سکندراعظم اورسرجیکل اسٹرائیک

ausaf-sheikh

کالم لکھتے ہوئے میرے ذہن میں صرف وہ ایشو ہوتا ہے جس پر کالم لکھنا ہو میں نے کبھی کالم کاعنوان پہلے نہیں لکھا ، بس کالم لکھنے کے بعد جو مناسب لگا لکھ دیا اس پر میں نے کبھی خاص توجہ نہیں دی کہ عنوان ایسا بھٹکتا ہوا ہو کہ لوگ پڑھنے پر مجبور ہو جائے ۔ عموماََ ایسا ہوتا ہے کہ عنوان بھڑکتا ہوا لیکن اندر بھس بھرا ہوتا ہے ،لیکن آج کاکالم ایک عنوان کے تحت ہی لکھنے بیٹھا تو میرے ضمیر نے اجازت نہیں دی کہ میں وہی عنوان لکھو جو میرے ذہن میں ہے ۔۔۔۔۔ عنوان تو یہ تھا "بے نظیر بھٹو اور مریم نواز"لیکن میں نہیں لکھ سکا اور اس کا عنوان بدل کر وہ رکھ دیا جو آپ پڑھ رہے ہیں ۔ گو عنوان کا براہ راست تعلق کالم کے مندر جات سے نہیں لیکن میں لکھ وہی رہا ہوں جو میں لکھنا چاہتا تھا۔
یوں تو پاکستان میں کچھ بھی ہو سکتاہے یہاں بس زیاد ہ تر داؤ لگتے ہیں جسے پنجابی میں "دا لگنا"کہتے ہیں اور اس کے علاوہ اور بھی بے ہودہ مثالیں موجود ہیں جو ظاہر ہے یہاں نہیں لکھی جا سکتی ۔۔۔۔ دیکھیں نا پاکستان بنانے والے ۔ پاکستان بنانے کی تحریک چلانے والے اور وہ عظیم رہنما جنہوں نے برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کے لیے الگ وطن پاکستان کے حصول کے لیے جد وجہد کی بے شک قربانیاں عوام نے ہی دیں لیکن جب تک عوام کو مخلص، سچا، اہل اور نڈر رہنما نہیں ملتا قومیں اپنے مقصد کے حصول میں کامیاب نہیں ہو سکتیں ۔۔۔۔ قیام پاکستان کے بعد اس ملک پر حکمرانی کرنے والوں اور اصل رہنماؤں میں زمین آسمان کے فرق سے قوم بخوبی آگاہ ہے ۔ قائداعظم کی موت ، کراچی کی ایک سٹر ک پر ان کی ایمبولینس کا خراب ہو کر کھڑے رہنا ، لیاقت علی خاں کا قتل اور اس قتل کے شواہد ختم کر دینا ، محترمہ فاطمہ جناح کی ایوب خاں کے ہاتھوں شکست اور بعد ازاں مشکوک حالت میں موت ، ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کو مارشل لاء کے ذریعے ختم کر کے انہیں قتل کے ایک مقدمہ میں متنازعہ فیصلہ کے تحت دفعہ 109میں پھانسی دینا ، محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید کرنا اور 9سال گزر جانے کے باوجود اس سے پردہ نہ اٹھنا حالانکہ ان کی شہادت کے فوراََ بعد انہی کی پارٹی نے پانچ سال اقتدار کیا ۔
بات یہ ہے جو بہت کڑوی ہے ۔ وہی جیسی اوپر پنجا بی میں مثال دی ۔ زیادہ حکومت ان لوگوں نے کی جو اس کے اہل نہیں تھے یا نہیں ہیں ۔ غلام محمد ، اسکندر مرزا ، مراز محمد علی، ایوب خاں کا دس سالہ دور ، یحییٰ خان کا دو سالہ دور، ضیاء الحق کا 11سالہ دور اس کے بعد بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی حکومتوں کی مدعت پوری نہ ہونا پھر مارشل لاء کا 8سالہ دور پھر محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پی پی پی کا پانچ سالہ نا کام ترین دور جو اپنی ہی قائد کے قتل سے پردہ نہ اٹھا سکی۔ اس کے بعد مسلم لیگ ن کے حکومت بنائی تو پی پی پی ، تحریک انصاف سمیت 22سیاسی جماعتوں دھاندلی کا الزام لگایا ۔ ن لیگ نے سارا مینڈیٹ صرف پنجا ب سے ہی حاصل کیا یا اُسے دلوایا گیا ۔ الزام لگانے والی 22سیاسی جماعتیں جب کہ احتجاج کرنے والی صر ف ایک جماعت تحریک انصاف جس نے ثابت کیا کہ انتخابات میں دھاندلی ہو ئی ،پانامہ لیکس ، سیکورٹی اجلاس کی خبر کے لیک ہونے پر وہ آج بھی احتجا ج کر رہی ہے ۔ ماڈل ٹاؤن میں پاکستان عوامی تحریک کے 14کارکنوں کا قتل بھی ان کا کارنامہ ہے ۔
پانامالیکس پر اپوزیشن نے مشترکہ ٹی او آرز بنائے اور حکومت سے تحقیات کا مطالبہ کیا ۔ لیکن کھربو ں روپے لوٹنے والی حکومت اس پر عمل کرنے سے گریزاں ہے ۔ بلآخر عمران خان پھر احتجاج اور دھرنے کے لیے اسلام آباد پہنچے جہاں  حکومت نے سیاسی تدبر کا مظاہرہ کرنے کی بجائے عوام پر تشدد کرنے کو ترجیح دی۔ ۔۔ ۔ سیکورٹی اجلاس کی خبر لیک ہونے پر پاک فوج کو بھی شدید تحفظات ہیں حکومت نے اپنے وزیر اطلاعات سے وزارت واپس لے لی لیکن بات اتنی آسان نہیں کہ وزیر اطلاعات سے استعفیٰ لینے پر ختم ہو جائے ۔ بات تو اجلاس کے اندر کے بندوں کی ہے جہاں سے خبر لیک ہو ئی اور اس کے اشارے وزیر اعظم ہاؤس تک جا رہے ہیں ۔ ۔۔۔ خبر لیک ہونے اور غلط انداز میں پیش کر کے پاک فوج کو بد نا م کرنے میں وزیرا عظم کی صاحبزادی کا تذکرہ عام ہے ۔ وزیراعظم اپنی پارٹی کے انتخابات میں بھی اپنی بیٹی کو مسلم لیگ ن کی صدر بنانا چاہتے تھے لیکن ان کے خاندا ن کے اند ر سے ہی مخالفت ہوئی وزیراعظم اپنی بیٹی کو آئندہ وزیراعظم دیکھنا چاہتے ہیں اس کی مخالفت بھی ان کے خاندان کے اندر سے موجود ہے وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھ کر وہ شاید تجربہ بھی حاصل کر رہی ہیں اور وزیرا عظم کی بیماری کے دنوں میں تو وہ تقریباََ وزارت عظمیٰ کرتی رہی ہیں حالانکہ ان کی ساری سیاست صرف ٹوئیٹر تک محدد ہے ۔۔۔۔۔ کچھ مسلم لیگی دوست کہتے ہیں کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی طرح وہ بھی لیڈر ہیں اور بن رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔ نہیں جناب ۔۔۔۔۔ ۔ بہت فرق ہے ، جب ضیاء نے بھٹو کی حکومت ختم کی تو بے نظیر بھٹو اپنی تعلیم مکمل کر کے چند روز قبل ہی واپس آئی تھیں اور اس دن سے شہادت کے دن تک وہ مسلسل آزمائشوں میں رہیں اور متحرک رہیں ۔ جوان بھائیوں کی لاشیں اٹھائیں ، قید وبند کی صعوبتیں برداشت کی ، جلاوطن رہیں لیکن اپنی پارٹی اپنے کارکنوں اور پاکستانی عوام کے لیے ایک حوصلہ بن کر رہیں ۔ دو بار وزیراعظم بنی دونوں بار ان کی حکومت سازش کے تحت وقت سے پہلے ختم کر دی گئی بلآخر انہیں شہید کر دیا گیا نا صرف پی پی پی بلکہ پاکستان اور تیسری دنیا ایک عظیم رہنما سے محروم ہو گئی ان کے بعد پی پی پی کا حشر سب کے سامنے ہے اب وہ ضمنی انتخابات میں کہیں سے چار اور کہیں سے دو ہزار روٹ حاصل کر رہی ہے ۔ ۔۔۔۔ محترمہ مریم نواز کا مقابلہ محترمہ بے نظیر بھٹو سے کرنے والے وہی لوگ ہیں جو "داؤ لگنے "کے قائل او رمنتظر ہیں ۔ ورنہ ان دونوں کے درمیان ابھی اتنا ہی فرق ہے جتنا اسکندر اعظم اور بھارتی سرجیکل اسٹرائیک میں ہے ۔ اسکندار اعظم نے آدھی سے زائد دنیا فتح کی جب کہ بھارت بار بار سرجیکل پاکستان میں سرجیکل اسٹرائیک کا دعویٰ کرتا ہے لیکن اس کے پاس اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔

loading...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *