نے جس طرح کے تھرڈ کلاس لوگوں پر لگائے ہیں انکی حیثیت پچاس روپوں جتنی بھی نہ تھی. حکومت کی بوکھلاہٹ اور اس بوکھلاہٹ میں ان کی طرف سے غلطیاں اس بات کی طرف اشارہ تھیں کہ فی الحال ان کو کچھ مناسب نہیں سوجھ رہا.
وقتِ تحریر بس یہی ہے کہ شریف فیملی اخبارات اورمختلف ٹی وی پروگرامز میں اپنے مختلف موقعوں پر مختلف بیانات کی وجہ سے گھیرے میں ہے. یہ گھیرا تنگ بھی ہوسکتا ہےاور کسی معجزے کی صورت میں سب گھیرے ختم بھی ہوسکتےہیں. ایسے میں تحریکِ انصاف کو چوٹ کرنےکے لیے کوئی راستہ نہ بچے گا.

loading...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *